تازہ ترین

ہفتہ ماں کے دودھ کا تحفظ

تحریر ۔ وطن یار خلجی
دنیا میں ہر سال اگست کے مہینے میں عالمی سطح پر ماں کے دودھ کی افادیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہفتہ ماں کا دودھ منا یا جاتا ہے اور عالمی سطح پر ہر سال اس ہفتہ وار مہم کا الگ الگ تھیم مقر ر کیا جاتا ہے اور پھر اسی تھیم کے تحت سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں میں ماں کے دودھ کی افادیت اجاگر ہو ، اس سال 2021کا تھیم بچوں کیلئے ماں کے دودھ کا تحفظ ہم سب کی زمہ داری ہے ، اور اسی تھیم کے تحت بلوچستان میں بھی صوبائی نیو ٹریشن ڈائر یکٹر یٹ محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے مختلف نو عیت کی سرگرمیاں تشکیل دی ہیں جسمیں مختلف اضلاع میں سیمینار ز ، تقاریب اور واک کا انعقاد کیا گیا ہے جبکہ لوگوں میں شعور و آگہی پید اکرنے کیلئے ایف ایم ریڈ یو چینلز اور ٹی وی چینلز پر پر وگرامز منعقد کئے جارہے ہیں اور پر نٹ و الیکڑانک میڈیا پر مہم کے علاوہ پو سٹرز اور بینر ز آویزں کرکے عوام النا س کی توجہ ماں کے دودھ کی جانب راغب کیاجارہا ہے۔ اگست کے مہینے میں ہر سال ماں کے دودھ کا ہفتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اگر دیکھا جائے تو اس امر کی بلوچستان میں شدید ضرورت بھی ہے کہ ہم لوگوں میں ماں کے دودھ سے متعلق آگہی پیدا کریں کیونکہ بچے کو ماں کا دودھ پلانا بہت ضروری ہے اور بچے کی صحت مند نشو ونما اور بہترغذا کیلئے ماں کا دودھ ہی سب سے اہم ہے ۔ماں کے دودھ کا تحفظ اور ہماری ذمہ داری پر مبنی یہ ہفتہ اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ، این جی او سیکڑ، تمام سول سوسائٹی ، سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور بالخصوص علماءکرام اور اساتذہ کرام ماں کے دودھ کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں اور ماں کے دودھ کا ملکر تحفظ کریں ہمارے معاشرے میں علماءکرام اور اساتذہ کرام کا بہت اہم کردار بلکہ ان کی شخصیت کی بڑی اہمیت ہے اور یہ دونوں طبقات ہمارے معاشرے پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں اور ان کی بات کو مانا بھی جاتا ہے ، اور پھر اگر دیکھا جائے ماں کا دودھ نعمت خداوندی ہے اور قرآن حکیم میں باری تعالی کا ارشاد ہے ترجمہ؛ اور مائیں دو سال تک بچوں کو دودھ پلائیں ( سورة البقر آیت 233) اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے لئے ماں کا دودھ ہی سب سے بہتر ہے اور بچوں کو ماں کا دودھ پلانا اللہ تعالیٰ کے نزد یک ایک پسند یدہ اور احسن عمل ہے اور اسی میں ماں اور بچے کا فائد ہ ہے ۔ماں کا دودھ ایک قدرتی عمل ہے جو بچے کی پید ائش کے بعد ماں کے جسم میں بننا شروع ہوتا ہے اس میں بچے کی ضرورت کے تما م غذا ئی اجزا ءمو جو د ہوتے ہیں ۔ پیدا ئش کے آدھ گھنٹے کے بعد سے بچے کو ماں کا دودھ پلانا شروع کرنا چاہے ۔عام تصوریہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد ماں کا ابتدائی تین دن کا گاڑھا دودھ بچے کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے اس لئے نہیں دیا جاتا ہے لیکن یہ تصور بالکل غلط ہے یہ گاڑھا دودھ بچوں کے لئے بہت مفید ہے اور بچوں کو ضرور پلانا چاہے ۔ڈاکٹر وں او ر ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس دودھ میں بہت زیادہ قوت مدافعت ہوتی ہے اور بچے کے لئے ابتدائی ویکسین کا کام دیتا ہے اور بچوں کوبہت ساری بیماریوں سے بچاتا ہے چھ ماہ تک بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلانا چاہئے ۔بلکہ پانی تک بھی نہیں پلانا چاہئے کیونکہ ماں کے دودھ میں بچے کی ضرورت کے مطابق پانی مو جو د ہوتا ہے ۔