انوکھا ”سووموٹو“ یا از خود نوٹس

تحریر:ڈاکٹر اے آر خالد
جنوبی افریقہ کے چیف جسٹس نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا”سوموٹو“ یعنی از خود نوٹس لیا ہے اس از خود نوٹس کی کئی جہتیں تھیں ایک تو یہ از خود نوٹس کی درخواست، کس خبر کس شکایت پر نہیں، دوسرے اس کا کوئی مدعی نہیں، تیسرے اس میں کسی کو حاضر ہونے کیلئے نوٹس میں تاریخ دینے کی روایت بھی برقرار نہیں رکھی گئی، چوتھے جس کے خلاف یہ از خود نوٹس لیا اسے اس وقت اور اس جگہ اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا۔ پانچویں نوٹس کیلئے الگ سے کوئی بنچ تشکیل نہیں دیا۔ چھٹے یہ از خود نوٹس چیف جسٹس کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اجلاس میں لیا گیا اور ساتویں چیف جسٹس نے اپنے ہی ڈپٹی چیف جسٹس رائمنڈ ذوندو کے خلاف اس جگہ چارج شیٹ سنائی جو زبانی تھی اور اسی جگہ بلکہ اس وقت جواب دینے کا حکم دیا۔ چونکہ یہ از خود نوٹس نہ کسی کی بے عزتی کرنے کیلئے تھا یا نہ کسی کو حدود توڑنے اور اپنی حدود میں رہنے کیلئے تھا نہ کسی فرد کے خلاف تھا نہ پیشے وارانہ اور اس سے متعلق تھا بلکہ یہ ایک عوامی مفاد سے متعلق تھا جس میں اس شخص کی سبکی کا پہلو ہی نکل سکتا تھا۔
یہ خود معزز عدلیہ کا معزز رکن تھا اس کی پرائیویٹ لائف کے پبلک کرنے یا اس سے پردہ اٹھانے کے مسئلہ کو ذاتی معاملہ قرار دیکر نظرانداز کیا جا رہا تھا لیکن ”سوموٹو“ لینے والی کی نیک نیتی اور حب الوطنی پہ کوئی انگشت نمائی نہیں کر سکتا تھا۔سراپا کردار اور دیانت چیف جسٹس نے اپنے برادر ججوں کے اس اجتماع یا اجلاس میں از خود نوٹس لینے اور اپنے نائب سے اس کی وضاحت کرنے کی درخواست اس انداز سے کی ” مجھے بہت ہی مستند حوالے سے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ نے ایک خصوصی نوعیت کا قرض لیا تھا اور یہ قرض اشیائے خوردو نوش سے متعلق تھا“۔ چیف جسٹس کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ جسٹس رائمنڈ نے اعتراف کر لیا، چیف جسٹس نے کہا میں اس مسئلہ کو اس لئے اٹھانا چاہتا ہوں کہ جنوبی افریقہ میں بہت سے لوگ غریب ہیں ہو سکتا ہے۔
از خود نوٹس لینے والے اس مسئلہ کے اسباب و علل، وجوہات اور نتائج سامنے آنے کے بعد میرے ملک کے غریب اور امیر عوام کو کچھ ایسا کرنے یا کرانے کا موقع مل جائے جس سے بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو گا۔ اس اپنی نوعیت کے منفرد از خود نوٹس کے سامنے آ تے ہی جسٹس رائمنڈ نے اس کے حاصل کرنے سے لیکر اس کی ادائیگی کے لئے کی جانے والی ساری تفصیلات جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ کے فل بنچ کے سامنے رکھ دیں۔ قرضہ لینے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی وجوہ بیان کرتے وقت کئی مواقع پر تو جسٹس رائمنڈ کی آواز بھرآئی مگر ایک مقام پر یہ آواز عملاً بند ہو گئی۔ انہوں نے اپنی آ نکھوں سے بہنے والے آنسوﺅں کو ٹشو سے صاف کیا اپنی آواز سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کیلئے پانی کا گلاس گلے میں انڈیلا مگر جذبات پر ان کی گرفت ابھی تک اتنی کمزور تھی کہ پورے بنچ پر سکتہ طاری ہو گیا۔ جسٹس رائمنڈ نے اس قرض لینے کی تفصیل بنچ کے سامنے اس طرح پیش کی ”مسٹر چیف جسٹس آ پ کا شکریہ ! جب میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو مجھے یقین تھا کہ مجھے یونیورسٹی میں داخلہ بھی ملے گا اور اسکالر شپ بھی اس کے بارے میں میرے ذہن میں کوئی شک و شبہ نہ تھا مگر میرا پرابلم ذاتی بلکہ میرے گھر کا پرابلم تھا میرے گھر کے حالات بہت خراب تھے میری والدہ نے میرے میٹرک کرنے سے پہلے ہی اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی اور میرے گیارہویں جماعت پاس کرنے تک اس کے سارے پس انداز کئے ہوئے اثاثے ختم ہو چکے تھے میرے پاس ایک تو یہ آپشن تھی کہ میں اپنی والدہ کی جگہ کام شروع کر دیتا مگر میرا خواب تھا کہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرونگا اس کیلئے وسائل نہیں تھے۔
