تازہ ترین

گیس کی کمیابی میں بجلی کے زیادہ استعمال کی ترغیب

نصرت جاوید
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے جس لگن واستقلال سے اپوزیشن جماعتوں کی بولتی بند کررکھی ہے قابل ستائش نہ بھی ہو تب بھی قابل توجہ ہے۔عمران حکومت کے بس میں ہوتا تو وہ انہیں نیب چیئرمین کے عہدے پر تاحیات برقرار رکھنے کا بندوبست فراہم کردیتی۔فی الوقت مگران کے عہدے کی معیاد میں توسیع کے راستے بنائے جارہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ بیانیے اور حکمت عملی کے حوالے سے کئی ٹکڑوں میں بٹی اپوزیشن جماعتیں اس ضمن میں تگڑی مزاحمت دکھانہیں پائیں گی۔بالآخر شاید عدالتوں سے انصاف کی بھیک مانگنا پڑے۔ پارلیمان اس کی وجہ سے اگرچہ مزید بے توقیر ہوجائے گی۔
چیئرمین نیب کے عہدے پر کون فائز ہے۔وہ کونسے سیاستدانوں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں یہ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کا حقیقی مسئلہ نہیں۔حکمران اشرافیہ کے مابین ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے والی جنگ ہے۔محدود آمدنی والے لاکھوں گھرانوں کا اصل مسئلہ بجلی کے بل ہیں جو نومبر کا آغاز ہوتے ہی ہمیں بلبلانے کو مجبور کردیں گے۔ حال ہی میں بجلی کے یونٹ کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اسے عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں اضافے سے نتھی کردیا گیا۔عمران حکومت کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج رعونت سے یہ دعوے بھی کررہی ہے کہ عالمی منڈی میں ابھری تیزی کے باوجود پاکستان کو مہنگائی کی لہر سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش ہورہی ہے۔ہمارے ہاں اشیاءصرف اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی قابل برداشت ہیں۔اس کے علاوہ یہ اصرار بھی ہورہاہے کہ ہمارے ہاں غربت نہیں بلکہ خوش حالی میں اضافہ ہورہا ہے۔لاکھوں گھرانے چھٹیاں منانے تفریحی مقامات پر جارہے ہیں۔نئی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں۔ ایسے ماحول میں قیمتوں کا بڑھنا بھی لازمی ہے۔طلب ورسد کے مابین فرق والی منطق کا تقاضہ۔
وطن عزیز میں خوش حالی کو بڑھتا دیکھتے ہوئے چند ہفتے قبل فیصلہ ہوا کہ پاکستانیوں کو موسم سرما میں اپنے گھر گرم رکھنے کے لئے بجلی سے چلائے آلات کے استعمال کی جانب راغب کیا جائے۔زیادہ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کسی ذمہ دار نے ذلتوں کی ماری رعایا کے سامنے مگر ایمان داری سے اعتراف نہیں کیا کہ ہمارے ہاں پیدا ہونے والی گیس اب ہماری اجتماعی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہی۔ہم اسے عالمی منڈی سے خریدنے کو مجبور ہیں۔ملک کی اجتماعی طلب کو ذہن میں رکھتے ہوئے البتہ بروقت پیشگی سودے نہیں ہوئے۔عالمی بازار میں اس کی قیمت اب آسمانوں کو چھورہی ہے۔برطانیہ جیسا خوش حال ملک بھی اس کی وجہ سے بوکھلا گیا ہے۔ہمارے علم میں لائے بغیر سرکاری محکموں نے اگرچہ ادراک کرلیا کہ نومبر2021سے فروری 2022کے دوران گھروں میں نصب ہیٹروں اور گیزروں کو چلانے کے لئے گیس میسر نہیں ہوگی۔حساب لگانے کے بعد مگر خوف یہ لاحق ہوا کہ موسم سرما کی شدت میں ہمارے گھر برف خانوں میں بدلنا شروع ہوگئے تو عوامی احتجاج کی لہر پھوٹ سکتی ہے۔ممکنہ احتجاج کی راہ روکنے کے لئے چند حکومتی نورتنوں نے نسخہ تجویز کیا کہ گیس کی قیمتوں کو ناقابل برداشت حد تک بڑھادیا جائے۔ گیس کے متبادل کے طورپر بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے۔
