کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں یوم مزدور انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایاگیا

کوئٹہ/اندرون بلوچستان(اسٹاف رپورٹر)کوئٹہ سمےت بلوچستان کے دےگر علاقوں مےں ےوم مزدورکو انتہائی عقےدت و احترام کے ساتھ مناےاگےا تقارےب مےں شکاگو کے شہداءکو خراج تحسےن پےش کی لےبر پالےسی پر عمل درآمد نہ کرنے کےخلاف حکومت روےہ کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کےا کہ مزدوروں کے مسائل حل اور کام کے دورانےہ مےں شکاگو کے شہداءکی وےژن کے مطابق اقدامات کرےںاور ہم ےہ مطالبہ کرتے ہےں کہ مراعات ےافتہ حکمران طبقے کی عوام دشمن سامراج نواز معاندانہ پالےسےوں کے مذمت کرتے ہےں اور مطالبہ کرتا ہے کہ آئی اےم اےف ورلڈ بےنک اور دوسری سامراجی اداروں کی گماشتگی کی بجائے ملک کی عوام محنت کش طبقے کی خوشحالی اسودگی کےلئے آزادانہ خارجی پالےسی بناےا جائے ‘ ان خےالا ت کا اظہار آل پاکستان لےبر فےڈرےشن کے زےر اہتمام کوئٹہ پرےس کلب مےں ےوم مزدور دن کے حوالے سے سلطان محمد خان ‘ لالا سےکرٹری جنرل ‘عبدالستار‘ صوبائی چےئرمےن شاہ علی بگٹی ‘ سٹےٹ لائف اےمپلائز ےونےن کے رہنماءاسد اقبال ‘ حاجی ولی محمد نصےر احمد کاکڑ اور دےگر جبکہ لےاقت پارک مےں پاکستان ورکرز کنفےڈرےشن بلوچستان کے زےر اہتمام جلسہ عام سے صدر رمضان اچکزئی ‘چےئرمےن خان زمان ‘ معرف آزاد ‘بشےر احمد ‘قاسم خان ‘خےر محمد ‘حاجی عزےز اللہ ‘عابد بٹ اور دےگر نے خطاب کےا اسی طرح مےٹر پولےٹن کے سبزہ زار مےں مزدور دن کے حوالے سے منعقدہ تقرےب سے کنفےڈرےشن کے صدر عبدالسلام علی بخش جمالی ‘مےٹر پولےٹن کارپورےشن کے صدر حضرت خان ‘چےئرمےن ندےم کوکھر ‘پرفےسر آغا راحت ملک ‘اخبار فروشان کے جنرل سےکرتری مےر احمد بلوچ‘کامرےٹ نذےر مےنگل ‘خدائے رحےم اور دےگر نے خطا ب کرتے ہوئے کےا ‘ ےوم مزدور کے عالمی دن کے موقع پر وزےر اعلیٰ بلوچستان مےر عبدالقدوس بزنجو ‘صوبائی وزراءاراکےن اسمبلی اور دےگر نے پےغام دےتے ہوئے کہا کہ ےہ دن مزدوروں کے حوالے سے اےک اہم دن ہے اس دن 1886مےں مزدوروں نے قربانی دےکر مزدوروں کی فلاح و بہبود اور مزدوروں کے مسائل حل کرنے کےلئے شہادتےں نوش کےے جس پر آج پوری دنےا کی طرح پاکستان اور خاص کر بلوچستان کے عوام ان شہداءکو خراج تحسےن پےش کرتے ہےں انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت مزدور پالےسی پر ےقےن رکھتے ہےں اور اس سلسلے مےں جلد صوبائی اسمبلی سے مزدور پالےسی کا قانونی بل بھی منظور کرےنگے انہوں نے کہاکہ بلوچستان مےں بے روزگاری کے خاتمے اور عوام کو حقوق دےنے کےلئے سی پےک منصوبہ اےک اہم پروجےکٹ ہے جس سے بے روزگار عوام کو نہ صرف روزگار کے مواقع ملےں گے بلکہ بلوچستان کے تےن جگہوں پر انڈسٹرےل زون بھی بنائے جائےنگے جو بلوچستان کی خوشحالی اور ترقی کےلئے سودمند ثابت ہوگا ،انہوں نے عوام پر زور دےا کہ وہ بلوچستان کی تعمےر و ترقی اور دہشتگردی کےخلاف حکومت کے ہاتھ مضبوط کرےں موجودہ صوبائی حکومت عوام کو ماےوس نہےں کرےنگے ،درےں اثناءکوئٹہ پرےس کلب مےں مرکزی تقرےب آل پاکستان لےبر فےڈرےشن کے رہنماءلالا سلطان محمد خان ،جنرل سےکرٹری عبدالستار ،صوبائی چےئرمےن شاہ علی بگٹی نے شکا گو کے جانثاروں کو خراج عقدےت پےش کرتے ہوئے کہ اکہ آج 131واں ےوم مئی (مزدور دن) ہے ےکم مئی دنےا بھر کے با شعور محنت کشوں کا بےن الا اقوامی دن ہے جو 1886مےں امرےکہ کے صنعتی شہر شکا گو مےں محنت کشوں نے اوقات کار کم کرانے کےلئے صدائے احتجاج بلند کی تھی لےکن سرماےہ دارانہ اور جاگےر دارانہ نظام نے اس پر امن تحرےک کو ناکام بنانے کےلئے نہتے مزدوروں پر گولےوں کی بوچھاڑ کر کے سےنکڑوں محنت کشوں کو قتل کر دےا اور اس طرح خون سے سرخ پر چم محنت کش طبقے کی عظمت کا عالمی نشان بن گےا اور کام کا دورانےہ 16گھنٹے کے بجائے 8گھنٹے مقرر کےا گےا انہوںنے کہا کہ ےہ مزدور ہی ہےں جن کی شب و روز محنت سے ملک مےں خوشحالی آتی ہے لےکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی پاکستان مےں پرائےوےٹ اور پبلک اداروں مےں اےمپلائز (مالک) کی وہی صورتحال ہے جو اپنے اداروں مےں ٹرےڈ ےونےن کا وجود برداشت نہےں کر تا اور جہاں جہاں پر پہلے سے ٹرےڈ ےونےن کا وجود ہے وہ بھی آہستہ آہستہ اپنا وجود کھو رہا ہے کےونکہ ملک مےں بےک وقت چار لےبر قوانےن مرکزی و صوبائی کے نام سے موجود ہےں اےک طرف آٹھاروےں آئےنی ترمےم کے ذرےعے لےبر قوانےن کو صوبوں مےں منتقل کر دےا گےا ہے اوردوسری جانب مرکزی قانون بھی لا گو ہےں جس سے صوبائی سطح کے ٹرےڈ ےونےنز کا وجود خطرے مےں پڑھ گےا ہے جس کی وجہ سے محنت کشوں کو شدےد مشکلات کا سامان ہے انہوںنے بےروزگاری ،نجکاری ،مہنگائی کم اُجرت ،صحت وسلامتی کا فقدان ،چائلڈ لےبر،مائنز مزدوروں کو سوشل سےکورٹی مےں رجسٹرےشن نہ کرنے اور مالکان کی وےلفےئر اداروں مےں ٹےکسےز جمع نہ کرنے ،ظلم و بر برےت طبقاتی نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے انہوںنے کہا کہ ےکم مئی 2017کے جلسہ مےں درج ذےل قررادادےں منظور کروائی ۔آل پاکستان لےبر فےڈرےشن ےکم مئی کے اس جلسہ مےں حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہےں کہ آنے والے بجٹ مےں ملا زمےن کی تنخواہوں مےں خاطرخواں اضافہ کےا جائے اور اےڈ ہاک الاﺅنسز کو بنےادی تنخواہوں مےں ضم کےا جائے ،ملک مےں بے روزگاری ،مہنگائی ،ناانصافی ،طبقاتی نظام اور ظلم و زےا دتی کا خاتمہ کےا جائے ،ڈاﺅن سائزنگ اور رائٹ سائز نگ کے تحت بر طرف شدہ ملا زمےن کو بحال کےا جائے ،سرکاری و غےر سرکاری کنٹرےکٹ و ڈےلی وےجےز ملا زمے کو فی الفور رےگولر کےئے جائےں اور تمام ٹےکنےکل سٹاف کو اپ گرےڈ کےا جاء،حب اندسٹرےل زون اور صوبے مےں بندکار خانے فی الفور چلائےجائے اور بوستان و خضدار جو کہ انڈسٹرےل زون ڈےکلےئر ہو کے