تازہ ترین

ہمارے مسائل کچھ اور ہیں!!!!!

محمد اکرم چوہدری
میں کافی دنوں سے مختلف اندرونی و بیرونی سیاسی معاملات پر لکھتا جا رہا ہوں اس دوران حالات کچھ ایسے تھے کہ کسی اور طرف نظر نہیں گئی یا وقت نہیں ملا۔ حتی کے پرویز ملک جیسے باکردار اور اعلیٰ اخلاق کے مالک سیاست دان کے انتقال پر بھی کئی روز بعد لکھ سکا۔ صرف پرویز ملک ہی نہیں بلکہ اپنے بہت پیارے بے نیازیاں والے پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نیازی کے حوالے سے لکھنا ابھی باقی ہے ہم اپنے ایک بہت اچھے دوست سے محروم ہوئے ایک دو روز میں اجمل نیازی کی خدمات اور ان کے طرز تحریر پر بھی روشنی ڈالوں گا لیکن آج میں اپنے ملک کے مستقبل یعنی بچے، اپنے ملک کی تعلیم، اپنے ملک کے مذہبی طبقے اور عمومی رویوں پر کچھ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
گذشتہ چند روز میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ویسے میں کئی مرتبہ یہ لکھ چکا ہوں کہ کرپشن، چوری، نفرت، سیاسی نااہلی سمیت جتنے بھی مسائل کا ذکر یہاں ہوتا ہے میری رائے میں یہ پاکستان کے اصل مسائل نہیں ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی اخلاقیات ہے، اخلاقی کمزوری ہے، اخلاقی پستی ہے، ہم اخلاقی طور پر کمزور ہی نہیں بلکہ مردہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے تمام مسائل اخلاقی پستی سے جنم لیتے ہیں۔ کاش کہ ہمارے بڑے ہمارے فیصلہ ساز، ہمارے مستقبل کے فیصلے کرنے والے وہ لوگ جو طاقت میں ہیں، اقتدار میں ہیں، اختیار رکھتے ہیں، فیصلہ کرسکتے ہیں، اثر انداز ہو سکتے ہیں، وہ بچوں بڑوں نوجوانوں کو اخلاقی طور پر مضبوط بنانے کی مہم کا آغاز کریں۔ اگر ہم اخلاقی طور پر مضبوط ہونا شروع ہوئے۔ تو یقیناً مسائل کے حل کی طرف سفر شروع ہو جائے گا۔ جن مسائل کا چوبیس گھنٹے رونا روتے رہتے ہیں وہ ختم ہو سکتے ہیں۔ کاش کہ کوئی اس طرف توجہ دے۔ اب چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
سب سے پہلے تعلیم کی بات کرتے ہیں گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جو کہ جماعت میں بہت اچھی شہرت رکھتے اور بہت طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ پنجاب میں ایک اہم عہدہ بھی رکھتے ہیں، تعلیم کے حوالے سے بہت کچھ کرتے رہتے ہیں۔ یہ شعبہ ان کے لیے بہت کشش رکھتا ہے۔ بچوں سے محبت کرتے ہیں کیونکہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں۔ گذشتہ دنوں وہ لاہور کے ایک بڑے سکول کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے مختلف کلاسوں کا دورہ کیا۔ تیسری جماعت کے بچوں کے ساتھ انہوں نے کچھ وقت گذارا، بات چیت کی، کچھ سوالات بچوں کے سامنے رکھے۔ آپ حیران ہوں گے کہ کوئی بچہ بھی جواب دینے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
تیسری جماعت کا کوئی بچہ یہ بتانے سے قاصر رہا کہ پاکستان کا صدر کون ہے، پاکستان کے صدر کا نام بھی بچے نہیں جانتے تھے۔ جب بچوں سے یہ پوچھا گیا پاکستان کے دارالحکومت کا کیا نام ہے۔ پوری کلاس میں سے کوئی بھی بچہ جواب نہ دے سکا۔ اس سوال کا جواب نہ ملنا صدر پاکستان کے نام سے لاعلم ہونے سے زیادہ پریشان کن ہے۔ جب بچوں سے یہ پوچھا گیا کہ پنجاب کا دارالحکومت کونسا شہر ہے یقین کریں کہ تیسری جماعت کے بچوں میں سے کوئی ایک بچہ بھی یہ بتانے کے قابل نہیں تھا پنجاب کا کیپٹل کون سا شہر ہے۔اس کے بعد بچوں سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ بتائیں کہ گورنر پنجاب کا نام کیا ہے تو کوئی بھی بچہ یہ بتانے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا کہ گورنر پنجاب کون ہے۔ یہاں سے بچوں کے باخبر ہونے یا اپنے ملک کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے نے کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس ملک میں بچوں کو اپنے صوبے کے دارالحکومت کا ہی پتہ نہ ہو اور جس ملک میں بچوں کو اپنے ملک کے دارالخلافہ کا علم نہ ہو وہاں پر تعلیمی معیار کیا ہوگا اس کے بارے میں ہمیں کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جس طرح سے تعلیم کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور یہ سوالیہ نشان ہے مراد راس جو کہ صوبائی وزیر تعلیم ہیں وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کی ناک کے نیچے بچوں کو کیا تعلیم دی جا رہی ہے۔ بڑے سکولوں میں والدین ہزاروں روپے ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں اور ان سکولوں کے بارے یہ تاثر ہے کہ یہاں تعلیمی معیار نسبتا بلند ہے اگر یہاں پر بھی یہ صورت حال ہے تو پھر سرکار کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں کی حالت بارے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس عوام کو ضرور بتائیں کہ ان کی کارکردگی کیا ہے۔ ویسے مجھے اس واقعہ کے بعد کسی بھی شعبہ میں نہیں رہنا چاہیے کہ نہ صرف ملک کا تعلیمی مستقبل خطرے میں۔ کیا صوبائی وزیرتعلیم بتا سکتے ہیں کہ یہ تعلیم کے اعلیٰ معیار ہیں یہ سوال و جواب کا سیشن وزیر تعلیم کی کارکردگی کو بے نقاب کر رہا ہے۔
اس کے بعد ایک واقعہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ روز میں ایک پوش علاقے تھا نماز عشاءکی نماز کا وقت تھا باجماعت تو نہیں پڑھ سکا لیکن اس خیال سے کہ زیادہ تاخیر نہ ہو کسی اور کام میں جاﺅں اور الجھ جاﺅں مسجد کے پاس سے گذر رہا تھا سو نماز پڑھنے کے لئے چلا گیا مسجد کے دروازے پر داخلی دروازے کے بعد جہاں سے مسجد کی حدود شروع ہوتی ہے وہاں آٹھ دس سال کا بچہ دروازے پر کھڑا تھا کہنے لگا کہاں جا رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ نماز کے لئے جا رہا ہوں تو اس نے کہا کہ مسجد بند ہو چکی ہے اب ہم مسجد بند کرنے لگے ہیں آپ ادھر سائیڈ پہ جا کر نماز پڑھ سکتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ ابھی تو اندر کافی لوگ نماز پڑھ رہے ہیں تو بچے کا جواب تھا کہ انہیں ہم نے ٹائم بتایا ہوا ہے وہ بھی جا رہے ہیں۔ ابھی یہ بات چل رہی تھی کہ اندر سے ایک نمازی آئے انہوں نے بچے سے پوچھا کی کر ریا ایں، مجھے انہوں نے پوچھا کیا مسئلہ ہے تو میں نے جواب دیا کہ نماز کے لئے جانا ہے تو یہ کہہ رہے ہیں کہ مسجد بند ہو گئی ہے تو وہ صاحب بولے تینوں اپنے والد نالوں وہ زیادہ چھیتی اے چلیں جی آپ اندر نماز پڑھی میں اندر چلا گیا نماز پڑھی اس دوران یہ ہوتا رہا جس سے یہ محسوس ہوا کہ مسجد کے قاری صاحب کو کچھ جلدی ہے کہ وہ جلد از جلد نمازیوں کو بھگانا چاہتے ہیں۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے کہا کہ قاری صاحب سے مسجد کے بند ہونے کے اوقات کار کے حوالے سے کچھ گفتگو کی۔ قاری صاحب سے کیا بات چیت ہوئی میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا نہ یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ قاری صاحب کا کیا ردعمل تھا کیونکہ تفصیل لکھی تو وہ بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔ پسند نہ کرنے سے زیادہ مسئلہ مجھے یہ ہے کہ اس تفصیل سے ہر کوئی اپنی مرضی کا مطلب نکالنے کی کوشش کرے گا اور میں یہ موقع کسی دینا نہیں چاہتا لیکن اس واقعے کے بعد میں یہ ضرور لکھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے قراحضرات یا امام صاحب جو بھی مساجد کی انتظامیہ کمیٹی کو مساجد کے بند کرنے والا معاملہ زیادہ بہتر انداز میں حل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ قاری صاحبان کو بھی اپنے رویوں میں نرمی پیدا کرنی چاہیے۔ جہاں کہیں غلطی ہو یا اصلاح کا پہلو موجود ہو وہاں بحث کے بجائے معاملہ بہتر انداز میں سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک بچہ جسے آپ نے آٹھ دس سال کی عمر میں دروازے پر کھڑا کر دیا ہے اور وہ اسی عمر سے اگر مسجد کے دروازے پر غلط بیانی شروع کردے تو اسی بچے نے لامحالہ آگے جا
کر کہیں امام بننا ہے کہیں موذن بنا ہے کئی خطیب بننا ہے ہے تو اگر وہ دس سال کی عمر سے ہی غلط بیانی سے کام لیتا رہے گا یا لوگوں کو مسجد میں داخلے سے روکتا رہے گا جو کچھ سیکھے گا وہی بڑا ہو کر ہمیں واپس کر دے گا اگر تم نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ اسی طرح ہم نے آگے بڑھنا ہے تو بڑھتے چلے جائیں اگر ہم نے ٹھیک نہیں ہونا تو نہ ہوں باقی اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو اللہ ہمارے دلوں کو بدل دے، ہمارے ذہنوں کو کھول دے، ہمیں تحمل برداشت اور درگذر کی توفیق عطاءفرمائے۔ آمین۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*