بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں ہمسایہ ملک کا ہاتھ ہے ،میرعبدالقدوس بزنجو

خضدار(این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے وفاقی حکومت کا نعرہ لولی پاپ ہے ،پانچ سالوں سے بلوچستان میں ترقی کی جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ صرف کاغذوں تک محدود ہے ،این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں تین صوبوں کے بائیکاٹ کے باوجود بجٹ پیش کرنا جمہوریت کی نفی اور صوبوں کو نظر انداز کرنے کی دلیل ہے موجودہ وفاقی حکومت پنجاب میں اپنی نشستوں کو مضبو ط کرنے کی کوششوں میں بلوچستان سمیت دوسرے صوبوں کو نظر انداز کرتی آ رہی ہے ،سی پیک میں بھی بلوچستان کو پورا حصہ نہیں مل رہا ،صوبائی بجٹ عوام دوست ہو گا جس میں صحت و تعلیم کو اولیت حاصل ہو گی بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں ہمسایہ ملک کا ہاتھ ہے ٹارگٹ کلرز اور خود کش حملہ آورز وہیں سے تیار ہو کر آتے ہیں بلوچستان میںشیعہ ہ سنی تنازعہ نہیں نگراں وزیر اعلی کا فیصلہ اپوشین سے مل کر کرینگے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمد درانی کی رہائش گا ہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا قبل ازیں آغا شکیل احمد درانی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اعزاز میں پر تکلف ضیافت دی جس میں ڈپٹی کمشنر خضدار محمد قیصر ناصر ،ڈی آئی جی پولیس قلات رینج نثار علی خان،اسسٹنٹ کمشنر خضدار حبیب نصیر ناصر،میر جمعہ خان شکرانی ،عید محمد ایڈووکیٹ ،سردار عزیز محمد عمرانی ،وڈیرہ غلام فاروق جاموٹ ،میر سعید احمد زرکزئی ،میر محمد اکبر جتک ،میر محمد عالم موسیانی ،وڈیرا صالح جاموٹ،،بشیر احمد جتک،میر فدا احمد قلندرانی،پروفیسر محمد حسن جاموٹ ، ہندو پنچائیت کے رہنماوں سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری بحیثیت قبائلی نواب ہمارے کل بھی بڑے تھے اور آج بھی بڑے ہیں یہ گھر ان کا ہے بلکہ میں سمجھتا ھوں کہ یہ گھر ہم سب کا ہے سیاسی معاملات اپنی جگہ ہمارے درمیان احترام کا رشتہ ہمیشہ سے تھا اور رہے گا مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ یہ بات طے ہے کہ موجود وفاقی حکومت کا بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار نظر نہیں آ رہا ترقی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے جو باتیں کی جاتی ہیں وہ خوشنماءضرور ہیں مگر ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں آج بلوچستان میں جتنے بھی ترقیاتی اسکیمات ہیں وہ صوبہ اپنے محدودوسائل کو بروئے کار لا کر کر رہی ہے اس ہم کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے عوام کو خوشنماءنعروں سے خوش نہ کریں بلکہ عملی طور پر اقدامات کریں پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے جو حصے رکھے یا بلوچستان پیکج کے حوالے سے جو کام کئے وہ نظر آتے ہیں مشرف نے اپنے دور میں بلوچستان میں سڑکوں اور ڈیموں کے حوالے سے کافی کام کیا مگر موجود وفاقی حکومت بلوچستان کو نظر آنداز کرتی رہی ہے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایورڈ کے اجلاس میں تین صوبوں نے احتجا ج کی اور تینوں وزراءاعلیٰ واک آوٹ کر گئے اس کے باوجود وفاقی بجٹ پیش کرنا افسوناک اور جمہوریت کی نفی ہے ایسے ہی رویوں کی وجہ سے سوالات جنم لیتے ہیں سی پیک کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے حوالے سے جو فنڈز حاصل گئی بلوچستان کو پورا حصہ نہیں مل رہا وفاقی حکومت پنجاب میں اپنی نشستوں کو مضبوط کرنے کی خاطر ملک کے وسائل کا زیادہ حصہ وہاں صرف کر کے دوسرے صوبوں کو نظر انداز کر ر ہی ہے متوقع صوبائی بجٹ کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی بجٹ عوام دوست ہو گا جس میں تعلیم و صحت کے منصوبوں کو اولیت حاصل ہو گیاساتذہ کی ٹریننگ اور لیکچراروں و پروفیسروں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک تربیت کی تجویز بھی بجٹ میں شامل ہو گی اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں کے لئے بلڈنگز کی بھی تجویز دی گئی ہے صوبائی بجٹ سے بلوچستان کے عوام پر خوشگوار اثرات مرتب ہو نگے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شیعہ سنی