چھ ماہ کے بعد ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ بچے کو نرم غذا کھلانی چاہئے ۔بچے کی عمر کے ساتھ ماں کے دودھ کی ساخت خود بخود بدلتی رہتی ہے ۔بچوں کو ماں کا دودھ پلانا ایک قدرتی عمل ہے ۔بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی ماں کا دودھ بننا شروع ہوجاتا ہے بچے کو اپنا دودھ پلانے سے ماں کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی اس کی شخصیت خراب ہوتی ہے ۔ بلکہ زچگی کے بعد ماں کا زیادہ خون ضائع نہیں ہوتا اور جسم کی اضافی چربی ختم ہوجاتی ہے ۔اور مائیں صحت مند رہتی ہیں البتہ اس قدرتی عمل کو روکنے سے ماں اور بچے دونوں کو نقصان ہوتاہے ۔خواتین میں سینے کے کینسر کی ایک وجہ بچوں کو اپنا دودھ نہ پلانا بھی ہے ۔دوسری طرف یہ بچوں کو قدرتی غذا اور قدرتی حق سے محروم کر نا بھی ہے جس سے اس کی جسمانی اور ذہنی نشونما اور نفسیات پر منفی اثر پڑتا ہے ۔اپنا دودھ پلانے سے بچوں اور ماں باپ کا روحانی رشتہ مضبوط ہوتا ہے ۔ڈبے کے دودھ پر پلے ہوئے بچوں کی مثال فارمی مرغیوں کی طرح ہے دیسی اور فارمی مرغیوں میں فرق ہر شخص آسانی سے محسوس کرسکتا ہے ۔بچے کی پیدائش کے فورا بعد ماوُں میں قدرتی طورپر دودھ بننا شروع ہوجاتا ہے اور پورا دودھ بنتا ہے ۔ البتہ بچے کی صحیح پوزیشن ضروری ہے اور اس سلسلے میں محکمہ صحت کے عملے اور نرسسزسے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر ماں معمولی سی اضافی خوراک مثلا دودھ ، فروٹ ، جوس یا ایک چپاتی اضافی کھائے تو ماں اور بچے دونوں کی ضرورت پور ی ہوسکتی ہے ۔کینسر کے سو ا دوسری عام بیماریوں کی صورت میں مائیں بچوں کو دودھ پلا سکتی ہے ۔حتیٰ کہ ٹی بی اور ہیپاٹائٹس بی اورسی کی صورت میں بھی ویکسین لگا کر بچے کو دودھ پلایا جاسکتا ہے ۔کرونا وائرس سے متاثرہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانا جاری رکھیں تاہم اطتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں ۔بعض حالات میں صرف مستند ڈاکٹر کے ہدایت پر بچے کو کوئی دوسرا دودھ پلا یا جاسکتا ہے ۔بچوں کو ماں کا دودھ نہ پلانا اور ڈبے وغیر ہ کا دودھ پلانا ایک کلچر بن چکا ہے ۔جس کا خاتمہ ضروری ہے ۔دنیا میں ماں کے دودھ کا نعم البدل کوئی دوسرا دودھ نہیں ہوسکتا اور نہ آج تک کسی شخص یا کسی کمپنی نے اس کا دعویٰ کیا ہے ۔بچوں کی بہت سی بیماریاں خصوصا پیٹ کی بیماریاں ، ڈبے کی دودھ اور فیڈر بوتل سے پیدا ہوتی ہیں ۔کیونکہ جس طرح بوتل کو اُبال کر اور جس مقدار سے دودھ اور پانی ملا کر اور دودھ بنا کر بچے کو دیا جاسکتا ہے وہ بعض اوقات برتن ، پانی ، بجلی، ہیٹر ، برش ، جگہ ، وقت ، باڈی کی حرارت نہ ہونے اور سردی ، گرمی ، سفر ایمرجنسی اور بیماری کی وجہ سے ممکن ہی نہیں ہوتا ۔جبکہ دوسری طرف ماں کا دودھ ہر وقت ، ہر جگہ، سفر یا ایمر جنسی ، مشکل حالات ، گرمی یا سردی میں تازہ حالت اور باڈی حرارت کے مطابق بلاقیمت میسر ہوتا ہے ۔ بچے کو ماں کا دودھ پلا کر نہ صرف بیماریوں سے اسے بچا یا جاسکتا ہے بلکہ ہر مہینے ہزاروں روپے بھی بچائے جاسکتے ہیں اور یہی رقم بعد میں بچے کی تعلیم و تربیت پر خرچ کی جاسکتی ہے ۔ بچے کو اپنا دودھ پلاکر ماں اور بچے کو جو اپنا ہیت ، سکون اور روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے اس کا بیان مشکل ہے ۔
