حکومت کی شعبہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنےکی کاوشیں

گزشتہ روز گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر حکومت کی جانب سے شعبہ صحت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کاوشیں کرنے کی بات کی ہے انہوں نے صوبے میں نئے میڈیکل کالجوں کے قیام اور بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کےساتھ نئے شعبے بھی قائم کرنے کا ذکر کیا اس کے علاوہ مختلف بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج کےلئے روبو ٹیک ٹیکنالوجی کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ہسپتالوں کو جدید ترین آلات اور مشینری کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور روائتی طریقوں کی بجائے جدید طریقوں سے علاج کیا جائے ۔
گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کا مذکورہ بیان حکومتی دعوﺅں کی حد تک بالکل ٹھیک ہے انہوں نے صوبے میں نئے میڈیکل کالجوں کے قیام ،بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے اور ہسپتالوں کو جدید ترین آلات اور مشینری سے آراستہ اور روائتی طریقوں کی بجائے جدید طریقوں سے علاج کرنے کی بات کی ہے جوکہ ایک خوش آئندبات ہے کیونکہ اس وقت صوبے میں علاج و معالجے کی لحاظ سے کافی فقدان پایا جاتا ہے جس پر قابو پانا حکومت کا کام ہے ۔
حکومت کے صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کاوشیں تو صحیح بات ہے لیکن حکومت غریب عوام کو علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرنے میں یکسر ناکام ہے جس میں ان کو حکومت کی جانب سے ادویات کا نہ ملنا ہے اس کا بار یا مرتبہ ذکر کیا جاچکا ہے حکومت جہاں اداروں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں کو ترقی دینے کی بات کرتی ہے وہاں اسے عوام کو علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرنے کی جانب بھی خصوصی توجہ دینی چاہےے جوکہ نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ اس وقت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں قائم سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی اور ہسپتالوں مں داخل مریضوں کو ادویات فراہم نہیں کی جاتیں ان کو ادویات بازار سے خریدنے کا کہا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہم مریضوں کو کیادیں ؟
اس کے علاوہ ان سرکاری ہسپتالوں میں صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص ہونے کے ساتھ ساتھ نرسنگ سٹاف کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہے باتھ روموں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کو استعمال کرنا تو دور کی بات وہ ایک انسان داخل نہیں ہوسکتا ،جس کی وجہ سے مریض ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بیمارہوجاتا ہے اس کے علاوہ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ وہاں نرسنگ سٹاف کی بہت زیادہ کمی ہے ایک نرس کئی مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور ہے ۔
اس لئے حکومت کو اپنے مذکورہ اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ مسائل ضرور حل کرنے چاہئیں کیونکہ یہ نہایت ہی ضروری ہیں اس کے علاوہ حکومت کو پرائیویٹ ہسپتالوں اور ان میں بیٹھے ڈاکٹروں کی فیسوں اور چارجز پر بھی غور کرنا چاہےے اور ان پر چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہےے کیونکہ یہ غریب مریضوں سے بڑی مد میں فیسیں اور دیگر چارجز وصول کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مریضوں کے لواحقین علاج کرکے اپنی جمع پونجی سے محروم ہوکر قرضدار ہوجاتے ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*