کاکوئی تنازعہ نہیںہے کچھ بیرونی قوتیں بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کر کے دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہاں امن و امان و فرقہ واریت کا مسئلہ ہے مگر انہیں ان کے مقاصد میں کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گابلوچستان میں ہونے والے ٹارگٹ کلنک و دوسرے واقعات میں ہمسایہ ملک ملوث ہے جہاں خود کش حملہ آور اور ٹارگٹ کلرز تیار کر کے بلوچستان بھیجا جاتا ہے ان کی ان عزائم کو ناکام بنانے میں ہماری سیکورٹی فورسیز بڑی قربانیاں دے رہے ہیں جن پر ہمیں فخر حاصل ہے اب تک صوبے میں بارہ سے زاہد خود کش حملہ آور پکڑے گئے ہیں کوئٹہ سیف سٹی کا افتتاح ایک دو روز میں کردیا جائے گا جس سے صوبائی دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال کو مزید بہتر کرنے میں مدد ملے گی این ٹی ایس پاس امیدواروں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ جن امیدواروں نے این ٹی ایس ،ڈی آر سی پاس کیا تھا جن کے ساتھ نا انصافیاں کی گئی تھی ان کے آرڈرز جلد جاری ہونگے دریں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ موجودہ بجٹ میں تعلیم، صحت اورپینے کے صاف پانی کے منصوبوں کو فوقیت دیکر ان کے لئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے ، تاکہ ان شعبوں کو ترقی دیکر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے، صوبہ بھر میں کوئی ایسا اسکول باقی نہ رہے کہ جو بغیر چھت کے رہے ، اسی طرح ہیلتھ سیکٹر کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ،ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے بھی صوبائی حکومت نے رقم مختص کی ہے تاکہ ہسپتالوں میں عوام کو علاج و معالجے کی سہولت میسر آسکے ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو بھی بجٹ میں خصوصیت دی گئی ہے ،بد قسمتی سے موجودہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی پسماندگی کو خاطر میں نہیں لائی اور صوبے کو اس کا حق دلانے پر پر زیادہ توجہ نہیں دی، موجودہ وفاقی حکومت زیادہ بجٹ پنجاب کی طرف منتقل کرتی رہی اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنی نشستوں کی فکرزیادہ لاحق رہتی ہے ۔بلوچستان میں ماضی میں یہ ہوتا تھا کہ سابق اسکیموں کے نام پر دوسرا اسکیم رکھ کر پیسے ضائع کرتے ہم نے جب اس معاملے کا بغور جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی ہے،موجودہ بجٹ میں عوام کے لئے نئے منصوبے تشکیل دیکر زیادہ تر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو اہمیت دی گئی ہے ۔چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری اور ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی نے ہمار ے مہربان ہیں ان سے دیرینہ رفاقت قائم ہے ، نواب ثناءاللہ زہری چیف آف جھالاوان اور ہمارے بڑوں میں شامل ہے ،کافی عرصہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ،آج میں خضدا ر آیا ہوں تو یہاں ملاقات بھی ہوئی اور ایک دوسرے کو سننے کا موقع بھی ملا ۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں آغاہاﺅس خضدار میں ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خضدار قیصر خان ناصر ،ڈی آئی جی خضدار رینج نثار تنولی، اسسٹنٹ کمشنر خضدار حبیب نصیر ناصر،ایس ایس پی ضیاءمندوخیل ، وڈیرہ محمد فاروق جاموٹ ، میر جمعہ خان شکرانی ، وڈیرہ محمد صالح جاموٹ ، سردار بلند خان غلامانی ، سردار عزیز محمد عمرانی ، میر فدا قلندرانی ،منیراحمد قمبرانی ،میر محمد اکبر جتک ، میر طریل جتک،میر سعیداحمد زرکزئی ، رئیس جاوید سوز مینگل ، عید محمد ایڈوکیٹ ، عبدالحی زہری، بشیراحمد جتک ، میر شاہجہان عمرانی ، میر عبدالوہاب عمرانی ، ثناءاللہ مینگل سمیت دیگر سیاسی رہنماءآفیسرز موجود تھے۔ اس سے قبل آغا ہاﺅس پہنچے پر ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی سمیت دیگر سیاسی و قبائلی عمائدین نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا استقبال کیا اور انہیں آغاہاﺅس لائے۔ ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل احمددرانی نے نیوز کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہاکہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو و ان کے رفقاءکو آغا ہاﺅس آنے پر خوش آمدید کہتاہوں ، ان سے ہمارے دیرینہ رفاقت ہے ، آج وہ یہاں آئے اور ہمیں عزت بخشی ہے اس پر ہم ان کے مشکور ہیں ، یہ گھر ان کا اپنا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میںآئے ہیں ۔ سیاست پیار و ومحبت اورمٹھاس کا نام ہے ، بہتر تو یہی ہے کہ سیاست میں دوریوں اور رنجشوں کو قریب آنے نہیں دیا جائے ۔ جب کہ بلوچستان کی قدیم روایات ہیں کہ یہاں تمام سیاسی و قبائلی زعماءہمیشہ ساتھ چلنے کو فوقیت دی ہیں او ر ایک دوسرے کے بازو و معاون ثابت ہوئے ہیں ہم بھی یہی خواہش رکھتے ہیں انہیں روایات کو زندہ بنا کر جھالاوان و بلوچستان کی اس منفرد مثال کو زندہ و قائم و دائم رکھنا چاہتے ہیں ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ نواب ثناءاللہ خان زہری چیف آف جھالاوان ہیں اور ہمارے بڑوں میں شامل ہے ، ہم ہر وقت ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں ،سیاست میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ، آج میں یہاں ڈسٹرکٹ چیئرمین آغا شکیل احمددرانی کے پاس آیا ہوں یہ بھی نواب کا گھر ہے کافی عرصہ سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی تھی تو آج اس سلسلے میں آئے ہیں ملاقات بھی ہوئی اور ایک دوسرے کو ہم سنے بھی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ اگلا بجٹ 11مئی کو پیش ہورہاہے اس بجٹ میں عوام کی بنیادی ضرورتوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹر کے لئے ہم نے زیادہ پیسے مختص کیئے ہیں ، تاکہ عوام کو تعلیم ملے اور ان کا علاج صحیح معنوں میں ہو ، اس کے لئے ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ پورے بلوچستان کے تمام اضلاع میں اسکولز کی حالت کو بہتر بنانے اور ان کی تعمیر و مرمت اور نئے اسکولز کے قیام کے لئے خطیررقم مختص کی ہے ، صوبے میں کوئی ایسا اسکول نہ ہو کہ جو چھت کے بغیر ہو، ایک ارب روپے ٹیچرز لیکچرارز اور پروفیسرز کو ٹریننگ دینے کے لئے مختص کی ہیں تاکہ ان کی استعداد کار اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکے۔ اسی طرح صوبے بھر کے ہسپتالز کی حالات بہتر بنانے کے لئے بھی ہم نے رقم مختص کی ہیں ،تاکہ عوام کا صحیح معنوں میں مفت علاج ہو ،یہ تمام بنیادی سہولیا ت اور ضرورتیں ہیں جو عوام کا حق ہے و ہ انہیں مل سکیں ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ موجودہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کواہمیت دینے کی بجائے زیادہ رقم پنجاب پر لگائی ہے تاکہ ان کی نشستیں بچ سکیں اور انہیں اپنی سیٹوں کی زیادہ فکر رہی اور انہوںنے بلوچستان کو نظر انداز کردیا۔ حالانکہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکومت نے صوبے میں بلوچستان پیکج دیا ، این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کی صورت میں کسی حد تک صوبے کے عوام کی ضرورتوں کوپورا کرنے کی کوشش کی تاہم موجودہ وفاقی حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا ، یہ گلہ ہمیں وفاق سے ضرور ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے مذید کہاکہ صوبے میں ماضی میں عوام کے بنیادی مسائل پر اتنی توجہ نہیں دی گئی ، ہم نے جب اسکیمات کا بغور جائزہ لیا تو ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ جو منصوبے پہلے سے بنے ہیں پی ایس ڈی پی میں دو بارہ ان منصوبوں کو شامل کرکے عوام کے پیسے کو ضائع کیا گیا ہے تاہم ہمارے دور میں ایسا نہیں ہوگا ہم نے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کررکھے ہیں ۔ ہماری حکومت صحیح معنوں میں عوام کی نمائندگی کاحق بھی ادا کریگی ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ این ٹی ایس کے تحت 413امیدواروں کے آرڈرز اگلے دو سے تین دن میں کردیاجائیگا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ امن وامان کا قیام صوبائی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے اس پر ہم کام کررہے ہیں صوبائی دارلحکومت سمیت پورے بلوچستان میں عوام کو تحفظ کا احساس دلانے میں حکومت اپنا کردار ادا کریگی ، آپ نے دیکھا ہوگا کہ ماضی بنسبت صوبے میں زیادہ امن قائم ہوا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*