ہےں ان مےں فی الفور صنعتےں لگائی جائےں،ملک مےں پانچ لےبر قوانےن کو ےکجا کر کے اےک اور مزدور کےلئے فائدہ مند بناےا جائے ،پاک پی ڈبلےو ڈی کے ملا زمےن کو سنےارٹی کے مطابق پروموٹ کےا جائے اور ملا مزےن کے درےنہ مسائل کو حل کےا جائے ،ےہ جلسہ مطالبہ کرتی ہے کہ تمام ملازمےن کو سےکرٹرےٹ ملا زمےن کے طرز پر ےکساں مراعات دی جائے ،مائنز محنت کشوں کو سہولےات دےتے ہوئے تمام ڈےتھ گرانٹ ،اسکالرشپ ،مےرج گرانٹ کی ادائےگی فوری کےا جائے اور انہےں EOBIاور سوشل سےکورٹی مےں رجسٹرےشن کےا جائے ،رےٹائرڈ اور فوت شدہ سرکاری ملا زمےن کے لواحقےن کے تعےناتی مےں حائل رکاوٹوں کو دور کےا جائے ،اسٹےٹ لائف کارپورےشن کی نجکاری منسوخ کےا جائے اوربلوچستان کے مختص کردہ کو ٹے کے مطابق تعےناتےاں کی جائے ،ورکرز وےلفےئر فنڈ ،سوشل سےکورٹی اور ای او بی آئی کا دائرہ کار تمام مائنز مزدوروں تک بڑھاےا جائے ،آئےن کے تحت تمام وفاقی محکموں مےں بلوچستان کا مختص کوٹہ کےمطابق ملا زمتوں کا کوٹہ دےا جائے ،کےسکو ملا زمےن کو جاب سےکورٹی فراہم کےا جائے اور بورٹ آف ڈائرکٹر مےں کےسکو لےبر ےونےن کو نمائندگی دی جائے ،مذہبی تہواروں پر تمام ملازمےن کو اضافی تنخواہ دی جائے ، درےں اثناءلےا قت پارک مےں ےوم مزدور دن کے حوالے سے اےک بڑی تقرےب کا انعقا دکےا گےا جس مےں پاکستان ورکرز کنفےڈرےشن بلوچستان کے زےر اہتمام جلسہ عام سے صدر رمضان اچکزئی ‘چےئرمےن خان زمان ‘ معرف آزاد ‘بشےر احمد ‘قاسم خان ‘خےر محمد ‘حاجی عزےز اللہ ‘عابد بٹ اور دےگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1886اور اس سے پہلے مزدوروں کے ساتھ بڑی امتےازی سلوک بھرتی جارہی تھی جب مزدوروں نے دےکھا کہ ہمارے ساتھ سرماےہ دار اور جاگےردار ظلم کے پہاڑتوڑ رہی ہے تو ان مزدوروں اور نمائندوں نے سر جوڑ کر اس ظلم کےخلاف ےکم مئی1886کے دن اس وقت کے سامراجی حکومت اور بڑے کارخانہ داروں اور جاگےرداروں سرماےہ داروں کو اےک ڈےمانڈ پےش کےا کہ اگر ہمارے مطالبات پر غور نہ کےاگےا تو مزدور اپنے حقوق کے حصول کےلئے ےکم مئی1886کو امرےکہ کے شہر شکاگو مےں اےک پرامن مظاہرہ و جلوس نکالےنگے مطالبات تسلےم نہ ہونے پر مزدوروں نے ےکم مئی1886کو اےک پرامن جلوس امن کے جھنڈے سفےد رنگ کے ساتھ نکالا جس سے سامراجی حکومت اور ان بڑے بڑے سرماےہ داروں اور جاگےرداروں کو مزدوروں کا ےہ اتحاد ہضم نہےں ہوا انہوں نے ان نہتے مزدوروں پر اپنے بربرےت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر گولےوں کی بوجھاڑ کرلی اور اس طرح اگلے مزدور گرتے رہے ےہ سفےد امن کا جھنڈا مزدوروں کے خون سے سرخ ہوتا رہا ےہاں تک کہ سامراجی قوتوں کی گولےاں ختم ہوئی لےکن مزدوروں کے سےنے ختم نہ ہوسکے آخرکار سامراج نے مزدوروں کے سامنے گھٹنے ٹےک دےے اور مطالبات تسلےم کرلےے ان قربانی کی بدولت اوقات کار کو بھی تسلےم کےاگےا اور ڈےوٹی کے اوقات کا