ماں کے دودھ کے ہفتہ وار مہم پر پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح ہم بلوچستان میں بھی اگست کے مہینے میں ماں کے دودھ کا ہفتہ منار ہے ہیں تاکہ ماں کے دودھ کی افادیت اور اہمیت کواجاگر کیا جا سکے بلوچستان میں لوگوں میں ماں اور بچے کی بنیادی غذا اور اس کی شدید ضرورت سے متعلق شعور و آگہی کی کمی پائی گئی ھے۔میری گزارش ہے کہ اس سلسلے میں علماءکرام ، اساتذہ کرام ، سول سوسائٹی ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور آج کل کا ابھرتا ھواسوشل میڈیا بھرپور کردار ادا کرتے ھوئے لوگوں میں شعور و آگہی پیدا کریں اور ھماری مہم میں مددگار ثابت ھوں۔بلوچستان میں ایک عام تاثر یہ بھی پایا جاتا ھے کہ مائیں جب بچے کو دودھ پلاتی ھیں تو اس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ھوتے ھیں یہ تاثر بلکل غلط ھے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مائیں جب بچے کو اپنا دودھ پلاتی ھیں تو اس کے بہت فوائد ماں کی صحت پر پڑتے ھیں۔اپنا دودھ پلانے سے جسم کی اضافی چربی بھی ختم ھو جاتی ھے اور مائیں زیادہ صحت مند اور سمارٹ رھتی ھیں۔اور ما¶ں کو چھاتی کا کینسر بھی نہیں ھوتا۔ اور دوسری اھم بات یہ ھے کہ گزشتہ دو سالوں سے ھمیں کرونا وائرس کا سامناھے تو اس موقع پر یہ بتانا ضروری ھے کہ اگر کوئی ماں کرونا وائرس سے متاثر ھے تو وہ اپنے بچے کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ھوئے اپنا دودھ پلا سکتی ھیں اور دودھ پلانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔اس موقع پر سیکرٹری پرائمری وسیکنڈری ہیلتھ کئیر بلوچستان عزیز احمد جمالی نے کہا ہم ہر سال عالمی دنیاکے ساتھ ملکر اگست کے مہینے میں ماں کے دودھ کی افادیت اور اھمیت کو اجاگر کرنے کا ھفتہ مناتے ھیں۔اس سال بھی صوبائی نیوٹریشن ڈائریکٹریٹ محکمہ صحت حکومت بلوچستان اس سال کے تھیم بچوں کے لئے ماں کے دودھ کا تحفظ ھم سب کی ذمہ داری ے تحت یہ ھفتہ منا رھا ھے۔اور اس سلسلے میں لوگوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لئے مختلف نوعیت کی سرگرمیاں منعقد کی جارھی ھیں جو کہ خوش آئند ھے۔ ماں کے دودھ کی افادیت اور اھمیت اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں آیت کریمہ کے ذریعے بھی واضح کیا ھے اور ھدایت دی ھے کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ دو سال تک پلائیں اور یہ بات واضح ھے کہ ماں کا دودھ بچوں کو بہت سی بیماریوں سے محفوظ بھی رکھتا ھے۔ تو ھمیں چائیے کہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد،سول سوسائٹی، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور باالخصوص علماءکرام اور اساتذہ
کرام ماں کے دودھ کی اھمیت کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ بلوچستان میں ما¶ں اور بچوں میں غذائی کمی کا مسلہ زیادہ ھے اور جس سے ھمارے بچے اور ما¶ں کی صحت پر گہرے اثرات مرتب ھورھے ھیں۔تو آئیے ھم سب ملکر بلوچستان میں بچوں کی غذائی کمی پر قابو پانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔صوبائی نیوٹریشن ڈائر یکٹریٹ محکمہ صحت حکومت بلوچستان ڈاکٹر عابد پانیزئی نے بلوچستان میں غذائی قلت کے حوالے سے صورتحال پر کہا کہ بلوچستان میں 18.9 فیصد بچے سوکھے پن کا شکار ھیں اور46.6فصد بچے غذائی کمی وجہ سے اپنا قدپورا نہیں کر پاتے ہیں ۔61.3فصد خواتین خون کی کمی کا شکار جب کہ نوجوان لڑکیاں جن کی عمر دس سال سے لیکر 19سال کے درمیان ہے ان میں یہ تناسب 73.7 فصد ہے5سال سے کم عمر بچیوں میں خون کی کمی کا تناسب 46.5فیصدہے ۔ اور بچوں میں یہ تنا سب 50فیصد ہے ۔ بلوچستان میں خواتین اور بچوں میں غذائی کمی دور کرنے کے کئی پروگراموں پر عمل ھورھا ھے۔جس میں محکمہ نیوٹریشن ڈائریکٹریٹ کے ہیلتھ ورکرز مختلف علاقوں میں کام کررھے ھیں۔ موجودہ حکومت بلوچستان نے صوبے میں بچوں اور ما¶ں میں غذائی کمی کے صورتحال کو محسوس کرتے ھوئے 28 نومبر2019 کو نیوٹریشن ایمرجنسی نافذ کی۔اور صوبائی نیوٹریشن ڈائریکٹریٹ کو مزید فعال بنایا اور شدید غذائی قلت سے دوچار اضلاع میں بھرپور انداز میں کام شروع کیا گیاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*