نیب کسی کےساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا

قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ادارے کی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کسی کےساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا جس نے بھی مبینہ طور پر بد عنوانی کی اس کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کا روائی کی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان سے بد عنوانی کا خاتمہ اور عناصر قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی اور اسکو قومی خزانے میں جمع کروانا ہے ۔
چیئرمین نیب جسٹس ( ر) جاوید اقبال کا مذکورہ بیان خوش آئند اور قابل تعریف ہے انہوں نے نیب کی پالیسی واضح کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کا ادارہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا ،بد عنوانی کےخلاف کاروائی قانون کے مطابق ہوگی ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو کی اب تک کارکردگی اعلیٰ رہی ہے اس کے چیئرمین جسٹس ( ر) جاوید اقبال بہتر طور پر خدمات سرا نجام دے رہے ہیں اور قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والوں کو احتساب کیا جارہاہے اور اس سلسلے میں وہ اب تک متعدد کیسوں میں کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔
بد عنوانی ایک ایسا نا سورہے ہیں جو معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے اس سے جہاں ملک کے خزانے کو نقصان پہنچتا ہے وہاں معاشرے میں رہنے والے عام آدمی بھی اس سے شدید متاثر ہوتے ہےں کیونکہ اس کا حق مارا جاتا ہے وہ میرٹ پر ہونے کے باوجود روزگار سے محروم رہ جاتا ہے کیونکہ روزگار کے حصول میں بھی بد عنوانی ہوتی ہے نیب کو سرکاری نوکریوں کو فروخت کرنے والوں کےخلاف بھی کاروائی کرنی چاہےے جوکہ انتہائی ناگزیر ہے اس کے علاوہ اگر نیب کو کسی کے ساتھ بارگینگ کرنی ہوتی ہے تو اسے اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرانی چاہےے اس سے ایک جانب قومی خزانے مں بھاری رقم جمع ہوگی جبکہ دوسری جانب بد عنوانی کرنےوالے کےلئے بھی ایک سبق ہوگا بلکہ دیگر لوگ بھی جب یہ اقدام دیکھیں گے تو وہ بھی بد عنوانی کرنے سے اجتناب کریں گے کیونکہ یہ ان کےلئے سبق ہوگا ۔
قومی احتساب بیور و کو صحت جیسے اہم شعبے جس کا تعلق براہ راست غریب عوام سے ہے کا بھی کڑا احتساب کرنا چاہےے کیونکہ اس محکمے سے عوام کو شدید شکایتیں ہیں جن میں سب سے اہم شکایت ادویات کا نہ ملنا ہے جن کے بارے میں تحقیقات ضروری ہےں کہ اس مد میں آنے والا بجٹ اگر آتا ہے تو وہ کہاں جاتا ہے کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات بالکل نایاب ہوتی ہیں جو غریب عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*