وفاقی بجٹ کے اہم اہداف

تحریر:اسد اللہ غالب
آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکسوں میں رعایت، عوامی سہولیات، زراعت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کیلئے متعدد اقدامات پر مبنی 5661 ارب روپے حجم کے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس، ہاﺅس رینٹ سیلنگ اور ہاﺅس رینٹ الاﺅنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ زرعی، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے لئے ٹیکس مراعات کا اعلان اور دفاعی بجٹ میں 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 1030 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 12لاکھ روپے سالانہ یا ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر وزیر اعظم کے خصوصی اعلان کردہ پیکیج کے تحت انکم ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے، تنخواہ دار طبقہ کے لئے ٹیکسز کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے جس کے مطابق 4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے تک آمدن پر ایک ہزار روپے جبکہ 8 لاکھ سے 12 لاکھ روپے پر 2 ہزار روپے کا برائے نام انکم ٹیکس لیا جائے گا۔ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ملک بھر میں کھیلوں کے 100 سٹیڈیم بنائے جائیں گے۔ پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے‘ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی کم سے کم پنشن 15 ہزار روپے ماہانہ کئے جانے کی تجویز ہے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 100 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی ترقیاتی پروگرام مکمل کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کے لئے ایف بی آر کے محصولات کی وصولی کا ہدف 4435 ارب روپے ہوگا۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے کمپوزٹ آڈٹ کا طریقہ متعارف کرایا جائے گا۔ نان فائلرز 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے۔ بنکاری اور نان بنکاری کمپنیوں کے لئے سپر ٹیکس کی شرح سالانہ ایک فیصد کی شرح سے کم کردی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 2023ء تک 25 فیصد تک لایا جائے گا۔ مقامی طور پر لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے 21 اقسام کے پرزوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس مکمل ختم کردیا جائے گا۔ سٹیشنری کے لئے سیلز ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح کو بڑھانے کی تجویز ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم اور پارلیمنٹ کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ مشکلات کے باوجود ہماری حکومت نے 13 سال کی بلند ترین شرحِ نمو، کم ترین افراطِ زر اور معاشی استحکام حاصل کیا۔ پوری قوم اور پارلیمنٹ مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا پاس ہونا حکومتی مشینری کے تسلسل اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، آئندہ منتخب حکومت کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ بجٹ ترجیحات میں تبدیلی کر سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.4 فیصد رہی جو کہ پچھلے دس برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ اس کے مقابلے میں پچھلی حکومت کے دوران 2008-13 میں یہ شرح سالانہ 2.8 فیصد تھی۔ موجودہ مالی سال میںیہ شرح 5.8 فیصد ہے جو کہ پچھلے 13 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اس شرح نمو کے ساتھ پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں معاشی ترقی کی بلند شرح کی بدولت معیشت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ معیشت کا حجم مالی سال 2013ءکے 22,385 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2018 میں 34,396 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے جبکہ اِسی عرصہ میں فی کس آمدنی 129,005 روپے سے بڑھ کر 180,204 روپے ہو چکی ہے۔ آج ہم د±نیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔ وفاقی وزیر نے قومی معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہی جو کہ گزشتہ 18 سالوں کی بلند ترین شرح ہے۔
تمام بڑی فصلوں بشمول کپاس، چاول اور گنا کی پیداوار میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ بہتری حکومت کے گزشتہ پانچ بجٹ میں درست اور مناسب فیصلوں کی بدولت آئی۔ اس کے علاوہ سال 2015-16 میں میاں نواز شریف نے خصوصی کسان پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کے تحت کھادوں اور زرعی ادویات کی قیمتیں کم کی گئی تھیں اور زرعی قرضوں کی لاگت میں کمی اور چاول اور کپاس کے کاشتکاروں کی مالی مدد کی گئی تھی۔ اسی طرح صنعتی پیداوار میں رواں مالی سال کے دوران 5.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترقی میں اضافے کی یہ شرح پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبہ میں ترقی کی شرح 6.4 فیصد رہی ہے۔ یہ بھی اس دہائی کی بہترین کارکردگی ہے۔ ہم نے گذشتہ پانچ برس میں اوسط افراطِ زر 5 فیصد سے کم رکھی ہے جو کہ 2008-13 میں 12 فیصد تھی۔ موجودہ مالی سال میں مارچ 2018 تک افراطِ زر کی شرح 3.8 فیصد رہی اور اشیائے خورد و نوش کیلئے یہ شرح صرف 2 فیصد تھی۔
مالیاتی خسارے کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سال 2013 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا۔ اس سال مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔ مالی سال 2012-13 میں ایف بی آر نے 1,946 ارب روپے ٹیکس وصولیاں کی تھیں جبکہ اس سال ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 3,935 ارب روپے ہے جوکہ پانچ سال پہلے کے مقابلے میں دگنا اضافہ ہے۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کا تناسب مالی سال 2012-13 میں 10.1 فیصد تھا۔ رواں مالی سال میں یہ تناسب بڑھ کر 13.2 فیصد ہو جائے گا۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*