تازہ ترین

ہندوستان اسرائیل کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے،صدر علوی

اسلام آ باد (آئی این پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت میں سیکولرازم کو تبدیل کر کے اب سرکاری سطح ہندو توا کو فروغ دیا جا رہا ہے،ہندو توا کی بنیاد مکمل طور پر تعصب پر مبنی ہے،بھارت میں اگر حالات یہی رہے تو ڈر ہے کہ بھارت میں حالات پرتشدد نہ ہو جائیں اور اس سے بدامنی پیدا ہو سکتی ہے اور بھارت اس کا سارا الزام پاکستان کو دے گا،بھارت کو اس وقت اپنی ساکھ کی فکر نہیں بلکہ ہندو توا کی فکر ہے اور وہ اپنے ماضی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور مسلمانوں کی خدمات کو ختم کر کے نئی تاریخ رقم کررہے ہیں،عالمی نظام میں صرف ذاتی مفادات کو فوقیت دی جا رہی ہے اور اخلاقیات ختم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو حل ہونے نہیں دیا جا رہا،مقبوضہ کشمیر میں ہندو توا کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور جس طرح اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے اس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو ختم کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے لاکھوں شہریوں کو کشمیر کے ڈومیسائل دیئے گئے، یہ خطرناک کیفیت ہے،دنیا میں چین فوبیا کو فروغ دیا جا رہا ہے، دنیا کو چین کے مسلمانوں کی فکر لاحق ہے لیکن فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی فکر نہیں، چین نے آزادانہ تجارت اور جن اصولوں کی بنیاد پر ترقی کی ان کو ختم کر کے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں تا کہ چین کی کمپنیوں کو روکا جا سکے جبکہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو سب سے بڑا بیرونی خطرہ بھارت کی طرف سے ہے، بھارت کی دفاعی صلاحیت بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف مرکوز ہے، توازن کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے پاس عسکری قوت بڑھانے کو جواز موجو د ہے تاکہ ملکی سرحدوں اور عوام کا دفاع کیا جاسکے، بھارت سیاسی مفاد کے لئے مذہبی جذبات استعمال کر رہا ہے۔اس کے پاکستان اور خطے کے لئے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔منگل کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں بھارت میں ہندو توا کے فروغ اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات کے عنوان سے دو روزہ عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہندو توا کی تاریخ کو جاننا ہے تو بھارت کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرنا ہو گی، بھارت کبھی بھی یکجا نہیں رہا،تقسیم برصغیر سے پہلے بھی یہاں پر 565سے زائد نیم خودمختار ریاستیں تھیں، ہندو توا کا لنک جرمنی کے نازی ازم سے بھی ملتا ہے، ہندو توا نے جرمنی کے نازی کی جانب سے یہودیوں پر مظالم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جب تک دانشورانہ طور پر ترقی نہیں کرے گا ملک ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا،پوری قوم نے دانشورانہ انداز میں کوویڈ کا مقابلہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا کہ غریب کو نہیں مارنا اور ملک میں لاک ڈاؤن مکمل طور پر نہیں کیا گیا، حکومت کی کوویڈ کے خلاف پالیسیوں میں غریبوں کیلئے ہمدردی شامل تھی،پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا ایک دانشورانہ مشق تھی، پاکستان سیکولر ازم کی بنیاد پر نہیں بنا بلکہ یہ خالص اسلام کی بنیاد پر بنا تھا، بھارت میں سیکولرازم کو تبدیل کر کے اب سرکاری سطح ہندو توا کو فروغ دیا جا رہا ہے،ہندو توا کی بنیاد مکمل طور پر تعصب پر مبنی ہے،آج بھارت میں مسلمان ڈرا ہوا اور سہما ہوا ہے، بھارت کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف 2 فیصد جبکہ مسلمانوں کی آبادی بھارت کی کل آبادی کا 20فیصد ہے،مقبوضہ کشمیر میں ہندو توا کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور جس طرح اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے اس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو ختم کر رہا ہے، بھارت کے لاکھوں شہریوں کو کشمیر کے ڈومیسائل دیئے گئے، یہ خطرناک کیفیت ہے،ہندوستان کی سٹیزن شپ ایکٹ میں مسلمان کے خلاف ترمیم سے وہاں پر انتشار پیدا ہوگا ایکٹ کے تحت مسلمانوں کو پراپرٹی کے کاغذات دکھانا ہوں گے تو ان کو شہریت ملے گی جبکہ یہ شرط ہندوؤں کیلئے نہیں ہے،دنیا میں چین فوبیا کو فروغ دیا جا رہا ہے، دنیا کو چین کے مسلمانوں کی فکر لاحق ہے لیکن فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی فکر نہیں ہے، چین نے آزادانہ تجارت اور جن اصولوں کی بنیاد پر ترقی کی ان کو ختم کر کے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں تا کہ چین کی کمپنیوں کو روکا جا سکے،پاکستان ایک مضبوط قوم ہے،35لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دینا ایک عظیم مثال ہے،بھارت میں اگر بھارت کی اقلیتوں کے خلاف کام جاری رہا تو وہاں کے مسلمان چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اگر حالات یہی رہے تو ڈر ہے کہ بھارت میں حالات پرتشدد نہ ہو جائیں اور اس سے بدامنی پیدا ہو سکتی ہے اور بھارت اس کا سارا الزام پاکستان کو دے گا،بھارت کو اس وقت اپنی ساکھ کی فکر نہیں بلکہ ہندو توا کی فکر ہے اور وہ اپنے ماضی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور مسلمانوں کی خدمات کو ختم کر کے نئی تاریخ راقم کررہے ہیں،عالمی نظام میں صرف ذاتی مفادات کو فوقیت دی جا رہی ہے اور اخلاقیات ختم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کو حل ہونے نہیں دیا جا رہا۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی سب سے بڑا بیرونی خطرہ بھارت کی طرف سے ہے، بھارت کی دفاعی صلاحیت بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف مرکوز ہے۔ توازن کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کو عسکری قوت بڑھانے کو جواز موجو د ہے تاکہ ملکی سرحدوں اور عوام کا دفاع کیا جاسکے۔ بھارت سیاسی مفاد کے لئے مذہبی جذبات استعمال کر رہا ہے۔اس کے پاکستان اور خطے کے لئے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل ریلشنز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ او ر کانفرنس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا کہ بھارت کی سیکورٹی پالیسی کو ہندوتوا کے نظریات کی بنیاد پر چلانے سے خطے کی سلامتی پر سنگین نتائج بر آ مد ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک نام نہاد اسلامی انتہاپسندی کو تو محدب عدسہ کے ذریعے دیکھتے ہیں لیکن ہندتواکے معاملہ پر اپنی آنکھیں اندھی کرلیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں ہندوتوا کے تحت بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر غور علاقائی سلامتی کے جائزے کے لئے ناگزیر ہے۔ تقریب میں امریکہ، چین، جرمنی، ایران سمیت دنیا کی معروف یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس سے بین لاقوا می امور کے سکالرز اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔کانفرنس میں بین لاقوامی تعقات اور امور کے ممتاز سکالرز اور ماہرین بشمول یونیورسٹی آ ف میری لینڈ امریکہ سے پروفیسر آرائی کروگلانسکی، چنگخوا یونیورسٹی چین سے پروفیسر شیئے چا، نائف عرب یونیورسٹی آ ف سیکورٹی اسٹڈیز سے پروفیسر میزان بن اسلم، تہران یونیورسٹی سے اومد بیبیلیان، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈاکٹر لبنی عابد علی اور امریکہ کے ووڈرو ولسن سنٹر سے پروفیسر مائیکل کوگلمین اور چین کی سیچوان یونیورسٹی سے پروفیسر چھیو یانگ خوئی سمیت جنوبی ایشیا کے امور کے ماہرین اپنے تحقیقاتی مقالہ جات پیش کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*