تازہ ترین

یورپی یونین کی اطلاعات پاکستان دشمن لابیوں کے پراپیگنڈہ پر مبنی ہیں ،حافظ اشرفی

اسلام آباد (این این آئی)ملک بھر کے علماءو مشائخ اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کے قوانین اور اسلامک فوبیا پر وزیر اعظم پاکستان کا موقف پاکستانی قوم اور امت مسلمہ کی ترجمانی ہے،یورپی یونین کی اطلاعات پاکستان دشمن لابیوں کے پراپیگنڈہ پر مبنی ہیں ، توہین ناموس رسالت و توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے،جبری مذہب کی تبدیلی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے ، شریعت اسلامیہ جبراً کسی کو مسلمان بنانے یا مذہب کے نام پر خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات اب نہیں ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے تمام مذاہب و مسالک کے ماننے والے حکومت کے موقف کے ساتھ ہیں۔ پاکستان میں توہین مذہب و توہین ناموس رسالتکے قوانین پر اقلیتوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے،کسی کو بھی مذہب کے نام پر خوف پھیلانے کی نہ اجازت دی جا سکتی ہے اور نہ ہی شریعت اسلامیہ اس کی اجازت دیتی ہے۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماءکونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز،پیر نقیب الرحمن ، علامہ افتخار حسین نقوی، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ سید ضیاءاللہ شاہ بخاری، جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی ، صوبائی وزیر اوقاف پنجاب صاحبزادہ سعید الحسن شاہ، مولانا محمد خان لغاری ، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی محمد زبیر ، پیر روح الامین، پیر آف مانکی شریف، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ، مولانا اسد زکریا قاسمی ،مولانا محمد شفیع قاسمی ،قاری محمد حنیف بھٹی ، علامہ طاہر الحسن، علامہ غلام اکبر ساقی، مولانا قاسم قاسمی، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا اسلم صدیقی اور دیگر علماءو مشائخ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن ، سلامتی اور اعتدال کا دین ہے۔ دین اسلام کا دہشت گردی اور انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہ ہے۔ توہین ناموس رسالت و عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی بنیادی اساس ہے ، پاکستان میں اسلامی دفعات ، عقیدہ ختم نبوتو ناموس رسالتکے قانون میں دفعات سے بہت سارے فسادات ختم ہوئے ہیں اور بہت سارے بے گناہ محفوظ ہیں۔ پاکستان کی عدلیہ توہین ناموس رسالت و توہین مذہب کے کیسوں کے معاملے پر عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ پاکستان کی عدلیہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ان کیسوں میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ اسلامک فوبیا، توہین مذہب و ناموس رسالتکے معاملہ پر وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موقف کی تمام اسلامی ممالک ، اعتدال پسند تنظیمیں اور انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے معتبر ادارے تائید کر رہے ہیں،یورپی یونین ، امریکہ ، برطانیہ کے ذمہ داران کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان آ کر حقائق کو دیکھیں ، پاکستان دشمن لابیوں کے ذریعے کیے جانے والے پراپیگنڈہ سے متاثر نہ ہوں،پاکستان کے تمام مسالک و مذاہب کے قائدین حکومت کی تائید و حمایت سے بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کوشاں ہیں۔پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو آئین پاکستان نے مکمل حقوق دے رکھے ہیں اور مسلمانان پاکستان بھی اپنے غیر مسلم پاکستانی بھائیوں کے حقوق کے محافظ ہیں۔یورپی یونین ، امریکہ ، برطانیہ میں موجود اداروں اور شخصیات کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ مسلمانوں کا رسول اکرم سے محبت کا تعلق ہر چیز سے زیادہ ہے اور کسی بھی مقدس شخصیت یا آسمانی مذہب کی توہین آزادی اظہار نہیں بلکہ نفرت انگیزی پر مبنی کہلاتی ہے۔ دریں اثناء چیئرمین پاکستان علماءکونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ عید الفطر کے فوراً بعد اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالت کے معاملہ پر اہم عالمی اسلامی قائدین کے اجلاس کے سلسلہ میں مشاورت جاری ہے جس میں ان تمام امور پر ایک مشترکہ اور متفقہ موقف امت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*