تازہ ترین

ہمارے ہمسائے میں کامل خلفشار کے آثار

نصرت جاوید
”خبر“ کے معاملے میں میرا عالم ایک لطیفہ میں بیان ہوئے اس شخص جیسا ہوچکا ہے جو کمبل کو تو چھوڑنا چاہتا ہے۔کمبل مگر اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔پیر کی رات بھی ایسے ہی ہوا۔ اس دن صبح کے ساڑھے گیارہ بجے ہماری پارلیمان میں موجود حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہ نماﺅں کو قومی سلامتی سے جڑے امور کی بابت بریفنگ کے لئے بلایا گیا تھا۔جس ہال میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے وہ مذکورہ بریفنگ کے لئے مختص تھا۔اس کے قریب کسی غیر متعلقہ شخص کو گزرنے
بھی نہیں دیا گیا۔پارلیمان میں ہوئے واقعات کی رپورٹنگ پر مامور صحافیوں کی ایک کثیر تعداد کو پارلیمان کی بلڈنگ تک جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔وہ مین گیٹ کے باہر سڑک پر کھڑے کئی گھنٹوں تک خجل خوار ہوتے رہے۔مجھ میں ان کا ساتھ دینے کی ہمت ہی نہیں تھی۔
عرصہ ہوا دریافت کرچکا ہوں کہ صحافیوں کو ہماری حکمران اشرافیہ جاہل اور کمی کمین شمار کرتی ہے۔ یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے حساس ترین معاملات کو سمجھنے سے قطعاََ قاصر ہیں۔سنسنی خیزی پھیلانے کو بے قرار اور تجسس سے مغلوب ہوئے یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ پاکستان کے ازلی اور مکار دشمنوں نے ہمارے اوپر جنگ کی ایک ایسی قسم مسلط کررکھی ہے جسے 5th Generationیا پانچویںنسل یاپیڑھی کی جنگ کہا جاتا ہے۔ہتھیار اس نوعیت کی جنگ میں استعمال نہیں ہوتے۔بے بنیاد افواہوں ہی کو مہارت سے پھیلاتے ہوئے دشمن ٹھہرائے معاشروں کو حواس باختہ بنادیا جاتا ہے۔
وطن سے اپنی محبت ثابت کرنے کے لئے صحافیوں کو لہٰذا محض اس خبر کو فروغ دینا ہوگا جو سرکاری ترجمانوں کے ذریعے تحریری یا زبانی طورپر بتائی جاتی ہے۔سرکار کے ہر حکم کو سرجھکاکر تسلیم کرنا میری عادت ہے۔پیر کے روز اسی باعث اپنے گھر ہی بیٹھا رہا۔شام ہوئی تو تھوڑی دیر کے لئے سینٹ کا اجلاس دیکھنے چلا گیا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ہونا تھا۔مجھے لیکن دی نیشن کے لئے پریس گیلری لکھنا تھی۔گھرلوٹ کر اسے مکمل کیا اور کھانے کا انتظار کرنے لگا۔دریں اثناءایک مہربان دوست کا فون آگیا۔کھانے کیلئے اس کے ہاں چلا گیا اور وہیں بیٹھے ہوئے پیر کے روز ہوئی بریفنگ کے بے شمار اہم نکات کاپتہ بھی چل گیا۔
اپنے تجربے کی بنیاد پر مجھے اندازہ تھا کہ مذکورہ بریفنگ افغانستان کے تازہ ترین حالات پر مرکوز رہے گی۔امریکہ اور اس کے اتحادی 20سال کی طویل جنگ کے بعد اس ملک سے ذلت آمیز انداز میں فرار ہوئے اور طالبان فاتحین کی طرح اقتدار میں لوٹ آئے ہیں۔ان کے ملک میں پاکستان سے گئے ایسے افراد بھی کئی برسوں سے مقیم ہیں جو جنرل مشرف کے دور ہی سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے ذمہ دار تصور ہوتے تھے۔جنرل مشرف کے بعد قائم ہوئی زرداری-گیلانی حکومت ان کے روبرو کامل بے بس نظر آئی۔فوجی قیادت سے سوات میں بھرپور فوجی آپریشن کی درخواست ہوئی۔ سوات میں ریاستی رٹ بحال ہوجانے کے باوجود مگر دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔پاکستان کے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد نواز شریف بھی ان کے خلاف فوجی آپریشن جاری رکھنے کو مجبور ہوئے۔
ریاستی بیانیہ تشکیل دینے والے صاحبان علم کئی برسوں سے ہمیں سمجھاتے رہے ہیں کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے گروہ درحقیقت بھارت کے آلٰہ کار ہیں۔امریکہ کی سرپرستی میں قائم ہوئی حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتیں انہیں افغانستان میں پناہ فراہم کرتی رہی ہیں۔ ہماری جانب سے ہوئی متعدد درخواستوں کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔اس برس کی 15اگست کے روز سے لیکن افغانستان بدل چکا ہے۔وہاں لوٹی طالبان کی حکومت پاکستان کی خیر چاہتی ہے۔اس کی خواہش ہے کہ وہاں موجود پاکستانیوں سے گفت وشنید ہو اور مذاکرات کے ذریعے پاکستان میں امن کو یقینی بنایا جائے۔پیر کے روز ہوئی بریفنگ ان ہی مذاکرات سے متعلق تھی۔قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ سے مذکورہ بریفنگ کی بابت جو پریس ریلیز جاری ہوئی ہے وہ ان مذاکرات کی اہمیت کو سرکاری طورپر اجاگر کرتی ہے۔
