افغانستان میں دیریا امن پاکستان کے مفاد میں ہے ،شاہ محمود قریشی

Federal Minister For Foreign Affairs, Makhdoom Shah Mehmood Qureshi

اسلام آباد (بیورورپورٹ )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان مفاہمتی عمل کے ذریعے دیرپا امن کا حصول ہماری بھی ضرورت ہے ، افغانستان میں دیرپا امن پاکستان کے بھی مفاد میں ہے ، مفاہمتی عمل سے متعلق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے تعاون کر رہے ہیں ، کرتار پور راہداری کھولنے کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے ، تارپورراہداری کھول کر بھارت کو پیغام دیا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں ،تصفیہ طلب مسائل کے حل کےلئے پاکستان بھارت کے پاس مذاکرات ہی واحد راہ ہے ، توقع ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میںبھی صورتحال بہتر کرے گا ۔پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان بار بار درخواست کے باوجود قید پاکستانیوں کی تفصیلات نہیں دے رہا ، افغانستان قید پاکستانیوں پر الزامات سے متعلق بھی سفارتخانے کو آگاہ نہیں کرتا ، ہمارے سفارتخانے کو قیدیوں تک قونصلر رسائی بھی نہیں دی جاتی ، حکومت پاکستان افغان سفارتخانے کو مکمل تعاون فراہم کرتی ہے ، اعلیٰ سطح پر بھی افغان حکومت کے ساتھ اس مسئلے کو بار بار اٹھا یا ، افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا پڑے گا ، افغان مفاہمتی عمل کے ذریعے دیرپا امن کا حصول ہماری بھی ضرورت ہے ، افغان عدم استحکام سے پاکستان متاثر ہوتا چلا آرہا ہے ، کئی برسوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں ،طویل عرصے کے بعد افغانستان سے متعلق سیاسی حل کی جانب پیش رفت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار سیاسی مفاہمتی عمل میں طالبان کی شرکت بھی ہوئی ہے ، امریکی صدر نے خط لکھ کر افغان امن عمل میں مدد کی درخواست کی ہے ، افغانستان میں دیرپا امن پاکستان کے بھی مفاد میں ہے ، مفاہمتی عمل سے متعلق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے تعاون کر رہے ہیں ، مفاہمتی عمل میں خطے کے دوسرے ملکوں کی بھی مدد کی ضرورت ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا معاملہ کئی برسوں سے التوا کا شکار تھا، طویل عرصے کے بعد اس معاملے پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے ، کرتار پور راہداری کھولنے کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے ، بھارتی کابینہ نے قرارداد منظور کر کے کرتار پور راہداری کھولنے کی منظوری دی ، کرتارپورراہداری کھول کر بھارت کو پیغام دیا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں ،تصفیہ طلب مسائل کے حل کےلئے پاکستان بھارت کے پاس مذاکرات ہی واحد راہ ہے ، توقع ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میںبھی صورتحال بہتر کرے گا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*