شاہ پورکنڈی ڈیم کا منصوبہ

ہندوستان نے پاکستان کا پانی روکنے کے ایک اور قاتل منصوبے کی منظوری دیدی ہے شاہ پور کنڈی ڈیم مقبوضہ کشمیر سے پنجاب آنے والے دریائے راوی پر بنے گا ،ڈیم کی تعمیر میں ہندوستانی پنجاب کی حکومت سرمایہ کاری کرے گی ڈیم سے مقبوضہ کشمیر میں 20فیصد بجلی ملے گی مذکورہ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ ستمبر میں ہندوستانی انڈس واٹر کمشنر کے دورہ پاکستان کے بعد کیا گیا تھا لیکن ہندوستانی کابینہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں کیا گیا ۔
ہندوستان کا شاہ پورکنڈی ڈیم کی صورت میں مزید ایک اور ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ قابل مذمت ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ شاہ کنڈی ڈیم مقبوضہ کشمیر سے پنجاب آنے والے دریائے راوی پر بنے گا تو اس سے پاکستان آنے والے پانی کی کمی ہوگی اس سے قبل بھی ہندوستان اس طرح کے متنازعہ ڈیم جن میں کشن گنگا ڈیم بھی شامل ہے تعمیر کرنے کی منظوری دی اور اس کا مقدمہ بھی عالمی عدالت میں زیر سماعت رہا۔حالانکہ ہندوستان نے اس ڈیم کی تعمیر بھی سند ھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور اپنے اس کام کو قانونی قرار دیدیا۔ اب اسکے بعد اس نے پاکستان کا پانی روکنے کے ایک اور مذکورہ منصوبے شاہ پورکنڈی ڈیم کی تعمیر کی منظوری دیدی جو یقینا پاکستان کےساتھ ایک بہت بڑی زیادتی کے مترادف ہے کیونکہ پاکستان میں پہلے سے پانی کی شدید کمی ہے لیکن اس کے باوجود ہندوستان ڈیم بنائے جارہا ہے اس سے اس کی پاکستان سے دشمنی کھل کرسامنے آگئی ہے ۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے کچھ عرصہ قبل ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان کا سارا پانی روک کر اس کی زمینوں کو بنجر کردینگے کیونکہ مقبوضہ کشمیر سے پاکستان جانے والے پانی پر پورا حق صرف ہندوستانی کا شتکار ہے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے مذکورہ بیان کے بعد ہندوستان نے متعدد بار ڈیمز بنانے کی منظوری دی ہے پاکستان سے دشمنی کی واضح مثال ہے ہندوستان ایسا کوئی بھی موقع سے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جس میں کسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہوں ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان کو اس سلسلے میں اپنی پالیسیوں کو یکسر تبدیل کرنا چاہےے اور اسے پاکستان کے ساتھ ایک اچھا ہمسایہ بن کر رہنا چاہےے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعات جن میں کشمیر سب سے بڑا تنازعہ ہے کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہےے کیونکہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ تمام مسائل کا حل صرف بات چیت میں ہی مضمر ہے پاکستان نے ہندوستان سے تعلقات کی بہتری کےلئے ہمیشہ پہل کی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہندوستان نے ہمیشہ اس سے راہ فرار اختیار کی جو اس کی ناکام پالیسی کا شاخسانہ ہے جس کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کےلئے ناگزیر ہے جسے ہندوستان کو ہر حال میں کرنا چاہےے تاکہ خطے میں امن واستحکام کی فضا پیدا کی جاسکے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*