تعےن بھی ہوا مزدور رہنماءنے مزےد کہاکہ ےہ دن ہمےں سبق دےتی ہے کہ بغےر جدوجہد ہمےں کچھ نہےں ملے گا نہ ہی خود سے ہمارے مطالبات تسلےم ہونگے آخر مےں مقررےن نے ان غےور جان نثاروں کو ان کی جدوجہد پر سلام پےش کےا،درےں اثناءپاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان بھر تربت، نوشکی، قلات، خضدار، سبی، نصیر آباد، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ میں ہزاروں محنت کشوں نے جلسہ و جلوس اور ریلیاں نکالی ۔کوئٹہ شہر کے متعدد علاقوں سے یونینز نے ریلیاں نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی لیاقت پارک میں مرکزی جلسہ گاہ میں شامل ہوئے۔ اس عظیم الشان جلسے سے پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان کے رہنماﺅں محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، بشیر احمد رند،ضیاءالرحمن ساسولی،عبدالمعروف آزاد، محمد قاسم، حاجی عزیز اللہ،عابد بٹ ،عبدالحئی جانان خان کاکڑ اور دیگر نے 1886 ءکے جان نثاروں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1886 کے مزدوروں نے اپنی جان کی قربانیاں دے کر جس طرح ان جان نثاروں نے اپنے سفید جھنڈے کو سرخ بنا دیا انہی قربانیوںکی بدولت آج اوقات کار اور قانون سازی موجود ہے ۔ بد قسمتی ہے کہ آج مزدور تقسیم درتقسیم اور مجبوری کی زنجیروں میں جھکڑ کر نہ صرف دنیا بلکہ ہماری ملکی سطح پر بھی کمزور ہو گئے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف بے بسی کی زندگی گزارنے کی بجائے جدوجہد کرکے مزدور اور بے بس طبقات اپنا حق چھین لےں۔ اس کیلئے جان کی قربانی کی بھی ہمیں پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ملک میں قائم سرمایہ دارانہ آمریتی جمہوریت میں ناانصافیاں عروج پر ہے ۔ امیر، امیر تر ہو رہا ہے اور غریب، غریب تر ہو کر فاقہ کشی سے زندہ درگو ہو رہے ہیں ۔گزشتہ ہفتہ ایک بے روزگار باپ نے تنگ دستی سے مجبورہو کر خود سمیت اپنے بچوں کو قتل کرنا، اسی طرح میڈیا پر ایک غریب کو گھاس کھاتے ہوئے دکھایا جاناجیسے دیگر واقعات اس ملک میں شد و مد سے رونما ہو رہے ہیں۔ مراعات یافتہ طبقہ ووٹ بلٹ اور پیسوں سے خرید لیتے ہیں جبکہ اس ملک کا غریب اور محنت کش طبقہ بے بسی کے عالم میں ووٹ انہی ظالموں کو دے رہے ہیں جو بعد ازاں منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں اپنے اپنے خاندان کے افراد اور کنبے کے ساتھ براجماں ہو کر ملک کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام اور اپنے مفادات کے حصول کیلئے لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم رکھتے ہیںاسی طرح مےٹر پولےٹن کے سبزہ زار مےں مزدور دن کے حوالے سے منعقدہ تقرےب سے کنفےڈرےشن کے صدر عبدالسلام علی بخش جمالی ‘مےٹر پولےٹن کارپورےشن کے صدر حضرت خان ‘چےئرمےن ندےم کوکھر ‘پرفےسر آغا راحت ملک ‘اخبار فروشان کے جنرل