مجھے یہ احساس تھا کہ میں اس وقت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ہدف حاصل نہیں کر سکوں گا جب تک میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور اپنی والدہ کیلئے کم از کم کھانے کا بندوبست نہ کر لوں یعنی انکے پیٹ بھرنے کیلئے جن کم از کم وسائل کی ضرورت ہے انکو یقینی نہ بنا لوں۔ میری ماں اگرچہ سلائی کڑھائی کا کچھ کام کرتی تھیں مگر اس سے گھر نہیں چل سکتا تھا میں شہر گیا وہاں ایک بھارتی مسلمان دکاندر کو اپنی کہانی سنا کر اس سے قرضے کی درخواست کی اور یقین دلایا کہ اگر وہ مجھے قرضہ دیتے ہیں تو میں اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کی کھانے کی ضرورتوں کے پورا ہو جانے کے بعد اطمینان سے اپنی تعلیم مکمل کر لونگا اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کا قرضہ ادا کر دوں گا یہ بات میرے لئے اور شاید آپ سب کیلئے حیران کن ہو کہ اس شخص نے مجھ سے بہت زیادہ سوالات نہ کئے اور کہا کہ وہ میری مدد کرے گا مگر وہ مجھے پیسے ادھار نہیں دے گا وہ مجھے ووچرز دے گا جو میری والدہ مہینے کے آغاز میں آکر میری دکان پر دے کر کھانے پینے کا جتنا سامان چاہے لے جائیں گی۔ دکاندار نے اس کی ایک حد ضرور مقرر کردی تھی جو میرے خیال میں باعزت گزارے کی ضمانت دے رہی تھی۔ دکاندار نے مجھے کہا یہ امداد کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تم اپنی ڈگری مکمل نہیں کر لیتے اور جب تم اپنی ڈگری مکمل کر لو گے تو پھر اس قرضے کی واپسی کی بات کر لیں گے۔ دکاندار نے مجھ سے نہ کسی کاغذ پر دستخط کرائے نہ کوئی معاہدہ کیا بلکہ میرے الفاظ کو ہی سب کچھ سمجھا اور نہ ہی قرضہ کی واپسی کو یقینی بنانے کیلئے کسی ضمانت کے چکر میں پڑ کر اس نیکی کو ضائع ہونے دیا۔
جب میں نے یہ اپنے گھر بتایا تو میری ماں سمیت کوئی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھا کہ میں نے ان کے نان و نفقہ کا بندوبست کر دیا ہے اور میرے دوران تعلیم انکو اس سلسلہ میں کسی پر یشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جب میں نے اپنی تعلیم مکمل کی تو میں اس شخص کے پاس گیا جس کا نام موسیٰ تھا میں نے پوچھا کہ اب میں یہ قرض کس طرح لوٹا سکتا ہوں اس کی آسان اقساط یا یکمشت یا ادائیگی کا جو بھی طریق کار وہ مناسب سمجھتے ہیں مجھے بتائیں میں اس پر پورا اترنے کی کوشش کرونگا۔اس موقع پر جسٹس رائمنڈ اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے بھرائی ہوئی آواز عملاً بند ہو گئی پانی کا گلاس لیا۔ ٹشو سے آنکھیں صاف کیں جذبات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ رندھی ہوئی آواز میں فل بنچ سے معذرت کی اور یہ بتاتے ہوئے انکی آنکھوں سے آنسوﺅں کی برسات جاری ہو گئی۔ ٹشو پیپر ناکافی ہو گئے بنچ کے جملہ ارکان چیف جسٹس آبدیدہ تھے آنسوﺅں پر قابو رکھنے میں ناکامی پر البتہ وہ پریشان نہیں تھے۔ ساری سماعتیں جسٹس رائمنڈ کے ساہوکار کی قرضہ واپسی کے ”موڈ آف پے منٹ“ کے بارے میں جاننے کیلئے ہمہ تن گوش تھیں، جسٹس رائمنڈ الفاظ کی دائیگی اور ساہو کار کے بتائے ہوئے ”موڈ آف پے منٹ بارے“ لب کشائی کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہے تھے اور بالآخر ان کے منہ سے دکاندار موسیٰ کا قرضے کی واپسی کیلئے دیا جانے والا طریقہ کار اس انداز میں شکستہ لفظوں، رندھی ہوئی آواز اور بہتی آنکھوں کے سامنے اس صورت میں ادا ہوا۔ مسٹر چیف جسٹس! مجھے دکاندار موسیٰ نے کہا اس قرض کو مجھے واپس کرنے کی ضرورت نہیں تم اسے اس طرح واپس کرو جس طرح میں نے تمہیں دے دیا ہے تم کسی ضرورت مند طالب علم کی مدد کر دو یہ میرے قرضے کی واپسی بھی ہے اور تمہاری عظمت کا حوالہ بھی۔
مجھے اس انوکھے از خود نوٹس میں جنوبی افریقہ کی اس عظیم عدلیہ کے عظیم ججوں کے کردار میں انسانیت دوستی، اعتماد، بے لوث خدمت اور نہ جانے کتنے مثبت رویوں کی جھلک نظر آ رہی ہے اگر ہم میں سے کوئی موسیٰ کا کردار ادا کرے اور کوئی سپریم کورٹ کے جج کے منصب جلیلہ پر پہنچ کر اپنے ماضی سے ناتا برقرار رکھ کر کم وسیلہ ہونے کو نہ چھپائے تو جعلی نمودو نمائش کے کینسر کا علاج اس ایک رویئے میں تلاش کیا جا سکتا ہے یعنی کینسر کا شافی علاج۔ عقل والوں کیلئے اس واقعہ میں بڑے اسباق ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*