عالمی یوم صحافت

3مئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم صحافت منایا گیا اس سلسلے میں مختلف شہروں میں سیمینار ،ریلیاں اور تقاریب منعقد کی گئیں ،جن میں مقررین نے اس اہم دن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس دن کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔
لیکن اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے صحافیوں کے پر امن احتجاج پر پولیس نے دھاوا بولتے ہوئے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں درجنوں صحافی زخمی ہوگئے جوکہ قابل مذمت اقدام ہے کیونکہ صحافیوں کے پاس ایک قلم ہوتا ہے وہ دہشتگرد نہیں پھر ان پر لاٹھی چارج کرنا ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اس پر حکومت کو اپنے اس فعل پر غور کرنا چاہےے کیونکہ آزادی صحافت کےلئے بلوچستان سمیت ملک کے صحافیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے صرف بلوچستان میں 40سے زائد صحافی شہید ہوئے ہیں جن میں بعض کے بیٹے بھی شامل ہیں لیکن حکومت کو ان کی قربانیوں کے احساس کرنے کی بجائے یوم صحافت پر ان پر لاٹھی چارج کرنا کونسی منطق ہے ایسا کیوں کیا گیا حکومت کو اس کی تحقیقات کرنی چاہےے کیونکہ افسوسناک یہ بات ہے یہ کہ ملک بھر میں شہید ہونے والے صحافیوں کے قاتلوں کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے ۔جوکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےلئے ایک سوالیہ نشان ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کےلئے ہر صحافی کے تحفظ کے اقدامات کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جتنی بھی حد تک ہوسکے اس سلسلے میں اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ صحافی جو معاشرے کا بہت ہی حساس اور محنت کش طبقہ ہے اپنے فرائض منصبی بلا خوف و خطر سرانجام دے سکے اسی طرح پولیس کو بھی اس سلسلے میں صحافیوں پر تشدد جیسے اقدامات سے گریز کرنا چاہےے کیونکہ وہ قلم سے جہاد کرنے والا طبقہ ہے دہشتگردی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد لاٹھی چارج کے واقعے کا سخت نوٹس لے کر اٹارنی جنرل سے جو رپورٹ طلب کی ہے وہ بلاشبہ ایک قابل تعریف عمل ہے انہوں نے اس کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*