ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی کہ الیکشن موخر ہوں ،میر حاصل بزنجو

Mir Hasil Khan Bizenjo

کوئٹہ (این این آئی)نےشنل پارٹی کے مرکزی صدر وفاقی وزیر برائے سمندری امور میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ ملکی مفاد کی خاطر اداروں کے درمیان تناﺅ کو ختم ہونا چاہےے ،سیاسی جماعتوں کو اپنا روئےہ درست کرنے کی ضرورت ہے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پاکستان کے ہر شہری کا نعرہ ہے مگر ووٹر کو بھی عزت ملنی چاہےے ،ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی کہ الیکشن موخر ہوں ،اختلافات اپنی جگہ مگر الیکشن میں ہر سیاسی جماعت کے ساتھ بات چیت اور سیٹ ایڈجسمنٹ ہوسکتی ہے، بلوچستان عوامی پارٹی کا نام ہی سنا ہے مجھے نہیں لگتا وہ سیاسی جماعت بن پائے گی ، انہوں نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزےب کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کو 9لاکھ روپے کی گرانٹ کا چیک حوالے کرنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، وفاقی وزیر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں الیکشن پراسس شروع ہوچکا ہے ، نیشنل پارٹی کی کوشش ہے کہ سیاسی جماعتوں سے اتحاد ےا سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو ہم چاہتے ہیں الیکشن کا پرامن انعقاد کیا جائے 2013کے الیکشن پر تشدد رہے بم دھماکے ، حملے ہوئے جس کی وجہ سے الیکشن کا ماحول نا خوشگوار رہا ،انہوں نے کہا کہ پا کستان کو اندرونی کی بجائی بےرونی خطرات لاحق ہیں دنیا میں پاکستان کو بلیک لسٹ کر نے کی بات ہورہی ہے، ہمارے کچھ تاجر بھی گرفتار ہوئے ہیں ،ٹرمپ کا روئےہ اور افغانستان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے اےسے میں اگر کوئی ادارہ جاتی تناﺅ ہے اسے ختم ہونا چاہےے چاہے وہ عدلیہ یا کوئی بھی ادارہ ہو،یہ تناﺅ ملک کے لئے ٹھیک نہیں، ریاستی معاملات کو ٹھیک کر نے کے لئے تمام اداروں کو بات چیت اور ڈائےلاگ کر نے کی ضرور ت ہے کیونکہ آنے والے وقت میں عالمی سطح پر ہمیں مشکلات کا سامنا پڑ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان خلاءکو پر کر نے کے لئے تمام سٹےک ہولڈرزبشمول سیاسی جماعتوں کو اپنا روئیہ تبدیل کرنا ہوگا اس وقت جو روئےہ سیاسی جماعتےں ایک دوسرے کے ساتھ اپنا رہی ہیں ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا، تما م جماعتوں کے اختلافات ہوتے ہیں مگر یہ کہنا کہ کسی جماعت سے بات نہیں ہوگی اس روش سے نکلنا ہوگام،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی ایسی وجہ نظر نہیں آرہی کہ الیکشن نہ ہوں جو حالات ہوں گے وہ چلتے رہیں گے ہم کسی جنگ کی طرف نہیں جارہے الیکشن ہر حال میں ہونا چاہےے ،الیکشن نہ ہوناملک اور ریاست کے لئے بد شگونی ہوگی،میر حاصل بزنجو نے کہا کہ تمام اختلافات اپنی جگہ مگرسیاسی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو تی ہے ماضی میں ہم اور جمعیت علماءاسلام مخالف تھے مگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی،نےشنل پارٹی کا بلوچستان کی کسی بھی جماعت سے ایسا اختلاف نہیں کہ میں کہوں کہ ان سے اتحاد نہیں ہوسکتا نیشنل پارٹی تمام جماعتوں سے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے تیار ہے اور ہم تمام جماعتوں سے بات کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اب امن و امان کی صورتحال 2013کی نسبت بہتر ہے لیکن بعض علاقے جن میں آواران ،پنجگور، مند و دےگر شامل ہیں وہاں اب بھی حالات مخدوش ہیں مگر اس کے باوجود تب بھی الیکشن میں حصہ لیا اب بھی لیں گے ،جب فاٹا میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو بلوچستان کے حالات اتنے خراب نہیں کہ یہاں الیکشن نہ ہو،انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراضات جمع کر دےئے ہیں اگر الیکشن کمیشن سے رےلیف ملا تب بھی ٹھیک ہے اگر نہیں ملاتو بھی ہم الیکشن میں تاخیر نہیں ہونے دیں ،توقع ہے کہ پچھلے الیکشن کی نسبت یہ الیکشن بہتر ہوگا،انہوں نے کہا کہ نئی سیاسی جماعت سے اتحاد کا معلوم نہیں جہاں تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، مگر لگتا ہے کہ یہ جماعت نام تک محدود رہے گی سیاسی جماعت نہیں بن پائے گی ، جو دوست اس جماعت میں شمولیت کر رہے ہیں وہ تمام پہلے بھی سیاسی جماعتوں میں رہے مگر آزاد الیکشن لڑتے رہے اور اب بھی وہ آزاد لڑیں گے،انہوں نے کہا کہ اگر نواز شرےف بلوچستان آئےں گے تو انہیں خوش آمدید اور انکے جلسے میں شرکت کریں گے تاہم ابھی تک انکا کوئی پروگرام نہیں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ صرف نواز شریف نہیں پا کستان کے ہر شہری کاہے ،مگر تمام سیاسی جماعتوں سے کہتے ہیں کہ ووٹ کے ساتھ ووٹر کوبھی عزت دو ،ہمارے ہاں کافی عرصے سے ایسی تحریک نہیں چلی ،پہلی بار تحریک نما چیز چل رہی ہے جب کوئی مشکل میں آتا ہے تب وہ یہ بات کرتا ہے ہمیں اس چیز کو مستقل طور پر اپنے منشور میں رکھنا چاہےے ،انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی سےنےٹر ل کمےٹی کا اجلاس ہفتے اور اتوار کو ہوگا جس میں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلے ہوں گے،اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمن، جنرل سیکرٹری عبدالخالق رند، بی یو جے کے صدر خلیل احمد ، سنےئر صحافی بھی موجود تھے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*