تازہ ترین

ہندوستان افغانستان کے اندر مد ا خلت سے با ز رہے

وفا قی کا بینہ کے حالیہ اجلا س کے بعدوفا قی وزیر اطلا عا ت و نشر یا ت نے بریفنگ دیتے ہوئے ایک با ر پھر ہندوستان کو افغانستا ن کے اند ر مد ا خلت سے با ز رہنے کی تلقین کی ہے اجلا س میں 37 ادویا ت کی قیمتو ں میں اضا فے کے علا وہ ڈاکٹر اشفا ق کی بطو ر چیئر مین ایف بی آر تعینا تی کی منظو ری دی اجلا س میں 60 رو ز میں حلف نہ اٹھا نے والے ار کان اسمبلی کی رکنیت منسو خ کرنے کی بھی منظو ری دی گئی اس کا باقاعدہ آر ڈیننس جا ری کر دیا گیا اجلا س کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفا قی وزیر اطلا عا ت و نشر یا ت چو دہر ی فو اد حسین نے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے افغا نستا ن میں امن کیلئے ہو نیوالی کو ششو ں کو سبو تا ژ کرنے کی کو ششیں سا منے آرہی ہیں ہندوستان یا کسی اور کو ا س عمل کو خر اب کر نے کی اجا ز ت نہیں دے سکتے اس لیے ہندوستان افغانستان کے اندر مد ا خلت سے باز رہے۔
وفا قی کا بینہ کی 37 ادو یا ت کی قیمتو ں میں اضا فہ کی منظو ری قا بل مذمت اقد ام ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی پاکستان میںا دو یا ت بہت ہی مہنگی ہیں جس کی وجہ سے ایک غر یب آدمی اپنا علا ج کر وانے سے قا صر ہے اس طرح غر یب لو گ علا ج نہ کروا سکنے کے سبب مو ت کے منہ میں جا رہے ہیں مو جو دہ حکومت کا یہ غر یب عو ام دشمن اقد ام ہے کیونکہ علا ج کر وانا ہر شہر ی کی ضرورت ہے چا ہے وہ غر یب ہو یا امیر اس طرح وفا قی کا بینہ کی جا نب سے ادویا ت کو مہنگا کر نا کسی بھی طر ح عو ام کے مفا د میں نہیں ہے جس پر حکومت کو ہر صو ر ت میں نظر ثا نی کرنی چا ہیئے مو جو دہ حکومت نے جب سے اقتد ار سنبھالا ہے مہنگائی میں مسلسل اضا فہ کیا جا رہا ہے حیر ت کی با ت یہ ہے کہ حکومت خو د ہی مہنگائی میں اضا فہ کر رہی ہے اور پھر وزیر اعظم عمر ان خان خو دہی اس کا نو ٹس لیتے ہو ئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں اقد اما ت کر نے کی ہد ایا ت دیتے ہیں عو ام حکومت کے اس دو غلا پن کو تین سال میں اب تک سمجھ نہیں سکی کیونکہ حکومت ہی پٹر ولیم مصنو عا ت کی قیمتو ں میں اضا فے کی منظوی دیتی ہے اور اس طرح یو ٹیلٹی سٹو ر ز پر بھی اشیاءخو ر د ونو ش کی قیمتو ں میں اضا فے اور اس پر عو ام کو دیئے جا نے والے سبسڈی کو ختم کرنے کی منظو ری بھی حکومت خو د دے رہی ہے یہ عو ام کے سا تھ کونسا کھلو ا ڑ ہو رہا ہے عو ام اس کو سمجھنے سے قا صر ہے۔
جہاں تک 60 رو ز میں حلف نہ اٹھا نے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسو خ کرنے کی منظو ری ہے تو یہ قا بل تعر یف اقد ام ہے کیونکہ اس قا نو ن کے نہ ہونے کے باعث بعض ار کان پا رلیمان حلف نہیں اٹھا تے تھے اور اس طرح عو ام نے ان کو جس سیٹ پر منتخب کر کے بھیجا ہو تا ہے اس حلقے میں ان کا نما ئند ہ کوئی کام نہیں کر وا سکتا جس کی حالیہ مثال چو دہر ی نثا ر کی ہے جنہوں نے تقر یباً 3 سال بعد رکنیت کا حلف لیا ہے جو کہ یقینا حلقے اور اس کی عو ام کے سا تھ زیا د تی ہے کیونکہ 3 سال تک وہ علا قہ اپنے نما ئند ے سے محر وم رہا۔
ہندوستان کی جا نب سے افغانستان میں امن کیلئے کو ششوں کو سبو تاژ کرنے کی کو ششیں قا بل مذمت با ت ہے اس لیے ہندوستان کے مفا د میں یہی بہتر ہے کہ وہ افغانستان کے اند ر مد اخلت سے با ز رہے اور اس میں طا لبا ن کو کام کرنے دیا جائے کیونکہ یہ افغانستان کا اند رو نی معاملہ ہے ہندوستان کو اس میں مدا خلت کرنے کاکوئی حق نہیں ہے اگر وہ ایسا کر نے سے با ز نہیں آئے گا تو یقینا اس کو نقصان اٹھا نا پڑ ے گا جوا س کے لیے اچھا ثا بت نہیں ہو گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*