سی پیک میں بلوچستان کا کوئی عوامی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا،جام کمال

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(نیوز ایجنسی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ سی پیک میں بلوچستان کا کوئی عوامی منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ماضی کی حکومتوں سے اس کا حساب لیا جانا چاہیے بلوچستان میں قحط سالی کی صورتحال سنگین ہے ، وفاق سے بھی مدد طلب کرلی ہے۔یہ ب ات انہوں نے پیر کو سول ہسپتال کوئٹہ میں انسداد پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صوبائی وزیر صحت میر نصیب اللہ مری ،ایم سول ہسپتال سلیم ابڑو ،ڈی ایم ایس نصیب اللہ موسیٰ خیل بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سول ہسپتال کوئٹہ میں انسداد پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سالوں کے دوران سی پیک میں بیس ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوئے مگر بلوچستان کا کوئی عوامی منصوبہ شامل نہیں کرایا۔جام کمال خان نے کہا کہ اب جو جی سی سی ہونے جارہا ہے اس میں بلوچستان کو ہر سہولت کے حوالے سے فوکس کرنا ہوگا جیسا میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ بلوچستان کی کوئی سکیم نہیں ان پانچ سالوں میں سی پیک میں ڈیم بننے چاہیے تھے روڈ بننے چاہیے تھے واٹر سپلائی اسکیم بننے چاہیے تھے وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ بلوچستان میں قحط سالی کی صورتحال سنگین ہے ، وفاق سے بھی مدد طلب کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی قلت سنگین ہے سی پیک میں پانی کے منصوبوں کو شامل کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں مشترکہ مفادات کونسل میں بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے بلوچستان کے عوامی نوعیت کے اجتماعی منصوبوں کے لیے بات ہوئی ہے ماضی میں سی پیک کے منصوبوں کو عوامی ضروریات کے تحت ڈیزائن نہیں کیا گیا سی پیک منصوبوں کو ریویو کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ماس ٹرانزٹ ٹرین منصوبے سے عام آدمی کے معیار زندگی پر کوئی خاطر خواہ اثرات مرتب نہیں ہوسکتے ۔انہوں نے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مہم کو صوبائی حکومت کی بھر پور سرپرستی حاصل ہے محکمہ صحت میں اصلاحات کا آغاز کردیا گیا ہے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیو کا خطرہ ہمارے بچوں پر منڈلارہا ہے والدین بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*