ملکی اور عالمی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے میں نہایت دیانت داری سے محسوس کرتا ہوں کہ افغانستان کی نئی صورت حال نے پاکستان کے لئے سنگین مسائل کھڑے کردئیے ہیں۔ امریکہ کی دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف شدید نفرت کے باوجود یکسوہوکر اصرار کررہی ہیں کہ پاکستان نے ان کے ملک کا دل سے ساتھ نہیں دیا۔امریکہ کا اتحادی ہونے کا ڈرامہ رچاتا رہا اور چپکے چپکے طالبان کی حمایت میں مصروف رہا۔ امریکہ کی حکمران اشرافیہ میں مقبول اس سوچ میں کافی جھول ہیں۔بنیادی طورپر یہ اس رعونت کا اظہار ہے جو ایک داستان میں پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا خون خواردرندہ نشیب میں موجود بھیڑ کے بچے کو پانی گدلا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے دکھاتا ہے۔اپنی خفت مٹانے کے لئے دوسروں کو دوش دینے والا رویہ۔
امریکہ کو مگر ہم قطعاََ ناراض بھی نہیں کرسکتے۔بے شمار پاکستانی فقط اس ملک ہی نہیں ایسے ممالک میں بھی رہائش پذیر ہیں جو اس سپرطاقت کے کامل محتاج ہیں۔اپنی معیشت سنبھالنے کے لئے ہمیں آئی ایم ایف جیسے اداروں سے گرانقدر رقوم بھی درکار ہیں اور عالمی معیشت کے نگہبان مذکورہ ادارے میں امریکہ کی مرتب کردہ ترجیحات ہی حتمی فیصلہ ساز ہوتی ہیں۔ہمیں اس ادارے سے ہنگامی طورپر ایک ارب ڈالر درکار ہیں۔اس رقم کے حصول کے لئے مگر لازمی ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی جائیں۔ پاکستان کے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جائے۔ہم اگر امریکہ کو مطعون کرنے میں مصروف ہوگئے تو آئی ایم ایف جیسے ادارے مزید سفاکی دکھانا شروع ہوجائیں گے۔
ان کی سفاکی کو جانچناہو تو فقط افغانستان کے موجودہ حالات ہی پر سنجیدگی سے غور کرلیں۔ پاکستانی اور افغان نہیں بے شمار معتبر اور صاحب دل امریکی اور برطانوی صحافی اور تبصرہ نگار بھی ٹھوس اعدادوشمار دکھاتے ہوئے دہائی مچارہے ہیں کہ افغانستان شدید قحط کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو برسرعام فروخت کررہی ہیں۔ برطانیہ کا ایک جید صحافی ہے۔ نام ہے اس کا جان سمسن۔برطانیہ کے ایک ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے دو دن قبل وہ افغانستان میں قحط سالی کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پایا۔ اس کی آواز بھراگئی۔
طالبان کو افغان معیشت سنبھالنے کی لیکن کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔دریں اثناءان کے خلاف داعش کے نام پر قائم ہوئی تنظیم دہشت گردی میں بھی مصروف ہوچکی ہے۔امریکہ کی خواہش ہے کہ طالبان اپنی مشکلات کے حل کے لئے اس سے رجوع کریں۔ داعش پر نگاہ رکھنے کے لئے بھی اس کے ڈرون طیاروں پر انحصار کریں۔فاتحین کی طرح کابل لوٹے طالبان کے لئے مطلوبہ فرماں برداری دکھانا فی الوقت ممکن نہیں۔ ایسے حالات ہمارے ہمسائیے میں کامل خلفشار کی نشان دہی کررہے ہیں جس کے اثرات سے پاکستان کو بچائے رکھنا ہماری ریاست کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔
اس چیلنج کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان صاحب کا رویہ مجھ جیسے افراد کو مزید پریشان کردیتا ہے۔ پیر کے روز بھی قومی سلامتی کے نام پر ہوئی بریفنگ میں وہ شریک نہیں ہوئے۔ سیاست دانوں کا روپ دھارے ”چور اور لٹیروں“ کے ساتھ بیٹھناانہیں گوارہ نہیں۔اپوزیشن جماعتوں سے اس کے باوجود تقاضہ ہورہا ہے کہ وہ سرجھکائے سوپیاز اور سو جوتے کھاتے رہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*