تازہ ترین

ہم چاہتے ہیں افعانستان کے امن میں بہتری آئے، ترجمان دفترخارجہ

FO-spokesperson-Zahid-Hafeez-Chaudhri

اسلام آباد(این این آئی)ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکا کا کوئی فوجی اڈہ یا ائیر بیس نہیں، دونوں ممالک کے مابین فوجی اڈوں کے قیام کا کوئی نیا معاہدہ بھی نہیں ہوا،امریکا کے ساتھ 2001 کے تعاون کے فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں افعانستان کے امن میں بہتری آئے، افغانستان سے عالمی فورسز کے بعد سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا واحد حل سیاسی ہے اور کبھی بھی کوئی فوجی حل نہیں تھا،کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی،۔کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں ٹارچر ریپ اور ماورائے عدالت قتل جیسے سنگین جرائم کا سامنا کر رہے ہیں، عالمی برادری کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لے،اسرائیلی وزیر کا بیان نا قابل قبول ہے، پاکستانی عمارت کی تصاویر کا استعمال قابل مذمت ہے، مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور مستقل حل کے حامی ہیں ۔جمعرات کوہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا کہ پاکستان میں امریکا کا کوئی فوجی اڈہ یا ائیر بیس نہیں، اور نہ ہی پاکستان اور امریکا کے درمیان فوجی اڈوں کے قیام کا کوئی نیا معاہدہ ہوا ہے، دونوں ممالک کے مابین ماضی کے ائیر اور گراو¿نڈ لائن آف کمیونیکیشن کے معاہدے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ امریکا کو افغانستان کے لئے فوجی اڈے دینے کے حوالے سے واضح بیان دے چکے ہیں، امریکا کا پاکستان میں کوئی ائربیس یا اڈہ نہیں اور نہ ہی اس طرح کا کوئی پلان ہے، امریکا کے ساتھ 2001 کے تعاون کے فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں افعانستان کے امن میں بہتری آئے، افغانستان سے عالمی فورسز کے بعد سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کا واحد حل سیاسی ہے اور کبھی بھی کوئی فوجی حل نہیں تھا۔زاہد حفیظ نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی، بھارت بامقصد مذاکرات کے لئے سازگار ماحول پیدا کرے، تنازعہ کشمیر کے حل بغیر بامقصد مذاکرات ممکن نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال دگرگوں ہے، کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں ٹارچر ریپ اور ماورائے عدالت قتل جیسے سنگین جرائم کا سامنا کر رہے ہیں، عالمی برادری کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر کا بیان نا قابل قبول ہے، پاکستانی عمارت کی تصاویر کا استعمال قابل مذمت ہے، سیول میں ہمارا سفارتخانہ معاملے کی تحقیقات کررہا ہے، پاکستان کی پالیسی شن چیانگ صوبے پر تبدیل نہیں ہوئی، شن چیانگ صوبے میں حالات چین کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ فلسطین میں 21 مئی کو سیز فائر اعلان مثبت پیش رفت ہے، ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور مستقل حل کے حامی ہیں، فلسطین کا حل دو ریاستی حل میں ہی پنہاں ہے، فلسطین میں انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستانی کے حکام ترکی کے ساتھ رابطے میں ہیں، پاکستان میں کرونا مثبت کیسز کی شرح میں تیزی سے کمی آرہی ہے، پاکستان میں بہتر حالات بارے ترکی کو آگاہ رکھے ہوئے ہیں، بھارتی سفارتکار بشمول فیملی ممبرز بارہ افراد پاکستان آئے، انکے پاس کورنا کے نیگیٹو رپورٹس تھیں ، ہم نے ایس او پی کے تحت انکے ٹیسٹ کرائے ، ان میں سے ایک خاتون کا کورونا مثبت آیا ، انکو ڈرائیور سمیت 14 دن کورنٹین کر دیا ہے۔ترجمان نے بتایاکہ تاجکستان کے صدر نے دور ہ پاکستان میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں مختلف شعبہ جات میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا،دونوں ملکوں کے درمیان ایم او یوز پر بھی دستخط کئے گئے۔ جنرل اسمبلی صدر وولکن بوزکیر نے گذشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا،عراقی ہم منصب کی دعوت پر وزیر خارجہ نے عراق کا دورہ کیا،دورے میں دو طرفہ تعلقات سمیت علاقائی و عالمی امور پر بات چیت کی گئی ،پاکستانی زائرین کے عراق میں سہولیات کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ افغان ویلوسی جرگہ کے سپیکر نے پاکستان کا دورہ کیا،وزیر خارجہ سے ملاقات میں افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان نے کہاکہ کویت کی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لئے ویزا پابندیوں میں آسانی پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے،یہ پابندیاں 2011 سے لاگو تھیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین اس طویل زیر التواءمعاملے کے حل کا خیرمقدم کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ویزہ پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے کویتی ہم منصب کے مابین ہونی والی ملاقاتوں میں ہوا تھا،ان ملاقاتوں میں پاکستانی شہریوں کے لئے ویزا پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر وسیع غور و خوض کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین طے پانے والے وعدوں کے مطابق ، کویتی وزارت داخلہ نے وزیر داخلہ پاکستان کو کویت کا دورہ کرنے اور پاکستانی شہریوں پر عائد ویزا پابندیوں کے خاتمے کو باضابطہ شکل دینے کی دعوت دی،اسی مناسبت سے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے 30 سے 31 مئی 2021 کو کویت کا دورہ کیا ،شیخ رشید نے اپنے ہم منصب ، شیخ تھامر علی السلیم سے ملاقات کی۔ انہوںنے کہاکہ دونوں وزرا کے مابین ہونے والی بات چیت میں پاکستانی شہریوں کے لئے ویزا پابندیوں کو نرم کرنے کے فریم ورک کی تیاری پر اتفاق ہوا تھا، انہوںنے کہاکہ پاکستان کویت کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ترجمان نے کہاکہ کویت کے ساتھ تعلقات مشترکہ عقیدے اور اقدار کی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں،دو طرفہ تعلقات کو متعدد شعبوں میں اعلی سطح کے دوروں اور بڑھتے ہوئے تعاون کے ذریعہ ممکن بنایا گیا ہے۔ عالمی وبائی مرض کے دوران دونوں ممالک نے صحت کے شعبے اور فوڈ سیکیورٹی میں قریبی تعاون کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*