تازہ ترین

ہڑ تا لیں اور احتجا ج مسئلے کا حل نہیں ہے

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی مسئلے کاحل ہڑ تا لو ں اور احتجا ج کرنے میں ہر گز نہیں ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے بھی ان خیا لا ت کا اظہا ر گذشتہ رو ز ایک ویڈ یو پر و گر ام کے ذ ر یعے خطا ب کر تے ہوئے کیا کو رونا وا ئر س کے تیز ی سے پھیلنے کے حوالے سے انہوں نے عو ام سمیت تما م طبقا ت سے سا تھ دینے کا کہا ہے ہم اپنے آپ کو نقصان کی طر ف لے کر جا رہے ہیں اگر کچھ دن محتا ط اند از میں زند گی گز ار لیں تو بہت سے نقصانا ت سے بچ سکتے ہیں کو رونا کی پہلی لہر میں جس طر ح دوسرے مما لک متا ثر ہوئے حکومت اور عو ام کے تعا ون سے پاکستان اور بلوچستان میں یہ وبا ءنہیں پھیل سکی انہوں نے عو ام کو مشو رہ دیا کہ عو ام 15 سے 20 دن گھر وں میں رہ کر احتیا ط کریں اور عید سا د گی سے منائیں اگر زند ہ ہوں گے تو کا رو با ر بھی چلیں گے اور خر ید ار ی بھی ہو گی کو رونا وا ئر س کی تیسر ی لہر تشو یشنا ک حد تک بڑھ گئی ہے اگر وباءپر قا بو نہ پا یا گیا تو ہسپتا ل میں مر یضوں کو رکھنے کی جگہ نہیں ہو گی۔
اس وقت کو رونا وا ئر س کی جو تیسر ی خطرنا ک لہر آئی ہوئی ہے اس سے رو ز بر و ز جانی نقصانا ت زیا دہ ہو رہے ہیں لیکن افسو س کی با ت ہے کہ یہاں پر تا جر و ں کو جا نوں کی پر واہ نہیں بلکہ وہ کا رو با ر کا رونا رو رہے ہیں اس سلسلے میں گذشتہ دنو ں ایک ما رکیٹ میںوا قعہ بھی پیش آیا ہے جس کو ایشو بنا کر تا جر آئے رو ز نئے نئے بیانا ت اور دھمکیا ں دے رہے ہیں جو کہ مسئلے کا حل با لکل نہیں ہے کیو نکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے بھی اپنے مذکو رہ بیان میں صو ر تحال وا ضح کر دی ہے جس پر تا جر و ں کو سو چنا چا ہیئے کیو نکہ یہ با ت حقیقت پر مبنی ہے کہ زند گی بہت ہی قیمتی شے ہے جو ایک ہی مر تبہ ملتی ہے اس لیے اس پر کوئی کمپر و ما ئز نہیں کرنا چا ہیئے۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ عو ام اور خصو صاً تا جر کو رونا کی حا لیہ تیسر ی خطر نا ک لہر کا ڈٹ کر مقا بلہ کر نا چا ہیئے اس کو سنجید ہ لیتے ہوئے اپنی زند گی بچا نے کے لیے اقد اما ت کرنے چا ہئیں زند گی ہو ئی تو کا رو با ر بھی ہو گااور اگر خد ا نخو استہ یہ ہی نہ رہی تو پھر کیا ہو گا؟جیسا کہ کو رونا وا ئر س کی پہلی لہر کے دو ران عو ام اور دیگر تما م سٹیک ہو لڈر ز نے حکومت کے سا تھ تعا ون کیا تھا اور جس کے نتیجے میں کو رونا وا ئر س کے کیسز کی تعد اد کم اور اس میں امو ات بھی زیا دہ نہیں ہوئی تھی حالا نکہ اس کے مقا بلے میں دیگر مما لک میں بہت ہی زیا دہ نقصان ہو ا تھا اس لیے ایک مر تبہ دو با رہ عو ام اور تما م سٹیک ہو لڈر ز کو اس با ر وہی عمل دہر انا پڑ ے گا جو کہ نہا یت ہی نا گز یر اور سب کے مفا د ا ت میں بہتر ہے اس پر عو ام خصو صاًتاجروں کو غو ر کرنا چا ہیئے اور اس موذی مر ض سے بچا ﺅ کے لیے ایس او پیز پر عمل در آمد کرنا چا ہیئے جو کہ نہا یت ضروری ہے ا سے غیر سنجید ہ نہیں لینا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*