پیپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو بلوچستان کے مسائل کو اولین ترجیح دینگے،بلاول بھٹو

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا مسئلہ عمران خان جبکہ عمران خان کا مسئلہ نواز شریف اور دونوں کا مسئلہ اقتدار ہے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہورہی ہے جن لوگوں کا کچھ گیا نہیں وہ کیا جانیں اپنوں کو کھونے کا احساس کیا ہوتا ہے، کراچی سے فاٹا اور ژوب سے گلگت تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے مخصوص سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایاسی پےک لاہور مےں نظر آتا ہے کوئٹہ مےں نہےں پےپلز پارٹی کو اقتدار ملا تو بلوچستان کے مسائل کو اولےن ترجےح دےنگے جبکہ علا ج و معالجے کےلئے دل کے ہسپتال اور دےگر صحت کے سہولےات فراہم کرےنگے ‘ان خےالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز کوئٹہ کے ہاکی گراﺅنڈ مےں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی جلسے سے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک ‘ مرکزی رہنماءو سےنےٹر عبدالقےوم سومرو ‘سےد اقبال شاہ اور دےگر نے بھی خطاب کےا پاکستان پےپلز پارٹی کے چےئرمےن جب جلسہ گاہ اور تقرےر کے لئے بلاےا گےا تو گراﺅنڈ مےں موجود کارکنوں نے کھڑے ہو کر نعروں کے گونج مےں بھر پور انداز مےں استقبال کےا بلا ول بھٹو نے کہا کہ پاک چےن سی پےک کے حوالے سے بلوچستان کو 45ارب روپے ملتے تھے جبکہ پاکستان پےپلز پارٹی نے ےہ رقم بڑھا کر 114ارب روپے کر دےا لےکن اس وقت اےسا لگتا ہے کہ سی پےک پر صرف لاہور مےں کا م ہو رہا ہے ےہاں کوئٹہ سمےت بلوچستان مےں کئی بھی سی پےک نظر نہےں آرہا ہے پاکستان پےپلز پارٹی اقتدار مےں آکر سب سے پہلے سی پےک مےں بڑھا حصہ گوادر اور بلوچستان کے عوام کو دےنگے اور بلوچستان کے محرومےوں کے خاتمے کےلئے آصف علی زرداری مےں اےن اےف سی اےوار ڈ اور آغاز حقوق بلوچستان دےئے تھےں اسی طرح مزےد بھی عوامی مسائل حل کرنے کےلئے اقدامات کرےنگے موجود ہ حکومت نے نہ صرف سی پےک بلکہ دےگر حوالے سے بھی بلوچستان کے عوام کو اپنے حقوق سے محروم کر دےا ہے حکومت کی نا اہلی اور صوبوں کو ساتھ چلنے کی بجائے اس وقت ملک عبوری اےن اےف سی اےوارڈ پر چل رہا ہے انہوںنے کہا کہ 18وےں آئےنی ترمےم کے بعد صوبوں کو آئےنی حقوق دےنا تھا جو پاکستان پےپلز پارٹی نے اپنے دور مےں اس پر کام بھی شروع کر دےا لےکن موجودہ حکومت نے آتے ہی اس سلسلے کو ختم کر دےا بلکہ 18وےں آئےنی ترمےم کو ختم کرنے کی بھر پور کوشش کی لےکن پاکستان پےپلز پارٹی اور دےگر جمہوری قوتوں نے ڈٹ کر مقابلہ کےا ہے اورآج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کرم سے 18وےں آئےنی ترمےم برقرار ہےں انہوںنے کہا کہ جب سےا ست ختم ہو تے ہےں تو عسکرےت پسند ی شروع ہو تی ہے اگر ہمےں سےا ست کرنا ہے تو پھر عسکرےت پسندی کو ختم کر نا ہو گاانہوںنے عمران خان کو تنقےد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بڑے بڑے باتےں کرتے ہےں ساڑے چار سال مےں اپنے صوبے خےبر پختونخوا مےں اےک ہسپتال نہےں بنا سکا وہ اقتدار مےں آکر عوام کو کےا دےنگے واحد سےا سی جماعت پاکستان پےپلز پارٹی ہے جو دعوﺅں کی بجائے عملی اقدامات کرتے ہےں انہوںنے کہا کہ لاپتہ افراد کی کون بات کرے گا، سیاستدانوں کو اقتدار کے علاوہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کیا یہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے کہ مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، کون بات کرے گا لاپتا ہونے والوں کی؟ کون بات کرے گا مسخ شدہ لاشوں کی انہوں نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہورہی ہے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر چھوٹے صوبوں کو کالونی سمجھنے والےجان لیں یہ زیادتی ہے سندھ اور بلوچستان آکر ہماری محرومی کا مذاق اڑاتے ہو، ہمیں پسماندہ رکھ کر پسماندگی کا طعنہ دیتے ہو، ہمیں تعلیم سے محروم رکھ کر کم تعلیم یافتہ ہونے کا طعنہ دیتے ہو، 18ویں ترمیم کے بعد ملنے والے حقوق ہمیں دوانہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا کچھ گیا نہیں وہ کیا جانیں اپنوں کو کھونے کا احساس کیا ہوتا ہے، کراچی سے فاٹا اور ڑوب سے گلگت تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیںان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوگا تو ہم آواز اٹھاتے رہیں گے جب ہمیں اقتدار ملا تو ہماری پہلی ترجیح بلوچستان تھی، انہیں بلوچستان کے مسائل کی فکر نہیں یہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں‘ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے مسائل مسلط نہیں کیے پھر بھی بلوچستان سے معافی مانگی، صوبے کے نوجوانوں کے حقوق چھین کر وفاق کو مضبوط کیا گیا تو یہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلاول بھٹو زرداری کے مطابق وفاق کی مضبوطی کے نام پر صوبوں سے زیادتی کی بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بلوچستان میں ساڑھے9 لاکھ خواتین کی مدد کی گئی، قربانی دینے والے سیکیورٹی فورسز کے جوان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں‘ان کے مطابق جمہوریت ہی بلوچستان کے مسائل کا اصل حل ہے، بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے مخصوص سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*