سےکرتری مےر احمد بلوچ‘کامرےٹ نذےر مےنگل ‘خدائے رحےم اور دےگر نے خطا ب کرتے ہوئے کےا ملک میں ہر نوجوان مرد اور عورت کو روزگار دینے، 72 قوانین کو یکجا کر کے چھ قوانین بنانے ، مزدوروں کیلئے قائم اداروں ، اولڈ ایج بینیفٹ، ورکرز ویلفیئر فنڈ، سوشل سیکورٹی، محکمہ محنت ، این آئی آر سی اور اس قسم کے دوسرے اداروں سے کرپشن کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ محنت سے وابستہ ادارے محنت کشوں کو ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں کرنے کی بجائے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں حقیقی کنفیڈریشنوں، فیڈریشنوں اور یونینوں سے مشاورت اور رابطے کے ذریعے محنت کشوں کے مسائل کو معلوم کرکے ان کے حل کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو متحد ہو کرامن کی بحالی،کرپشن کے خاتمے، انصاف ،روزگار، تعلیم، صحت پینے کے صاف پانی،سرچھپانے کیلئے مکان ، جسم کو ڈھانپنے کیلئے کپڑے کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ مہنگائی کے تناسب سے ملازمین کی تنخواہیں ایک تولہ سونے کے برابر کرنے، بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں کم سے کم 50 فیصد اضافہ کرنے، نجکاری کو ترک کرکے اداروں میں پروفیشنل، ایماندار اور باصلاحیت لوگوں کو تعینات کرکے سیاسی بنیادوں پر فیصلوں کا خاتمہ کرنے، تمام فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو بھرتی کرنے، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے ذرائع پیدا کرنے، سی پیک منصوبے کو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے پہلے مکمل کرنے، کانکنی ،زراعت ، ماہی گیری اور دیگر شعبوں سے وابستہ مزدوروں کیلئے سیفٹی کے اقدامات کرنے، انھیں ٹریڈ یونین کا حق دینے، بے روزگاروں کی بھی ٹریڈ یونین بنانے، تمام انفرادی اور اجتماعی کام کرنے والوں کو ویلفیئر کے اداروں میں رجسٹریشن کا حق دینے، بیرون ملک ملازمتوں میں بلوچستان کے نوجوانوں کو ہنر مندی سیکھا کر ترجیح دینے، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرنے ، قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے، ریاستی اداروں کی بجائے تمام غیر ریاستی اداروں اور جتھوں کوغیر مسلح کرنے ، اسمبلی کے ممبران کو بھی شہر میں عام شہریوں کی طرح چلنے پھرنے کا پابند بنانے اور دیگر مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔1896میں شگاگو کے مزدورں نے اپنے حقوق کےلئے عظیم قربانیاں دی ہیں ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جن کی عظیم قربانیوں کی وجہ سے آج کا مزدور آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دے رہا ہے اور سامراجی طبقہ مزدوروں کے سامنے بے بس نظر آ رہا ہے انہوں نے کہاکہ مزدور اپنے حقو ق کے حصول کےلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں اور کہاکہ مزدوروں کی یومیہ اجرت میں سو فیصد اضافہ کیا جائے اور ہمارے بچوں کو معیاری تعلیم مفت فراہم کی جائے اور کہاکہ صعنت کاری سوچ رکھنے والے حکمرانوں نے مزدوروں کو مہنگائی کی چکی میں پیس ڈالاہے جن کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔درےں اثناءمزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے دنےا بھر کی طرح پاکستان ورکرز کنفیڈرےشن سبی کے زےر اہتمام سبی مےں ےوم مئی کے حوالے سے عظےم اےشان احتجاجی رےلی پاکستان ورکرکنفیڈرےشن ےونےن سبی مےں شامل تمام ٹرےڈ ےونےنز نے اپنے اپنے ضلعی دفاتر سے نکالی گئی رےلی مےں مزدور تنظےموں کے نمائندوں و کارکنوں نے شرکت کی شرکای نے ےوم مزدور کی مناسبت سے پلے کارڈز بےنرز اٹھا رکھے تھے جس پر مختلف نعرے درج تھے رےلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی جرگہ ہال سبی مےں احتجاجی جلسہ عام مےں بدل گئی احتجاجی رےلی وجلسہ عام قےادت پاکستان ورکرز کنفیڈرےشن سبی کے صدر محمد افضل کھوسہ کی جلسہ عام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ عبدالحیٰ نے حاصل کی نعت رسول مقبولﷺ حاجی رےاض ندےم نےازی نے خوبصورت انداز مےں پڑھی جبکہ اسٹےج سےکرٹری کے طاہر وکٹر سہوترانے سرانجام دئےے جلسہ عام سے محمد افضل کھوسہ ، سےد ےعقوب شاہ ،طاہر وکٹرسہوترا، محمد ےونس سولنگی ، محمد صلاح سےلاچی، سےف اللہ مگسی ، حاجی جمعہ خان ، مہراب خان خجک ، سہےل احمد ، حاجی صدےق لونی ، قادر بخش لونی ،اللہ رکھیہ سومرو ،خمیسہ خان،شاہ نواز چانڈیہ ، تھنگوخان ،محمد ہاشم چھلگےری،محمد شعےب خجک ،شفےق الرحمان رند، سلےم بنگلزئی وےگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ےکم مئی کو شکاگو کے مزدوروں نے جو قربانیاں دےں ہم ان کو کبھی رائےگان نہےں جانے دےں گے شکاگو کے مزدوروںکی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پےش کرتے ہوئے ہم ان کی قربانیوںکو سلام پےش کرتے ہےں مزدوروںکے حقوق کےلئے شکاگو کے مزدوروں نے دنےا کےلئے تارےخ رقم کی جو مزدوروں کےلئے مشعل راہ ہے مقررےن نے کہا کہ آج مزدور طبقہ کئی مسائل کا شکار ہےںسبی سمےت بلوچستان بھر کے مزدوروں انتہائی کسمپری کی حالت مےں زندگی بسر کررہے ہےں مزدوروں کی تنخواہ انتہائی کم ہے مہنگائی کے اس دورمےں گزار کرنامشکل ہوتا جارہے ہے سارا سال کروڑوں روپے کی کرپشن لوٹ مار کرنے والے سےاسی نمائندوں کو جب بجٹ مےں مزدوروں کی تنخواہوںمےں اضافہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو ےہ ہی لوگ قومی خزانہ خالی ہونے کا رونا روتے ہے باری باری حکمرانی کرنے والوں کو صرف اپنے مفادات عزےز ہے ملک کے عوام اور ملازمےنوں کے مسائل مشکلات سے کو ئی سروکار نہےں مزدوروںکا آج بھی استحصال روز اول کی طرح جاری ہے شکاگو کے شہدا کی ےاد مےں مناےا جانے والد دن مزدوروں کو اپنے حقوق کےلئے متحد ہوکر جدوجہد کا سبق دےتا ہے دنےا کی اےک