اپوزیشن کی ملکی معاشی پالیسی کےلئے حکومت کو مل بیٹھنے کی پیشکش

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے حکومت کو ملکی معاشی پالیسی بنانے کےلئے مل بیٹھنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ملک کی معیشت کےلئے بیٹھنا چاہےے سیاستدان گندے ،نہیں ہیں وہ لوگ گندے ہیں چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی چاہےے پاکستان اس وقت 24ٹریلین کا مقروض ہوگیا ہے ۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا مذکورہ بیان قابل تعریف ہے اگر حکومت اور اپوزیشن ملکر ملک کی معاشی پالیسی بنائیں گے تو ظاہر ہے یہ بہت ہی اچھی پالیسی بنے گی کیونکہ جو پالیسی حکومت بناتی ہے اس پر اپوزیشن کو اعتراضات ہوتے ہیں اس طرح وہ پالیسی کامیاب نہیں ہوپاتی جب حکومت اور اپوزیشن دونوں ملکر جو پالیسی بنائیں گے اس پر کوئی اعتراضات نہیں ہونگے اور اس طرح یہ اقدام ملک کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ اس وقت ملک مقروض ہے اور یہ قرضہ اسی وقت ہی ختم ہوسکتا ہے جب ملک کی معاشی پالیسی بہترہوگی ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن نے یہ بیان دے کر اہم کردار ادا کیا ہے یہ ملک سب کا مشترکہ ملک ہے اس لئے اس کے مفادات کی خاطر سب کو اکھٹا ہونا چاہےے کیونکہ ملک ہے تو ہم سب ہےں اس لئے اس کی تعمیر و ترقی کےلئے کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہےے سب سیاسی جماعتوں اور رہنماﺅں کو اس سلسلے میں تمام قسم کی اختلافات بھلا کر ملک کے مفادات کی خاطر قربانیاں دینی چاہےے ۔
الیکشن ایک جمہوری عمل ہے اس میں بھی تمام جماعتوں کو بھر پور حصہ لینا چاہےے اور اسی طرح عوام بھی اپنے ووٹ کا حق ادا کریں پھر جو پارٹی بھی جیت جائے وہ حکومت بنائے اور ہارنے والے اس کی جیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے حکومت کرنے دیں اس کی پالیسیوں کی مخالفت برائے مخالفت کی بجائے مخالفت برائے تعمیر کی پالیسی اپنائیں یہ جمہوریت کا حسن ہے اس طرح ملک میں انتشار نہیں پھیلے گا اور نہ صرف جمہوریت مستحکم ہوگی بلکہ قائم دوائم رہے گی اور جمہوریت ہی ملک کے بہترین مفاد میں ہے ۔
اس لئے اپوزیشن اور حکومت کو اس پو دے کی آبکاری کرنی چاہےے جوکہ موجودہ حالات میں انتہائی اہم ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*