خلائی مخلوق بمقابلہ نوازشریف

تحریر:خالد محمود ہاشمی
28 جولائی 2017 ءکو شو مئی قسمت نے نواز شریف کو نااہلی اور معزولی کے ”قابل برداشت “ صدمے سے دو چار کیا۔ ایوان اقتدار سے باہر آتے ہی انکے دل کی آنکھ کھلتی چلی گئی کہ ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیںکچھ “ وہ کچھ جان گئے جو بطور وزیر اعظم بھی نہیں جانتے تھے کہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ بادلوں کی گھن گرج سنائی اور بجلی کی کڑک دکھائی دیتی ہے لیکن پکڑی نہیں جا سکتی۔ نادیدہ قوتوں کی گھن گرج اور کڑک کے سامنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسی اور ”جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو “ کے سوا کوئی ورد نہیں سوجھتا۔ بجلی جس پر گر جائے اسکی موت تارا مسیح کے ہاتھوں آتی ہے قسمت اچھی ہو تو سرور پیلس کا سرور میسر آتا ہے۔ ”طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں “ کا نعرہ لگانے والے کو اڈیالہ جیل جا کر پتہ چلا کہ طاقت کا سرچشمہ کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ زلزلہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے آنکھیں کھولتا ہے لیکن اپنے مرکز تک کسی کو پہنچنے نہیں دیتا۔
ایک وقت وہ تھا جب نادیدہ قوتوں نے نواز شریف کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ بے وفائی اور حد سے گزرنا انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ پرویز مشرف کو رات دن برا کہیں لیکن ساری کی ساری زمینی دیدہ قوتیں اب تک ان کا بال بیکا نہ کر سکیں۔ نادیدہ قوتیں بلحاظ ادب انہیں آج بھی ”سر “ کہہ کر مخاطب ہوتی ہیں۔ نواز شریف قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ملک میں دیدہ اور نادیدہ دو قوتیں ہیں ان کا ساتھ دیدہ قوتیں یعنی عوام، جبکہ عمران اور زرداری کے سر پر نادیدہ قوتوں کا ہاتھ ہے۔ان کے نزدیک عمران اور زرداری کو ووٹ دینا نادیدہ قوتوں کو کامیاب کرانے کے مترادف ہوگا۔ نواز شریف کا کہنا ہے زرداری، عمران کوئی شے ہیں نہ ان سے مقابلہ خلائی مخلوق سے مقابلہ ہے۔ انکے استعاروں کو سارے عزت دار ووٹر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ خلائی مخلوق کبھی بمقابلہ انسانی مخلوق نہیں ہوئی۔ جنات اور فرشتوں کا انسانوں سے کیا مقابلہ ؟ عمران خان کے گیارہ نکات میں کیا برائی ہے؟ ان پر عمل در آمد ہوگیا تو تبدیلی ضرور محسوس ہوگی۔ یکساں نظام تعلیم ایسا ہی ہے جیسے مسلمانوں کے تمام مسالک کو ایک صف میں کھڑا کر دینا۔ ایسا ہو جائے تو امت کے سارے جھگڑے نہ ختم ہو جائیں۔
دینی مدارس کے 25 لاکھ طلبا کو انگریزی تعلیم ، سی ایس ایس کے امتحان ، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں آنے سے کون روکے ہوئے ہے؟ دینی مدارس کے طلبا سائنس دان اور فوجی افسر کیوں نہیں بن سکتے ؟ کیا وجہ ہے کہ 70 سال میں پاکستان کے ہر ڈویڑن اور ضلع میں ایک ایک یونیورسٹی نہ بن سکی۔ ایک ایک دل اور کینسر ہسپتال نہ بن سکا۔ صرف سڑکیں اور گلیاں اکھڑتی اور بنتی رہیں۔ہر صوبے اور ضلع کی آمدنی بڑھانے کےلئے اسے صنعتی طور پر آگے لانا پڑے گا۔ کرپشن فری پاکستان ، نیب ، ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کے ادارے ہی نہیں تمام حکمرانوں اور صاحبان اختیار کا صادق اور امین ہونا ضروری ہے۔ کسانوں کا استحصال کون روکے گا؟ ظاہر ہے شوگر ملز مافیا سے جنگ لڑنے کی سکت کس میں ہے؟ پرائیویٹ سکولوں کابھی مافیا کمزور نہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے بھی مالک ہیں۔ ہر شعبہ زندگی میں پاور ہاﺅس موجود ہیں۔
ایک معمولی اے ایس آئی کسی وکیل کو للکار کردیکھے پھر اگلے ہی لمحے وکلاءاسے ایسا سبق سکھاتے ہیں کہ اسے نانی یاد آ جاتی ہے۔ آج تک کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں آئی جس نے اپنے منشور میں قومی تعمیر میں نوجوانوں کی شرکت بارے سوچا ہو۔ ایک زمانے میں این ڈی وی پی پروگروام اور سکولوں کالجوں میں این سی سی کی ٹریننگ ہوا کرتی تھی۔ اب بھی ضروری ہے کہ میٹرک اور انٹر کے امتحان کے بعد رزلٹ آنے تک کے تین ماہ میں ہر نوجوان لڑکے لڑکی کےلئے 60 روز کی لازمی نیشنل سروس کا حکم جاری کیا جائے۔ یہ نوجوان ٹریفک کے نظام میں وارڈنوں کے معاون ثابت ہوں۔ دکانوں پر پرائس لسٹ چیک کریں ، ہسپتالوں میں مریضوں کی مدد کریں صفائی کے نظام کو چیک کریں انکی مصروفیت سے وہ بہت کچھ سیکھیں گے۔ انکی اس نیشنل سروس کے صلے میں سرٹیفکیٹ دیا جائے اور حفظ قرآن کی طرح اسکے مجموعی نمبروں میں 20 نمبروں کااضافہ کیا جائے اس نیشنل سروس کو میٹرک انٹر کی سند سے لازم منسلک کردیا جائے۔ امتحان سے نتیجے تک کا عرصہ نوجوان بے کار خرافات اور آوارہ گردی میں گزار کر والدین کیلئے باعث آزار بنتے ہیں۔ ملک میں زیادہ تر ٹیکس جگا ٹیکس سے کم نہیں۔ نان فائلرز سے 0.4 فیصد ود ہولڈنگ اور 100 روپے کے موبائل فون کارڈ پر 40 روپے ٹیکس سیدھا سیدھا جگا ٹیکس ہے۔
وزیر اعظم عباسی نے بھی اپنے سیاسی مرشد نواز شریف کی ہاں میں ہاںملاتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ انتخابات خلائی مخلوق کرائے گی لیکن پھر بھی حصہ لیں گے یعنی پولنگ سٹیشن پر ظاہری طور پر زمینی مخلوق ہوگی لیکن نتیجہ خلائی مخلوق سامنے لائے گی۔دنیا والوں کےلئے پاکستان ایک انوکھا ملک ہوگا جہاں انتخابات نگران حکومت نہیں خلائی مخلوق کرائے گی۔ نواز شریف اقتدار میں ہوتے تو ان کا بیانیہ وہ نہ ہوتا جو آج ہے۔ مثلاً خلائی مخلوق مرضی کی پارلیمنٹ لانا چاہتی ہے جبکہ وہ بھاری مینڈیٹ والی پارلیمنٹ دیکھنا چاہتے ہیں جو انکے خلاف سارے عدالتی فیصلوں پر بیک جنبش قلم پانی پھیر دے۔ ان کا سوال ہے پارلیمنٹ اور حکومت کی رٹ کہاں ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*