مزدور کی زندگی

تحریر : عبدالجبار خان دریشک
پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنانے والے ہاتھ کسی بادشاہ یا حکمران کے نہیں ہوتے ، اور زمین کا سینہ چیر کر فصل آگانے والے ہاتھ جاگیردار کے نہیں ہوتے ، کارخانوں سے تیار ہو کر نکلنے والے مال سیٹھ کے ہاتھوں سے نہیں بنا ہوتا، ہمارے اردگرد موجود ہماری ضروریات کی تمام اشیاءگاڑیاں ، بسیں ، عمارتیں ، سٹرکیں سب ایک محنت کش کے ہاتھ سے بنے ہیں جن کو ہم اپنے استعمال میں لاتے ہوئے آرام دے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہمیں بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ اسے فلاں دوکان سے خرید ہے اور اسے کیسے استعمال کرنا ہے، ہم اس چیز کے فائدہ حاصل کرتے ہوئے اس اور کمپنی کی تعریف ضرور کرتے ہیں اور ہم فخر سے یہ بھی کہتے ہیں کہ اسے اتنے میں خرید لائے ہیں۔ لیکن ہم نے اس پر کبھی غور نہیں کیا ،کہ اس کو بنانے والے انسان اسے خود بھی استعمال کرتے ہوں گے میرے خیال میں کبھی نہیں ، کیونکہ وہ ہاتھ محنت کش کے ہوتے ایک دہاڑی دار مزدور کے ہوتے ہیں جسے شام کو مزدوری ملے گی جس سے وہ دو تین کلو آٹا خریدے گا اور اس کے بچے چند نوالے کھا کر رات بھر سکون سے نیند کریں گے۔
ہم ہر سال یوم مزدور مناتے ہیں ان کے حق کی فرضی اور بناوٹی باتیں کرتے ہیں تحریریں لکھتے ہیں لیکن ہم ایک مزدور کے دکھ تکالیف کو محسوس نہیں کر سکتے جس سے وہ گزر رہا ہوتا ہے ایک مزدور کو اس بات کی فکر رات سے ہی لگ جاتی ہے کہ صبح کسی تھڑے و اڈے پر جائے گا وہ اس چوک اور تھڑے والی جگہ پر بچوں کی دال روٹی کی خاطر زمین پر بیٹھ کر کسی سیٹھ کسی بابو کا انتظار کرے گا۔ جب اس کے ارگرد بیٹھے ساتھی ایک ایک کر ڈہاڑی پر جانا شروع ہوں گے اور جوں جوں سورج بلند ہونا شروع گا اس کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں گی پھر اسے فکر کھائے جائے گی کہ شام کو خالی ہاتھ کیسے گھر جاو¿ گا۔
اکثر ہم نے دیکھ ہے چوک چوہارہوں میں بیٹھ مزدورں کے ساتھ کم دہاڑی دینے کی تکرار میں لگے سیٹھوں کے منہ سے جھاگ نکل رہا ہوتا ہے کسی طرح اس مزدور کو کم اجرت پر راضی کر لیاجائے ، جب سارے مزدور ایک ایک کر چلے جاتے ہیں تو بچ جانے والے بچارے مزدوروں کو کم اجرت پر لے جانے والے سیٹھ کا دل خوشی میں جھوم رہا ہوتا ہے لیکن اسے یہ احساس کبھی نہیں ہوتا کہ اس کم اجرت میں بچارہ ایک مزدور کیسے بچوں کی دال روٹی پوری کرے گا۔ مزدور کی زندگی مزدوری سے شروع ہوتی ہے اور مزدوری کرتے کرتے ایک ایک دن زندگی ہی ختم ہوجاتی ہے پر کسی مرنے والے مزدور کی نہ ہمیں فکر ہوگی نہ ہی ریاست کو ، ہم پیسے والے سیٹھ ہیں کل کو کوئی اور مزدور دہاڑی پر لے آئیں گے۔
ہمارے علاقے میں رہنے دو مزدور بھائیوں کی زندگی کا خاتمہ رزق حلال کی تلاش میں جاتے ہوا تھا دونوں صبح سویر مزدوری کے لیے نکلتے ہیں کہ کسی ظالم نے دونوں کو گاڑی کی ٹکر ماری دی جبکہ ٹکر مارنے والا بدبخت موقع سے فرار ہوگیا۔ ایک بچارے کی موقع پر موت ہو گئی دوسرا چند دن بعد ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں لڑتا رہا لیکن زندگی نے مزید مہلت نہ دی اور وہ بھی ہسپتال میں چل بسا، حادثہ اتنی صبح سویر ہوا کہ کسی کو کچھ خبر نہیں ہوئی کہ ان کی کس چیز کے ساتھ ٹکر ہوئی، حادثے تھوڑی دیر بعد لوگ جمع ہوئے تو ان کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی ، دونوں بھائی گھر سے چار روٹیوں کے درمیان اچار کی ڈالیاں رکھے رومال میں باندھ کر اسے اس امید پر ساتھ لے جا رہے تھے کہ دوپہر کو کچھ دیر کے ملنے والے ریسٹ میں یہ روکھی سوکھی روٹی کھا کر سیر ہوجائیں گے تو باقی آدھے دن کا کام بھی آسانی سے ہو جائے گا۔ پر وہ روٹیاں ان کے نصیب میں نہ تھیں۔ ان میں سے ایک کے آٹھ بچے جبکہ دوسرے کے چار بچے ہیں۔ ایک کے بڑے بیٹے نے پڑھائی چھوڑ کر مزدوری شروع کردی ہے ، آج وہ بھی اپنے باپ کی طرح دو سوکھی روٹیوں میں اچار کی ڈالیاں رکھ کر مزدوری پر جاتا ہے۔ ان مزدور کے بچے کس حال میں زندگی بسر کرتے ہیں یوم مزدور منانے والوں کو کچھ پتہ نہیں۔
یوم مزدور منانے والے ریلیاں نکلنے والے فوٹو سیشن کرنے والے ، سلفیاں بنانے اور تقریبات میں پیس برگر کھانے والے ، اور میرے جیسے کالم لکھنے والا بند مزدور کی مشکلات اور پرشانیوں کو محسوس نہیں کر سکتا ، مزدور جس حال میں زندگی بسر کرتا ہے شاید ہم باتوں میں تو آسانی سے بیان کر سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں لیکن تکلیف کا اسے پتہ جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے ، کبھی اس کے پاس آٹے کے پیسے نہیں تو کبھی بیوی بچے بیمار ، کبھی یہ پریشانی تو کبھی وہ پریشانی حکومت کی طرف سے مزدور کی اجرت بڑھانے کا اعلانات تو ہوتے ہیں لیکن اس بچارے مزدور کو فیکٹری و مل مالک اور ٹھیکدار وہ اجرت نہیں دیتا ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مزدور کا خون اچھی طرح سے چوس لیا جائے تاکہ اسے جلدی چلتا کرے اس کی جگہ دوسرا مزدور لے آئے ، ملک میں ویسے بھی بے روزگاری میں دن بدن آضافہ ہورہا ہے ، بجلی کے بحران نے کئی مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے دوسرا ملک میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے بھی غریب کو غریب تر بنا دیا ہے آج دور میں سرمائے کا کھیل ہے ، سرمایہ دار جب چاہے مزدور و محنت کش کو نکال دے اس کی مرضی وہ کام بند کر دے پھربھوک کی وجہ سے اسے کم اجرت میں مزدور مل بھی ملے جاتے ہیں لیکن بات احساس کی رہے جاتی ہے کہ اس مفاد پردی اور مادی زندگی میں ہم دوسروں کا حق آسانی سے کھا لیتے ہیں۔
ملک میں موجودہ حکومت اپنے آخری ایام میں ہے اور اقتدار سے جدائی کے غم میں حکمرانوں نڈھال ہیں لیکن اس پانچ سال کے عرصے میں مزدور کو نہ بہتر روز گار ملا نہ ہی اسے کسی قسم کا تحفظ ، ایک طرف مزدور کو بہتر سہولیات دینا ریاست کی ذمہ داری ہے تو باحیثیت معاشرے کے فرد کے ہمیں مزدور کا احساس بھی کرنا ہوگا اسے بھی اپنے جیسا انسان سمجھنا ہوگا ، اور کچھ نہیں کر سکتے تو مزدور سے اس اجرت سے زیادہ کام نہ لیں پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے اجرت ادا کردیں جس کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ارشاد فرمایا ہے اس سے نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ یقین جانیں ایک مزدور کی دعا جب لیں گے تو اللہ پاک آپ کے کام میں بھی آسانیاں پیدا فرمائے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*