تازہ ترین

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟؟؟؟

تحریر:محمد اکرم چودھری
چند روز قبل ہم نے دہشت گرد،قصاب اور کشمیریوں کے حقوق کو طاقت کے زور پر غصب کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندرامودی کو اپنے کالم میں مبارکباد دی۔ اس پر بہت سے دوستوں نے اعتراض کیا کہ مودی کو مبارکباد دینے والی کوئی خاص بات نہ بلکہ یہ ہمارے لیے شرمندگی کا مقام تھا کہ ایک طرف بھارتی حکومت کشمیر میں ظلم و بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور اسی دوران نریندر مودی کو متحدہ عرب امارات سے اعلیٰ ترین سول اعزاز مل جاتا ہے۔ اس میں مبارکباد کا پہلو کیسے نکلتا ہے کچھ دوستوں نے ہمارے موقف کی تائید کی بلکہ اس روز سوشل میڈیا پر یہ اعزاز اور ہمارا موقف چھایا رہا۔ در حقیقت نریندرمودی کو مبارکباد بنتی ہے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں اس نے پاکستان کی شہ رگ پر قبضہ کیا، کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کو حاصل حقوق ختم کر دیے اور پھر متحدہ عرب امارات سے اعلیٰ ترین سول اعزاز بھی حاصل کیا۔ اس بنیاد پر مودی کو مبارکباد بنتی تھی ہم نے پیش کی۔ خوشی اس بات کی ہے کہ قارئین نے ہمارے موقف کو سمجھا اور پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔قارئین کرام ہم آج تک یہی کرتے آئے ہیں کہ اپنی ناکامیوں کاملبہ دوسروں پر ڈالتے اور دوسروں کی کامیابیوں کا کریڈٹ لینے میں ہم آگے آگے ہوتے ہیں۔ مودی نے کامیابی کے ساتھ ہم پر دوہرا وار کیا ہے تو ہمیں اسے مبارک باد دینی چاہیے۔ ہم کیوں دوسروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں، بھارت کے کئی ممالک سے تعلقات ہیں متحدہ عرب امارات ان میں سے ایک ہے اور یو اے ای نے اپنے مفادات کے پیش نظر بھارت کے وزیراعظم کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں انہیں روکنے والے، ہم کیسے روک سکتے ہیں،ہم کون ہوتے ہیں متحدہ عرب امارات کو روکنے والے کہ وہ فلاں کو ایوارڈ دیں، فلاں کو نہ دیں، فلاں کے ساتھ تعلقات قائم کریں، فلاں کے ساتھ نہ کریں۔ ان کا ملک ہے، ان کا ایوارڈ ہے وہ جسے دینا چاہیں دیں، جسے نہ دینا چاہیں نہ دیں۔ ان کا ذاتی و اندرونی معاملہ ہے ہمیں ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہماری اپنے ازلی دشمن، مسلمانوں کے قاتل اور کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے والے دہشت گرد کو مبارکباد اسی سوچ کے تحت تھی۔نریندر مودی نے ایک تیر سے کئی شکار کر لیے اور ہم دیکھتے رہ گئے، متحدہ عرب امارات سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ اور کشمیریوں کے ساتھ ظلم ایک ہی وقت میں ہو رہا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے ہونے والی تنقید کی وجہ امت مسلمہ کی بے حسی تھی۔ عوامی غصہ امت کے فلسفے کے پیش نظر تھا۔ اپنی جگہ یہ غم و غصہ اہمیت رکھتا ہے لیکن دور حاضرمیں ملکوں کے سفارتی تعلقات، کاروباری مفادات، مالی مفادات اور مجبوریاں دیکھیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ کشمیر میں مسلمانوں پر زندگی ہر گذرتے دن کے ساتھ مشکل ہو رہی ہے، نریندرمودی کا ماضی، مسلمانوں سے دشمنی اور کشمیر میں ظلم و بربریت کی حالیہ لہر بارے کیا متحدہ عرب امارات کے حکمران نہیں جانتے۔ یقینا وہ سب جانتے ہیں اس کے باوجود انہوں نے بھارت کے مسلم دشمن وزیراعظم کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ عطا کر دیا۔ ہم بیانات جاری کرتے رہے اور وہ اپنا کام کرتا رہا، ہم پہلے بیان جاری کرتے تھے اب شدت سے کرتے ہیں۔ ہماری پالیسی بیانات کی حد تک فعال ہے۔۔جہاں تک تعلق امت کے فلسفے کا ہے، اس سوچ اور نظام کا ہے، اس پر تو کوئی عمل پیرا نہیں ہے اور جن ممالک سے ہم امیدیں لگائے ہوتے ہیں وہ خیالی پلاﺅ سے کم نہیں ہیں۔ انہیں کیا ضرورت ہے ہمارے لیے دنیا سے اپنے تعلقات خراب کرنے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو داﺅ پر لگانے کی۔ وہ لوگ جو دہائیوں سے فلسطین کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کر سکے تو کشمیر ان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے۔جو خود مالی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے امت کے فلسفے کو بھول جائیں ان سے بہتری یا مشکل وقت میں مدد، تعاون کی توقع زمینی حقائق کے برعکس ہے۔قارئین کرام بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اس نے پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کیا اور نہ کرے گا وہ تو ہمارا وجود مٹانے کے منصوبوں پر برسوں سے کام کر رہا ہے۔ ہمارا امتحان تو یہ ہے کہ ہم نے ان کی سازشوں کا توڑ کرنے، ن کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے کچھ کیا ہے، کیا ہم نے انکو سازشوں اور دہشت گردی کا جواب دیا ہے۔کیا ہم نے انہیں جارحیت کا جواب پوری طاقت سے دیاہے۔ یقینا ایسا نہیں ہے ہم مصلحتوں کا شکار ہیں، ہمارے اپنے لوگ ہی ہمارے ساتھ نہیں ہیں، ہم ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں، ہمیں اتحاد، اتفاق، یگانگت، رواداری، تحمل مزاجی اور برداشت کی ضرورت ہے، ہمیں امانت، صداقت، شجاعت، طاقت و قوت، علم و حکمت اور عزم کی ضرورت ہے۔ ہمیں دنیا کے لیے خدمات پیش کرنے کے بجائے اپنے ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک لوگوں کی جنگوں کاحصہ بنتے رہیں گے، ہم کب تک غیروں کے لیے خود کو آگ میں جھونکتے رہیں گے، ہم کب تک اپنے وسائل اور قوت کو دوسروں پر خرچ کرتے رہیں گے، جب تک ہم نے اپنا طرز عمل نہ بدلا، جب تک ہم نے اپنا طرز فکر نہ بدلا، قرضے اور امداد لینے کی عادتیں نہ بدلیں ہماری دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جب تک ہم خود کفیل نہیں ہونگے کوئی ہمیں عزت نہیں دے گا، کوئی برابری کی سطح پر بات نہیں کرے گا، جب تک ہم قرضوں کے چنگل سے نہیں نکلیں گے، ہماری خود مختاری داﺅ پر لگی رہے گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری بات سنے، اس کو اہمیت دے، کردار ادا کرے اور مسئلہ کشمیر واضح طور پر ہمارا ساتھ دے، یا مستقبل ہمارے موقف کی تائید کرے تو ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔ اندرونی طور پر متحد ہوئے بغیر اور ملک کو ایمانداری اور ترقی پسندانہ سوچ پر چلائے بغیر ہم یونہی رہیں گے، ہمارے نوجوان کڑھتے رہیں گے، بزرگ روتے رہیں گے اور بچے بے بسی میں بڑے ہوتے رہیں گے۔ ہم احتجاج کرتے رہیں گے اور وہ چھینتے رہیں گے۔ جیسا کہ ڈرون حملوں کے وقت ہوتا تھا، ڈرون حملہ ہوتا تھا، نشانہ اور ہدف حاصل کرتا تھا، جانی نقصان ہوتا تھا اور سیاست دانوں کے بڑے بڑے بیانات آتے تھے اور درون حملے جاری رہتے تھے۔۔ کشمیر کے معاملے پر بالکل ویسا ہی ہو رہا ہے وہ اپنا کام کرتے رہیں گے اور یہاں سیاست دان بیانات جاری کرتے رہیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ پہلے اپنے اوپر کام کریں پھر لوگوں پر بات کریں۔ اب بھی وقت ہم بدل جائیں ورنہ دشمن ہمارے تعاقب میں ہے وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا اور ہر وار میں ہمیں پہلے سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*