بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کرینگے،چیف جسٹس آف پاکستان

Chief Justice of Pakistan Mian Saqib Nisar

کوئٹہ(این این آئی) چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم نے ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد تین ماہ پہلے بڑھا دی تھی،ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد 6 پلس ون سے 9 پلس ون کردی تھی آج صبح ہم نے وزیراعظم سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا کہ ججوں کی تعداد کانوٹی فیکیشن کیوں نہیں ہورہا،ہ اسلام آبادہائیکورٹ میں بلوچستان کی نمایندگی ناگزیر ہے۔یہ بات انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان کا کہناتھا کہ اداروں کے حوالے سے کسی کارہنا یہ نارہنامعنی نہیں رکھتا ملک میں کوئی ایسا ٹریبونل نہیں ہے کہ جو غیرفعال ہواور مجھے بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں بھی کوئی ٹریبونل غیرفعال نہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سپریم کورٹ کی مکمل رجسٹری قائم کرنے جارہے ہیں کوئٹہ میں سپریم کورٹ کا سیکریٹریٹ آپ وکلاءپر ہی مشتمل ہوگا۔ انہوں نے سپریم کورٹ رجسٹری کیلئے بھی بلوچستان سے نام مانگے لیکن نہیں ملے۔چیف جسٹس نے کہا کہ انگلینڈ کے بعد کوئٹہ میں ڈیم کے حوالے سے بہت محبت ملی ہے انہیں ایک کاروباری ادارے نے پچاس لاکھ روپے کا عطیہ دیاکاروباری ادارے کے مالک نے اتنا بھی کہا کہ وہ اپنے دونوں پلازے بیچ کر ڈیم فنڈ کےلئے پیسے دے دیںجبکہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس صاحبہ نے بھی اپنی اور ججز اور اسٹاف کی جانب سے ڈیم فنڈ کےلئے چیک دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیم اس ملک کی بقاءاور آنےوالی نسلوں کے لئے ناگزیر ہوچکاہے آپ اس ملک سے محبت کرلیں اور اپنا ٹیکس اس ملک کو دے دیں،چیف جسٹس کا یہ بھی کہناتھا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنی کوتاہیوں کو دور کرناہوگا وہ ابھی اپنی عمر کے اس حصے میں ہیں کہ جس میں انہیں پے بیک کرناہے،ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور اس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے، بلوچستان میں چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس دوسرے صوبوں سے کیوں آتے ہیں،جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لئے ترقی کی راہیں آسان ہیں،اور آنے والے دنوں میں پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہوگا درین اثناء چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اداروں کے حوالے سے کسی کا رہنا یا نہ رہنا معنی نہیں رکھتا میں رہوں نہ رہوں یہ ادارہ برقرار ہے جب کہ میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں،بلوچستان کے لوگ عدلیہ میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کا ادارہ کریں ،سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں تمام مقامی افراد کو بھرتی کیا جائےگا،ٹربیونلز میں نمائندگی کے لئے کوئی نام نہیں ملا ،بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھا کر 9 پلس ون کردی گئی ہے،یہ بات انہوں نے پیر کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹر ی کی عمارت کے افتتاحی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،اس موقع پر سپریم کورٹ کے ججز، بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس طاہرہ صفدر سمیت دےگر بھی موجود تھے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچستان کی نمائندگی ناگزیر ہے، ہم نے ہائیکورٹ میں ججوں کی تعداد تین ماہ پہلے بڑھا دی تھی، ہائیکورٹ میں تعداد 6 پلس ون سے 9 پلس ون کردی تھی۔انہوں نے کہا کہ اداروں کے حوالے سے کسی کا رہنا یا نہ رہنا معنی نہیں رکھتا، میں رہوں نہ رہوں، یہ ادارہ برقرار ہے اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈیم مہم کے حوالے سے بہت محبت ملی ہے، ڈیم ہماری بقا اور آنے والی نسلوں کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے، خدا کا واسطہ اس ملک سے محبت کریں، ایک سال اس ملک کو دیں اور پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے، ہم آنے والے بچوں کے لیے کتنی نایاب چیز چھوڑ کر جائیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ اپنی اصلاح کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کوتاہیاں دور کرسکتے ہیں، قائداعظم کے پاکستان سے محبت کریں، کیا اس ملک کی ہم نے اس طرح سے قدر کی؟ کیا وجوہات ہیں آج چالیس سال کے بعد یہ سوچ رہے ہیں کہ سات سالوں میں پانی نایاب ہوجائے گا، کیا لوگوں کو نہیں پتا تھا کہ بلوچستان میں پانی کی کس حد تک سطح گررہی ہے، اس کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ ان لوگوں کا کسی نےا حتساب نہیں کرنا؟ اب وقت ہے کہ ملک کو لوٹایا جائے، قوم کو آگے آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں نے چےف جسٹس بلوچستان سے گذشتہ شب بھی استفسار کیا ہے کہ ان سے مانگے گئے نام اب تک نہیں آئے ،رجسٹرار سپریم کورٹ نے وزیراعظم سیکرٹرےٹ سے رابطہ کیا ہے اور تعداد بڑھانے کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاخیر سے متعلق تفصےلات لی ہیں انہوں نے کہا کہ میں سے تمام ٹربیونلز کے حوالے سے بھی تفصےلات طلب کی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ تمام ٹربیونل فعال ہوں،بلوچستان کی ٹربیونل میں نمائندگی کے حوالے سے کوئی بھی فہرست آج تک نہیں ملی صرف شکایت کرنا مسئلہ کا حل نہیں ،میں عملی کام کر نے والا آدمی ہوں آئےں اور اپنا کام کروا کر لے جائےں میں نے کئی مرتبہ کہا کہ مجھے سپریم کورٹ اسلام آباد رجسٹری کے لئے دوست درکار ہیں لیکن آج تک بلوچستان سے کوئی نہیں آیا،انہوں نے مزید کہا کہ اب ہم (سپریم کورٹ )بلوچستان میں خود کفیل ہوگئے ہیں سپریم کورٹ کوئٹہ سیکرٹرےٹ میں بلوچستان کے مقامی لوگوں بھرتی ہوں گے ،بار اپنی لسٹ لے آئے ایک ہفتے بعد مجھ سے نتائج لے لیںانہوں نے مزید کہاکہ برطانیہ کے بعد بلوچستان میں ڈیم فنڈ کے لئے سب سے زیادہمیں محبت ملی ،کاروباری شخصیت نے پچاس لاکھ سنےئر وکیل نے دو لاکھ اور بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنی جانب چیک دیے ہیں ،یہاں کے لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ چےف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سرکاری ملازمت اور وکالت کرنے افراد کے معاملے کو دےکھیں،انہوں نے کہا کہ اوتھ کمشنر بننا بلوچستان کے لوگوں کے شیان شان نہیں یہاں کے لوگوں کو اعلیٰ عدلیہ کے میں اعلیٰ مقام کا سوچنا چاہےے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*