تازہ ترین

ہمارے مسائل اور ہمارے رویے

مسرت قیوم
روایتی پاکستانی سیاسی ذہنیت سے سوچیں تو اتھارٹی در اتھارٹی اور اگر عقیدتوں محبتوں کے طے ہوتے ماہ مبارک ”ربیع الاول“ کو دیکھیں تو ہمارے نزدیک ”3 سالوں“ میں سب سے عظیم الشان کام۔وزیر اعظم کی سربراہی میں ”رحمة للعالمین“ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان، بہترین مذہبی سکالرز کو حصہ بنانے کا عزم، اعلان کردہ ترجیحات میں نصاب کی نگرانی اور سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کی مانیٹرنگ بے حد قابل پذیرائی اقدامات ہیں۔ اسلامی فلاحی ریاست اب ہماری ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ بلاشبہ ہماری نجات ”اسوہ حسنہ“ پر عمل کرنے سے ممکن ہے۔ ”نبی محتشم خاتم النبین“ کی زندگی عظمت کی راہ ہے، اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ”رحمة للعالمین“ کی اتباع میں ہی ہماری بقا مضمر ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے بڑے مدلل انداز، پر تاثیر الفاظ میں اتھارٹی بنانے کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ واقعی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلیں تو ملک ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔
سب سے بڑا ناسور جو لمحہ حاضر کی سوسائٹی کو دیمک مانند کھوکھلا کر چکا ہے، وہ ہے مخلوط تعلیم۔ مخلوط تقریبات۔ لچر ٹی وی پروگرامز۔ ثقافتی محافل۔وہ ثقافت جس کا ہمارے ”دین حنیف“ سے کوئی تعلق ہے نہ ہمارے وطن سے۔ شُتر بے مہار نجی و سرکاری تعلیمی ادارے جہاں اساتذہ کی رتی بھر عزت نہیں اور خود اساتذہ بھی اخلاقی حدود کی پامالی میں صفِ اول پر کھڑے نظر آئیں گے۔ سب کچھ چیک ایند بیلنس کے فقدان باعث ہوا۔ مغرب کی تقلید ضرور کرتے کبھی کِسی نے پابندی نہیں لگائی پر اچھی باتوں کو فالو کرتے اُنکے ”گند“ کو ہی کیوں چُنا؟ اس لئے کہ ہماری نیت صاف نہیں۔ موبائل فونز سمیت سبھی جدید برقی دریافتوں کو ہم نے غلط استعمال کیا۔ اِس کے باوجود کہ ہم پر صدیوں پہلے سے عظیم، ارفع آسمانی پیغام ”قرآن مجید“ کی پُرنور صورت میں نازل فرمایا جا چکا ہے۔ دنیائے اسلام کے پاس قابل ترین قاری‘ فصیح علما ءموجود ہیں۔ قابل فخر اسلامی خدمات سر انجام دیتے اداروں کی بھی کمی نہیں اِن سب کے باوجود ”امت مسلمہ“گمشدہ ہو کر صرف نام کے اسلامی ممالک میں منقسم ہوگئی۔
یہ سچی بات ہے کہ یورپ فلاحی مملکت کا بہترین ماڈل ہے۔ شام کے وقت پورا بازار بند۔ ہوٹلز بند۔مغربی ممالک میں عوام سے ٹیکس وصولی کا ہدف کامیاب ہے تو عوام کو درکار سہولتیں۔ جمہوریت کے فوائد گھر کی دہلیز پر میسرہیں۔ہمارے دو بڑے اور مسائل بھوک + نا انصافی بھوک مٹانے کی سکیمیں لاتعداد۔ غربت کے خاتمہ پر کام کرتے ہزاروں فلاحی ادارے۔ حالات پہلے سے زیادہ گھمبیر۔ تعلیم کی فراہمی کے نیک کاز پر مصروف عمل اداروں کی تعداد بھی ہزاروں میں۔ نتائج وہ نہیں جتنی تعداد میں ”این جی اوز“ گلی۔ محلوں میں چندہ اکٹھا کر کے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ قابل صد احترام ”چیف جسٹس سپریم کورٹ“ نے گزشتہ ایام فرمایا تھا کہ ”لاہور سٹریٹ کرائمزکا گڑھ بن چکا ہے“۔ کرائم ریٹ بڑھنے کی وجوہات پر سیاہی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ سامنے دیوار پر سب لکھا ہے۔