فیصد آبادی 45فیصد وسائل پر قابض ہے زرائع پےداوار پر مزدور طبقے کا حق تسلےم کیا جائے تو حالات تبدےل ہوسکتے ہے موجودہ استحصالی نظام کے پاس عوام اور مزدوروں کو دےنے کےلئے بھوک اور مفلسی کے سوا کچھ نہےں مقررےن نے کہا کہ سبی کے سرکاری ملازمےن کے ساتھ مزدور کش روےے کی مذمت کرتے ہےںاب ہمےں مل کر افسرشاہی کی غنڈہ گردی کے خلاف جنگ کرنا ہے شکاگو کے مزدوروں کی قربانی کو ےاد رکھتے ہوئے اتحاد واتفاق کو قائم رکھےں گے مقررےن نے کہا آئےن اور سپرےم کورٹ کے فےصلے کے مطابق تمام قوانےن صوبوں کے حوالے کئے جائےں مزدوروں کی تنخواہوں مےں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کےا جائے ملک مےں نجکاری کا سلسلہ بند کرکے اداروں مےں سےاسی مذاخلت کا خاتمہ کےا جائے اور کرپشن لوٹ مار کلچر کا خاتمہ کرکے اہل اےماندار اور محنتی لوگوں کو مےرٹ اور شفاف طریقے کے مطابق اداروں مےں بھرتی کےا جائے مقررےن نے کہا کہ آج کا دن ہمےں عہد کرنا ہوگا کہ ہم آپس کے اختلافات کو بھول کر مزدوروں کے حقوق کےلئے ےک جان ہوجائےں گے مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے کےلئے ہمےں اتفاق و ارتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا ، جلسہ مےںحاجی رمضان اچکزئی سمےت تمام صوبائی و مرزکی قائدےن پر مکمل حماےت کا اظہار بھی کےا گےا جلسہ عام مےں عہد کےا گےا کہ مزدوروں کے حقوق کے حصول تک چےن سے نہےں بےٹھےں گے بعدازاں جلسہ عام مےں کئی قراردابھی پےش کی گئی واضح رہے کہ ےوم مئی کی مناسبت سے پاکستان واپڈاہائےڈروےونےن ، رےلولے محنت کش، رےلوے لےبر ےونےن، ، وطن ٹیچرزاےسوسی اےشن، پےرا میڈیکل اسٹاف اےسوسی اےشن، ،لائےوسٹاک ےونےن ،آل پاکستان کلرکس اےسوسی اےشن، رےڑی ےونےن، نوپ ، مےونسپل اےمپلائزےونےن دےگر اےمپلائز ےونےن سمےت پاکستان ورکرز کنفےڈےشن مےں شامل مزدور تنظےموں نے اپنے اپنے ضلعی دفاتر سے احتجاجی رےلیاں نکلی اور مزکری جلوس مےں شامل ہوئےں اس موقع پر سی پولےس کی جانب سے سےکےورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے اور پولےس کی بھاری نفری رےلیاں و جلسہ عام کی حفاظت پر مامور تھی ۔درےں اثناءجیکب آبادمیں محنت کشوں کے عالمی دن پر مختلف تنظیمون کی ریلیاں ٹاﺅن ہال میں تقریب کاانعقاد تفصیلات کے مطابق محنت کشوں کے عالمی دن پر سندھ تعمیرات ورکس یونین کی جانب سے سید اچھن شاہ ،ڈاکٹر نورخارانی کی قیادت میں پھول باغ محلہ سے جبکہ اناج منڈی سے منڈی یونین کے صدر حاجی معشوق خارانی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس میں مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ ٹاﺅن ہال میں محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کاانعقاد کیاگیا جس سے رکن قومی اسمبلی میر اعجازحسین جکھرانی ،رکن سندھ اسمبلی میر زیب خان پہنور ،پی پی کے ضلعی صدر میر لیاقت لاشاری ،عارف دایو اوردیگر نے خطاب کیا اس سے قبل گزشتہ شب میر لیاقت لاشاری کی قیاد ت میں محنت کشوں نے ریلی نکال کر ڈی سی چوک پر شمع روشن کیںاورمحنت کشوں کی جدوجہد کوخراج تحسین پیش کیا۔