تازہ ترین

ہندوستان ہمیں مولو مصلی کیوں بنانا چاہتا ہے

اسد اللہ غالب
میں ڈاکٹر امجد ثاقب کا مشکور ہوں جنہوںنے مجھے میری اوقات یاددلا دی۔ ان کی کتاب مولی مصلی آئی تو میںنے اس نام پر سخت اعتراض کیا۔ ڈاکٹر صاحب مجھ سے پہلے ہی ناراض تھے۔ اب اور بھی ناراض ہو گئے۔ کہنے لگے ، میں تو اپنے آپ کو آج بھی مولو مصلی ہی سمجھتا ہوں۔ چلئے جی۔ میں بھی کہتا ہوںکہ میں بھی وہی مولو مصلی ہوں جو چودہ اگست سینتالیس سے ایک روز قبل تک تھا۔ میں نے ہر چند کوشش کی کہ اپنا اسٹیٹس بدلوں اورمعاشرے میں باعزت مقام پا سکوں ، مگر میری ہر کوشش رائیگاں گئی۔ کبھی کسی فوجی آمر نے مجھے مولو مصلی بنایا اور کبھی کسی سویلین آمر نے مجھے دبائے رکھا۔ اورا س پورے عرصے میں بھارت نے تو ہر دم میرا ناک میں دم کئے رکھا اور مجھے وہی مولو مصلی سمجھا جوچودہ اگست سینتالیس سے پہلے میرا درجہ تھا۔ مجھے چلو میں پانی پلایا جاتا۔ میں کسی پنڈت کے گھر کی گلی سے بھی گزرتا تو مجھے طعنہ دیا جاتاکہ میںنے ناحق اس گلی کو بھرشٹ کر دیا ہے۔ مجھے ہندو کے مندر میں داخلے کی اجازت نہ تھی۔ مجھے تعلیم کی سہولتیں حاصل نہ تھیں اور بیماری کی صورت میں میں صرف تڑپ سکتا تھا۔ میرے لئے دوا نہیں تھی۔ ڈاکٹر نہ تھا۔ ہسپتال نہ تھا۔مجھے آزدی تو مل گئی مگر ہندو کی ذہنیت نے میرا تعاقب جاری رکھا۔ میں صرف اسی مسجد میں نماز پڑھ سکتا تھا جو میرا مسلک تھا۔ کسی دوسرے مسلک کی مسجد میں جاتا تو مجھے باہر دھکیل دیا جاتا اور مسجد کو خوب دھویا جاتا۔ میرے لئے تعلیم کی وہ سہولتیںنہ تھیں جو ہندو کی ذہنیت والے طبقے کومیسر تھیں۔ مجھے ٹاٹ اسکولوںمیں پڑھناپڑا۔ میں بیمار ہوتا تو ڈاکٹر اور علاج کی سہولت پھر بھی ناپید تھی۔ سرکاری ہسپتالوںمیں نہ ڈاکٹر تھے نہ ادویہ۔ میں میلوں پیدل چلنے پر مجبور تھا۔ جبکہ ہندو کے حامی جو جاگیر دار حکمران اور افسر شاہی کے روپ میں مجھے ورثے میں ملے تھے۔ وہ قیمتی گھوڑوں اور گاڑیوں میں سفر کرتے۔ ان کے بچوں کے لئے اسکول الگ تھے جہاں ماہورا فیس ہزاروں اور لاکھوںمیں تھی۔ میں پید اہوا تو میرے پاس ایک گھر بھی تھا۔ آج بہتر سال بعد میرے پاس کوئی گھر نہیں جسے میں چھوٹا سا پاکستان کہہ سکوں۔ کیوںنہیں۔ اس کی وجہ میرا پڑوسی بھارت ہے جس نے میرے ملک کو ترقی نہیں کرنے دی۔ جنگوں میں الجھائے رکھااور اگر یہاں کسی نے ترقی کی تو صرف بھارتی شردھالوﺅں نے۔ مجھے کشمیر کا تنازعہ بھی ورثے میں ملا۔ یہ آج تک حل نہیں ہوا۔ اس لیے کہ اسے حل کرنے کے لئے بھارت تیار نہیں اور ہمارے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں جو اس شہہ رگ کو شکنجہ ہنود سے چھڑا سکے۔ہم کس قدر کنفیوڑن کا شکار ہیں کہ چھ ستمبر کا دن یوم دفاع کے طور پر منایا کرتے تھے۔ پھر بھارت کو خوش کرنے کے لئئے ہم نے یہ دن منانا ترک کر دیا۔ آج ہم یہ دن منا رہے۔ فوج نے کہا ہے کہ یہ شہیدوں کا دن ہے۔ حکومت نے کہا ہے یہ کشمیر کا دن ہے۔ اور قوم اسے کسی طور بھی منانے کے لئے تیار نہیں۔ ہر شخص گھر میںمست سویا پڑا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کر دیں۔ثالثی تو انہوںنے کر دی۔ بھارت نے کشمیر کو کرفیو میں جکڑ دیا۔ دنیا میں اس قدر طویل عرصے کا کرفیو کبھی کسی قوم نے نہیں بھگتا۔ہم کشمیریوں کے لئے آخری گولی، آخری سانس تک لڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔ کس کی آخری سانس اور کس کی آخری گولی، ہماری یا کشمیریوں کی۔ کشمیری تو آخری سانس لے رہے ہیں، گولی ان کے ہاتھ میں نہیں۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ ہمیں کسی آزمائش سے دو چار ہی نہ کرے ، وہ کشمیریوں کو کرفیو کی پابندیوں کے دبیز اور سیاہ پردے کے پیچھے اسی طرح ختم کر دینا چاہتا ہے جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کو ختم کر دیا۔ آج اس کرہ ارض پر کوئی شخص فلسطین کے مسئلے کا نام بھی زبان پر نہیں لاتا۔ بھارت بھی نہتے ،مٹھی بھرکشمیریوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا تو پھر ہم کس کشمیر مسئلے کا ذکر کریں گے۔ ہم نے تو کبھی بھولے سے بوسنیا کے مسلمانوں کی قیامت کا ذکر نہیں کیا۔ ہمیں تو یہ معلوم نہیں کہ کاشغر کے مسلمانوں کے ساتھ صدیوں کے دوران کیا بیت چکی ہے۔ ہم نے لیبیا کے مرد آہن قذافی کو تڑپتے دیکھا۔ عراق کے مرد آہن صدام کو پھانسی پر جھولتے دیکھا۔ مصر کے منتخب صدر مرسی کو قید میںمرتے دیکھا اور یہ ترانہ گنگنایا کہ یہ عرب بہار کے جانفزا جھونکے ہیں۔ بہار کے ایک جھونکے کی زد میں شامی مسلمان بھی ہیں۔ یہ بہار ہے تو خزاں کیا ہوتی ہے۔ ہم گلے پھاڑ کر نعرے لگا رہے ہیں۔ بھارت خاموش ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ اس کی اگلی چال کیا ہو مگر اس چال کااندازہ لگانا کچھ مشکل بھی نہیں۔ ہمیں وہ مولو مصلی کے درجے پر لانا چاہتا ہے۔ سکم کی طرح۔ بھوٹان کی طرح۔ نیپال کی طرح مالدیپ کی طرح۔ بھارت کی خواہشات بڑی بڑی ہیں۔ وہ مہا بھارت کا احیا چاہتا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے خواب کو تعبیر دینا چاہتا ہے۔ اس راستے میںایک آزاد پاکستان حائل ہے۔ وہ پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں الجھا کر کنگال کر چکا ہے جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو زرداری اور نواز شریف نے کنگلا کیا ہے۔انہوںنے بھی کیا ہو گا مگر بھارت نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ ہمیں نیچا دکھانے پر تلا ہوا ہے۔ وہ اسی دور کو واپس لانا چاہتا ہے جب ہمارے قدموں سے اس کی چوکھٹ بھرشٹ ہو جایا کرتی تھی۔ وہ ہمیں پانی کے لئے ترسا رہا ہے اور کبھی پانی کے چند گھونٹ پلائے گا بھی تو کہے گا کہ ہم اس کے سامنے چلو پھیلائیں۔اس کی بستیوں سے دور رہیں۔ گاﺅ ہتیا نہ کریں۔ رام رام جپیں۔ بندے ماترم گائیں۔بھارت کی پشت پر اسرائیل پوری طرح سرگرم ہے جسے تسلیم کرنے کے لئے ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمہ تن جتن کرر ہا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ عربوں کو اسرائیل سے چڑ نہیں تو ہمیں کیوں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر نے از خود مسجد اقصی کی بجائے بیت اللہ کو چن لیا تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پیغمبر نے یہودیوں سے میثاق مدینہ کر لیا تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر ? کمزور تھے تو انہوںنے صلح حدیبیہ پر بھی دستخط کئے۔ یہ تمام دلائل بڑے وزنی اور پر فریب ہیں۔ اسرائیلی موساد اور بھارتی را نے یہ دلائل مل کر گھڑے ہیں اور ہم نے آنکھیں بند کر کے انہیں قبول کر لیا ہے۔ یہ دلائل ہمیں بھارت اور اسرائیل کی غلامی میں لے جانے کے لئے کافی ہیں۔بھارت میں ایک ایسی قیادت ہے جو ہندوستان کو ہندو کا ملک کہتی ہے وہ اس دھرتی پر کسی اور وجود کو برداشت کر نے کے لئے تیار نہیں۔ اگر کسی نے یہاں رہنا ہے تو مولو مصلی بن کر رہے۔ان کا دست نگر بن کر ، ان کا طفیلی بن کر۔ اپنامن مار کر۔ اپنی انا کو فنا کر کے ہمیں مودی کے سامنے جھکنے پر،سرینڈر کرنے پر، ناک رگڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا ڈاکٹر امجد ثاقب نے اسی خطرے کی نشاندہی کے لئے کتاب لکھی ہے۔ کیا ہم اس کتاب سے کوئی سبق سیکھیں گے یا بغداد کے منطقیوں کی طرح اس بحث میںالجھے رہیں گے کہ کوے کی چونچ حلا ل ہے یا حرام۔ نواز کے ساتھ ڈیل کی جائے ، زرداری کو ڈھیل دی جائے۔ دشمن کے لئے اس سے زیادہ سنہری موقع اور کیا ہو گا۔ کشمیر پر وہ ضرب کاری لگا چکا۔ اب ا س کی حریصانہ نظریں پاکستان پر جمی ہیں۔ بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہاہے کہ اکہتر میں پاکستان کے دو ٹکڑے کئے۔ اب چار ٹکڑے کریں گے۔ یعنی وہی کہ پاکستان کو مولو مصلی بنا کے دم لیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*