میرٹ کا قتل ایک ایسا گھناﺅنا فعل ہے جو زندہ معاشروں کو مردہ اجسام میں بدل دیتا ہے۔سفارش۔ عدل کی فراہمی میں ناروا تاخیر۔ امیر۔غریب میں مساوی برتاﺅ کا اصول ناپید۔ قوانین موجود ہیں نئی مغز ماری کی بھی قطعاً ضرورت نہیں۔ صرف ”نیت“ کا صاف کرنا اشد مجبوری ہے۔ ”نیت“ کا پورا نظام انسانی دماغ میں فعال ہے‘ بس ارادہ مزید براں عمل درآمد کا مرحلہ طے کرنا ہے۔ طے کر لیا تو مسائل بھی حل۔انتہائی کلید ی۔ اہم ترین بیماری ”سودی نظام“ ہے۔ اِس طرف نجانے وزیر اعظم کی توجہ کیوں نہیں گئی۔ یہ وہ موذی چیز ہے کہ ”حکم ربانی“ ہے کہ سود ”اللہ تعالیٰ رحمن۔ رحیم۔ کریم اور نبی رحمت ﷺ“ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ تو حکومت کے کورٹ میں بال موجود ہے حکومت 27 28, سالوں کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کر کے بیٹھی ہے۔ ”عمران خان صاحب“ اِس اپیل کو فوری طور پر واپس لیکر ریاست مدینہ کی پہلی شرط پوری کر دیں بھلا ”اللہ تعالیٰ کریم“سے کوئی لڑ سکا ہے۔
کرپشن کا خاتمہ صرف فردِ واحد کے بس کی بات۔ وزیر اعظم نے درست اپیل کی کہ پورا معاشرہ لڑے۔ سوال یہ ہے کہ مافیاز کے خلاف طاقتور ترین نہیں لڑسکا تو کبھی آدھی روٹی کھانے۔کبھی بھوکے پیٹ سونے والے۔ بغیر جرم کے سزا کاٹنے والے اکثریتی ”ووٹ دہندہ“ کیا لڑنے کی سکت رکھتے ہیں؟ سب سے بڑا نعرہ۔ سب سے بلند وعدہ ”احتساب“۔ سیاست کی بنیادی اینٹ۔ 25سالہ جدوجہد کی عمارت اِسی اینٹ پر تعمیر ہوئی اب ”نیب“ کے پر کاٹ کر اپنے ہی منشور کی خلاف ورزی۔حکومت اپنے فیصلہ سے ضرور رجوع کرے۔
مان لیا حکومت کی اتھارٹی ہے پر ”اتھارٹی“ منوانا ضروری تھا یا ملکی ساکھ بچانا۔ بیٹھے بٹھائے دشمنانِ سپاہ۔ دشمنان وطن کو خوشی کا سامان فراہم کرنے کا فائدہ؟ ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے،معمول کے تبادلے۔ ترقیاں ہوتی تھیں اور ہوتی ہیں مگر کچھ سالوں سے جاری نظام کو سیاست زدہ کر کے غیر ضروری میڈیا رونمائی کی نذر کر کے اہل سیاست اور ”میڈیا“ نے اچھا کام نہیں کیا۔ ”ایک صفحہ“ پر ہونے کی تصویر سُرخی نہیں بنتی۔ بے حد سادہ معاملہ کو اُلجھانے کا کیا فائدہ؟ کچھ برسوں سے اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کی غلط روایت نے پاکستان کے تحفظ کی علامت کا رُخ کیا۔موجودہ صورت حال سے غلط اثرات مرتب ہونگے۔ آنے والے وقت میں شکر رنجی۔ تلخی نمایاں رہے گی۔ بات ”عہدے“ سے متعلق نہیں ”ذِمہ داری“ کی اہمیت کی ہے۔ اُمید ہے کہ سب کچھ جاری پریس ریلیز کے مطابق ہوگا۔ ”انشاءاللہ“۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*