درےں اثناءملک بھر کی طرح صحبت پورمیں بھی یکم مئی یوم مزدورمنائی گئی ۔مزدوریونین صحبت پور کے صدرمحمداقبال عباسی کی قیادت میں میں بازارصحبت پور سے ایک بہت بڑی ریلی نکالی گئی ۔ریلی میں پاکستان لیبرفیڈریشن کے مرکزی رہنماﺅں ،ضلع صحبت پور کے مزدوروں اورٹریڈیونین کے لوگوں نے کثیرتعدادمیں شرکت کی ۔اورگورنمنٹ بوائز ہائی سکول صحبت پور کے ہال میں ایک پُروقارتقریب منعقدکیاگیا۔تقریب کے مہمان خاص سابق صوبائی وزیررکن صوبائی اسمبلی میراظہارحسین خان کھوسہ تھے۔اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میراظہار حسین خان کھوسہ،آل ملازمین اتحاد کے صدرمشتاق احمدبلیدی،پاکستان لیبرفیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری محمداسلم لاشاری، مستری مزدوریونین کے صدرمحمداقبال عباسی ،عبدالرحمنٰ پرکانی،محمدحسین گولہ،محمدعلی بمبل ودیگرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1886میں شکاگو کے مزدور اپنے حقوق کی حصول کی خاطر یکجا ہوئے تو وہاں کے حکمرانوں کو مزدوروں کی یہ بات راس نہ انہوں نے ان پر بہمانہ ظلم کیا اور ہزاروں مزدورشہیدہوئے۔ہم انکی قربانیوں کو سُرخ سلام پیش کرتے ہیں۔رکن صوبائی اسمبلی میراظہارحسین کھوسہ نے مزید کہا کہ آج مزدوروں کو ان حقوق نہیں دیئے جا رہے ہیں۔ان کی مزدوری کی اُجرت اتنی کم ہے کہ ان گزربسر مشکل ہورہا ہے۔مزدورکی مزدوری بڑھائی جائے اور انہیں سہولیات دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی اجلاس میں آوازاُٹھاﺅں گا کہ مزدورکی یومیہ مزدوری بڑھائی جائے ۔اورانہیں وہ سہولیات دی جائے جو ان کا بنیادی حق ہے۔آج مزدوراپنے بچوں کو بہترتعلیم وبہترپرورش نہیں کرسکتے ہیں۔دوسروں کے محل ،بنگلے اوربلڈنگز بنانے والوں کو خود اپنے بچوں کیلئے چھت تک میسرنہیں ۔حکومت بلوچستان محکمہ لیبرضلع صحبت پور کے مزدوروں کیلئے جلدازجلد لیبرکالونی بنائے تاکہ ان مزدوروں کو رہنے کیلئے گھرمیسر ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ مزدوراللہ کے دوست ہیں ۔نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ مزدورکی مزدوری اسکے پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکی جائے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو وہ ہاتھ پسند ہیں جو محنت مزدوری کی روٹی خودکھاتے ہیں اور اپنے بچوں کو حلال کی روٹی کھلاتے ہیں۔اسی طرح بلوچستان کے دےگر علاقوں ژوب،خضدار،چمن،قلعہ عبداللہ ،دکی نصےرآباد،جعفرآباد ،پنجگور اور دےگر علاقوں مےں ےوم مزدور نہاےت احترا م و عقےدت کے ساتھ مناےا گےا اور ان غےور جان نثاروں کو ان کی جدوجہد پر سلام پےش کےا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*