تازہ ترین

یہ حربہ بھی ناکام ہو گیا !

تحریر:جاوید صدیق
مقبوضہ کشمیر کی تازہ خبر یہ ہے کہ کرفیو کے 24 ویں روز بھی کشمیری ڈٹ کر پابندیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اب تین کے ٹولے مودی، امت شاہ اور اجیت ڈووال نے کرفیو میں روزانہ دو گھنٹے کی نرمی کرنا شروع کر دی ہے۔ کشمیری دو گھنٹوں میں صرف احتجاج کیلئے باہر نکلتے ہیں۔ پاکستان کے جھنڈے اٹھائے مودی اور اس کی حکومت پر لعن طعن کر کے واپس گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ پر امن احتجاجی جلوسوں پر بھارتی فوج پیلٹ گنز سے فائر کر کے انھیں زخمی کر رہی ہے۔ گھروں پر چھاپے مار کر کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے انھیں غائب کر دیا جاتا ہے۔ غیر خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق 8 ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو گرفتار کر کے یا تو مقبوضہ کشمیر میں حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے یا پھر انھیں بھارت کے دوسرے شہروں کی جیلوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔
اس وقت چونکہ ساری دنیا کی نظریں مقبوضہ کشمیر پر ہیں اس لئے تین کا ٹولہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ حالات نارمل نظر آئیں اور دنیا کو تاثر دیا جائے کہ کشمیر بالکل نارمل ہے، ہر چیز معمول کے مطابق ہے۔ سکول اور سرکاری دفتر کھولے جاتے ہیں لیکن یہ سارے سکول اور دفاتر بھوت بنگلے بن گئے ہیں۔ کشمیری اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے اور نہ ہی کوئی دفتروں میں ڈیوٹی دینے کیلئے ملتا ہے۔
اب قابض انتظامیہ نے کشمیری نوجوانوں کو نوکریوں کا لالچ دینا شروع کر دیا ہے۔ 17 ہزار سرکاری آسامیوں کا اشتہار دیا گیا ہے جن کی تنخواہیں بہت پرکشش ہیں لیکن کوئی بھی کشمیری ان نوکریوں کیلئے درخواست دینے پر تیار نہیں۔ 18 ہزار کشمیری نوجوانوں کو کاروبار کیلئے پیسوں کی پیشکش کی جا رہی ہے، کشمیری نوجوان ان تین کے ٹولے کا ہدف ہیں۔ اس ٹولے کا خیال ہے کہ تحریک آزادی نوجوان چلا رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کو روپے پیسے کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا جا سکتا ہے لیکن کشمیری نوجوان جن کے خون میں آزادی کا جذبہ شامل ہو چکا ہے، اس قسم کے لالچ میں آنے کیلئے تیار نہیں۔ مودی حکومت سمیت اس سے پہلے کی بھارتی حکومتیں کشمیریوں کو پرکشش معاشی پیکج دے کر خریدنے کی کوشش کر چکی ہیں، نئی دہلی میں بیٹھی حکومتوں کو ان کے مشیر یہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ معاشی مسئلہ ہے، اس لئے کشمیریوں کو پرکشش مراعات اور ترغیبات دے کر خریدا جا سکتا ہے۔
اربوں روپے کے معاشی منصوبوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے لیکن کشمیری نوجوانوں نے ان سب پیش کشوں کو ٹھکرا دیا ہے، نریندر مودی نے اپنے پچھلے دورِ حکومت میں سرینگر کے کئی دورے کئے اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا لیکن کشمیر میں تحریک آزادی زور پکڑتی گئی، آزادی کی تیز ہوتی ہوئی تحریک کو کچلنے کیلئے مودی نے آرٹیکل 370 اور 35 A کو ختم کر کے مقبوضہ علاقے کو اپنا حصہ قرار دیا۔ اس کے خلاف کشمیریوں نے پورے کشمیر میں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے حتیٰ کہ اہم کشمیری سیاستدان جو بھارت نواز تھے اور جن کے ذریعے نئی دہلی کشمیر پر راج کر رہا تھا، انھوں نے بھی اب ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی اور اس قبیل کے دوسرے کشمیری لیڈر اب مزاحمت پر اتر آئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں اب سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ صورہ کا علاقہ تازہ تحریک مزاحمت کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ علاقہ شیخ عبداللہ، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کا علاقہ ہے۔ اس علاقے کو پرو انڈیا سمجھا جاتا تھا، لیکن اب صورہ تحریک آزادی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں سب سے زیادہ مزاحمت ہو رہی ہے۔
بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ سید علی گیلانی کا علاقہ اور میر واعظ عمر فاروق کی جامع مسجد اور دوسرے علاقے پہلے تحریک آزادی کا مرکز سمجھے جاتے تھے لیکن اب تو ہندوستان نواز سیاستدانوں کے گھر آزادی کی تحریک میں آگے آگے ہیں۔ موجودہ تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اور اسے کمزور کرنے کیلئے جتنی بھی چالیں بھارت چل رہا ہے، وہ الٹی پڑ رہی ہیں۔ کشمیری اب آزادی لے کر ہی رہیں گے !
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*