تازہ ترین

ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے ، عمران خان

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں+م ڈ) وزیر اعظم عمران خان نے صحت سہولت کارڈ کے ذریعے عوام کو میسر آنےوالے ریلیف پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کا موجودہ پروگرام ملکی تاریخی کا سب سے بڑا اور تاریخی پروگرام ہے،پہلی دفعہ حکومت نے صحت بارے کمزور طبقات کا احساس کرتے ہوئے ایسا جامع پروگرام شروع کیا جس سے نہ صرف سرکاری بلکہ پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی کمزور طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات میسر آ رہی ہیں، وفاقی و صوبائی حکومتیں ،سٹیٹ لائف صحت کارڈ پروگرام بارے خصوصی یونٹس تشکیل دیں،پروگرام پر مسلسل نظر رکھی جائے ،کسی بھی درپیش مسئلے کو فوری حل کیا جائے، متعلقہ حکام وزارتِ اطلاعات کی معاونت سے پروگرام کی مناسب تشہیر کریں۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت صحت کے شعبے میں حکومت کے تاریخی اقدام صحت سہولت کارڈ کے ذریعے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیرِ صحت خیبرپختونخواہ تیمور سلیم جھگڑا، وفاقی و صوبائی سیکرٹری صاحبان برائے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں صحت کارڈ کی فراہمی، مستفید ہونے والے افراد کے اعداد شمار اور اب تک اس پروگرام پر ہونے والے اخراجات اور اسکے نتیجے میں عوام کو پہنچنے والے ریلیف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں صحت سہولت کارڈ پروگرام کے ذریعے مختلف سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں دو لاکھ دس ہزار دو سو ایڈمیشن کے ذریعے لاکھوں افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ جن پر اب تک 5.3ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صحت کارڈ کے ذریعے 26مختلف بیماریوں کے ضمن میں عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان میں دل سمیت ایسے امراض بھی شامل ہیں جن کا علاج قدرے مہنگا اورغریب خاندانوں کے مالی وسائل سے باہرہوتاہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب میں اب تک 85لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے صحت سہولت کارڈ کے ذریعے عوام کو میسر آنےوالے ریلیف پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کا موجودہ پروگرام ملکی تاریخی کا سب سے بڑا اور تاریخی پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ موجودہ حکومت نے صحت کے حوالے سے کمزور طبقات کا احساس کرتے ہوئے ایسا جامع پروگرام شروع کیا ہے جس کی بدولت نہ صرف سرکاری بلکہ پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی کمزور طبقے کو صحت کی معیاری سہولیات میسر آ رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ سے ہیلتھ سیکٹر میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پروگرام سے پرائیویٹ سیکٹر کے ہسپتالوں کو فروغ حاصل ہوگا اور انہیں دیہی اور دور دراز علاقوں میں اپنی خدمات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سٹیٹ لائف کو ہدایت کی کہ صحت کارڈ پروگرام کے حوالے سے خصوصی یونٹس تشکیل دیئے جائیں جو اس پروگرام پر عمل درآمد پر مسلسل نظر رکھیں اور کسی بھی درپیش مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وزارتِ اطلاعات کی معاونت سے پروگرام کی مناسب تشہیر کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کو اس پروگرام اور اسکی افادیت سے آگاہی حاصل ہو اور وہ اس سے مستفید ہوں۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے اور اگر ہم نظریے پر کھڑے رہے تو کبھی ناکام نہیں ہوں گے، تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ، انسان کوشش کرکے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے، افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم دباﺅ میں آنے کے بجائے وہ فیصلے کریں گے جو عوام کی بہتری کے لیے ہوں۔بدھ کووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنماﺅں کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی رہنماﺅں اور ترجمانوں نے آزاد کشمیر الیکشن میں کامیابی پر وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی۔اجلاس میں حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پر تجاویز طلب کی گئیں اور18اگست کو حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔اجلاس میں زراعت کے شعبے میں اصلاحات پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی جب کہ علامہ طاہر اشرفی نے مذہبی ہم آہنگی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں مختلف شعبوں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نمائندگی دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ، انسان کوشش کرکے تو ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے، ہم نے ایک نظریے کی بنیاد پر سیاست کا آغاز کیا، ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے، ہم نظریے پر کھڑے رہے تو کبھی ناکام نہیں ہوں گے۔وزیراعظم نے لوگوں کو کامیاب پاکستان منصوبے کی آگاہی دینے کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے پھر ان پر کھڑا ہونا ہوتا ہے، کوویڈ کے دوران ہم نے مشکل فیصلے کیے، جن کے بہتر نتائج سامنے آئے،40 لاکھ افراد کو غربت سے نکالنے کا کامیاب پاکستان منصوبہ کل لانچ کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اندر پریشر برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے، افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم پریشر میں آنے کے بجائے وہ فیصلے کریں گے جو عوام کی بہتری کے لیے ہوں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*