اب کسی صورت نا اہل وزیراعظم کےساتھ ہاتھ نہیں ملاﺅنگا ،آصف زرداری

اسلام آباد ( یوپی آئی)سابق صدر آصف علی زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے انھیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراو¿ کے لیے محاذ بنانے کا مشورہ دیا تھا مگر جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکر لی تو نوازشریف نے ان کے ساتھ ہاتھ کردیا اور خود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اس لیے اب وہ کسی صورت نوازشریف کے ساتھ ہاتھ نہیں ملائیں گے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کار میں بہتری کے لیے وہ کوشاں ہیں کیونکہ۔ماضی میں انھیں مقتدر اداروں کے ساتھ ٹکراو¿ کی۔بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے لاہور میں پارٹی کے سینیئر رہنماو¿ں کے ساتھ مشاورت میں پہلی بار پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی۔کہانی سنائی اور کئی رازوں سے پردہ اٹھایا اور کہا۔کہ۔وہ۔سابق صدر مشرف کا ٹرائل کرنے کے لیے تعاون کر رہے تھے مگر نواز حکومت نے انھیں بیرون ملک بھجوا دیا۔ذرائع کےمطابق آصف زرداری نے نوازشریف سے دوریوں کے راز کھولتے ہوئے بتایا کہ نوازشریف نے مجھے ہرموقع پراسٹیبلشمنٹ سے لڑاکرخودہاتھ ملایا، میں نے مشرف کے مواخذے کااعلان کیا تو نوازشریف پیچھے ہٹ گئے۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف نے پرویز مشرف پرغداری کا مقدمہ بنایا تو ہم نے ساتھ دیا، نواز شریف نے یقین دلوایا وہ پرویزمشرف کوجانے نہیں دیں گے، میں نے مشرف کو جانے نہ دینے کا بیان دیا تو نوازشریف نے انہیں باہر بھجوادیا، پتا چلا نوازشریف مجھے یقین دلوانے سے پہلے مشرف پر ڈیل کرچکے تھے۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر کا کہنا تھا کہ اینٹ سے اینٹ والا بیان بھی نوازشریف کی ایسی ہی چال میں آکر دیا تھا۔ آصف زرداری نے کہا کہ میرے بیان کا فائدہ لےکر نوازشریف نے راحیل شریف سے معاملات سیدھےکرنےکی کوشش کی، نوازشریف اپنے قریبی افسر فواد حسن فواد کے ذریعے مجھے بہکاتے رہے، ہم نوازشریف کو جتنا بھولا سمجھتے ہیں وہ کہیں زیادہ چالاک اور موقع پرست ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت، آئین اور سویلین بالادستی کی نیت سے ہاں میں ہاں ملاتے رہے، ہم سیاست اور نوازشریف تجارت کرتے رہے، انہوں نے ہمیں ہر موقع پر بیچا اور ہم ہر بار ان کے دھوکے میں آئے۔پی پی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں سیاست سے ہٹ کر نوازشریف سے سماجی تعلقات رکھنا چاہ رہا تھا، نواز شریف نے میری نیک نیتی کا فائدہ اٹھایا، سندھ میں نیب اور دیگر اداروں سے کارروائیاں بھی نوازشریف کے کہنے پر ہوئیں، نواز شریف اب بھگتیں،اب کسی صورت ہاتھ نہیں ملاو¿ں گا۔ انہوں نے کہا کہ شروع کے چند ماہ۔ںوازشریف ان کے ساتھ بہتر انداز میں چلتے رہے مگر بعد ازاں انہوں نے اپنا رنگ بدل لیا اور ہمارے خلاف چالیں چلنا شروع کر دیں زرایع کے مطابق آصف زرداری کا۔کہنا تھا کہ۔نوازشریف کسی صورت اب اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ نہیں اور ہم۔نے بھی عوامی۔مزاج کی سیاست کا فیصلہ کیا ہے وہ کسی بھی ادارے پر بے جا تنقید کرکے پیپلز پارٹی کی پوزیشن خراب نہیں کرنا چاہتے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*