سرکاری محکموں کے مابین جن دنوں اس موضوع پر خط وکتابت ہورہی تھی تو اس کالم میں اس کی بابت آپ کو آگاہ کرنا ضروری تصور کیا۔ میری آواز مگر نقار خانے میں بلند ہوئی طوطی کی صدا ثابت ہوئی۔روایتی اور سوشل میڈیا پرچھائے ذہن ساز افغانستان میں امریکہ کی ذلت ورسوائی کے جشن منانے میں مصروف رہے۔ اس سے جی بھرگیا تو اسلام کے استحکام اور فروغ کے لئے بنائے پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی کو روکنے کی فکر میں مبتلا ہوگئے۔دریں اثناءمسلم لیگ (نون) کے ایک بلند آہنگ ترجمان کی سچی یا جھوٹی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ صحافیوں کی تفتیشی صلاحیتیں یہ وڈیو بنانے والوں کی نشان دہی پر مرکوز کردی گئیں۔اس ویڈیو کے ذکر سے بھی جی اُکتا گیا تو بینڈ باجہ اور بارات کے ساتھ پینڈورا لیکس کا تذکرہ شروع ہوگیا۔وہ اگرچہ عمران حکومت کا پانامہ نہیں بن پائیں۔ہمارے ذہن کو اس امر کے لئے تیار کرنے کی کوشش ہی نہ کی کہ نومبر سے جب سردی شروع ہوجائے گی تو ہمارے گھروں میں نصب ہیٹروں اور گیزروں کو چلانے کی سکت سے ہم محدود اور کم آمدنی والے تقریباََ محروم ہوجائیں گے۔
منگل کے روز بالآخر وفاقی کابینہ نے فیصلہ کردیا ہے کہ نومبر سے فروری کے دوران گھروں کو گرم رکھنے کے لئے بجلی کے استعمال کی ترغیب دی جائے۔ اس ضمن میں جو حکمت عملی تیار ہوئی ہے اس کی تفصیلات کسی وزیر نے ہمیں بتانے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔فقط اشارے دئیے گئے ہیں کہ نومبر سے فروری کے دوران اگر ہم گیس کے بجائے بجلی استعمال کرتے نظر آئیں تو ہمارے بلوں میں خاطر خواہ رعایت دی جائے گی۔بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پانچ سے سات روپے کمی کی بات بھی ہورہی ہے۔
سوال اٹھتا ہے کہ جس رعایت کا وعدہ ہورہا ہے میں اس کا خود کو حقدار کیسے ثابت کروں گا۔ غالباََ مجھے گیس کے محکمے کو باقاعدہ آگاہ کرنا ہوگا کہ میں نومبر سے فروری کے دوران اپنے گھر میں نصب ہیٹر یا گیزر استعمال نہیں کروں گا۔فرض کیا وہ اعتبار کرنے سے انکار کردیں تو کیا مجھے انہیں اپنے ہاں آئے بجلی کے بل دکھانا ہوں گے جو واضح انداز میں عندیہ دے رہے ہوں کہ میں گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں زیادہ بل وصول کررہا ہوں۔
عمران حکومت مصر ہے کہ پاکستان کمپیوٹر کے استعمال میں بہت طاق ہورہا ہے۔اسی باعث آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال پر زور دیا جارہا ہے۔کرونا کی ویکسین لگوانے کا عمل ہمارے موبائل فونوں کے ذریعے ہی جاری رکھا جارہا ہے۔ہمیں وہ ٹیکنالوجی بھی میسر ہے جس کی بدولت خدانخواستہ ہم میں سے کوئی کرونا کی زد میں آجائے تو حال ہی میں ہمارے ساتھ رابطے میں آئے افراد کی نشاند ہی بھی ہوسکتی ہے۔
عوام کی روزمرہ زندگی پر کڑی نگاہ رکھنے والے اس نظام میں میرے گھر بجلی اور گیس فراہم کرنے والوں کے پاس ایسی Appsبھی موجود ہونا چاہیے جو انہیں ازخود بتاپائیں کہ میں نے نومبر2021اور فروری2022کے مہینوں میں اپنے گھر میں نصب ہیٹر اور گیزر کو گیس سے نہیں چلایا۔مجھے یہ ثابت کرنے کے لئے اپنے کام چھوڑ کر سرکاری دفتروں میں دربدرنہ ہونا پڑے۔
اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لئے گیس کے بجائے بجلی کے استعمال کی بات چلی تو میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر اپنے گھر کے سٹور کی تلاشی لی جہاں استعمال نہ ہونے والی اشیاءکا ڈھیر جمع ہے۔وہاں سے بجلی سے چلنے والے فقط دوہیٹر دریافت ہوئے جو غالباََ 1990کے آغاز میں خریدے گئے تھے۔وہ بے دریغ بجلی خرچ کرنے والے رویے کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنائے گئے تھے۔ہمیں اب بجلی سے چلنے والے کم از کم تین نئے ہیٹر خریدنا ہوں گے۔گیزر کا کیا کرنا ہے اس کی ترکیب اگرچہ ہم دریافت نہیں کر پائے۔ہم دونوں نے برسوں کی مشقت سے جو کمایا اور بچایا تھا اپنے مکان کی تعمیر پر خرچ کردیا۔فی الوقت جو گیزر نصب ہیں وہ فقط دوبرس قبل ہی خریدے گئے تھے۔اپنی محدود آمدنی سے میں اور میری بیوی اپنے گھر کو متوسط طبقے کا کنبہ دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ہم شاید رودھوکر بجلی سے گھر اور استعمال کا پانی گرم رکھنے والے نئے آلات بازار سے خرید کر نصب کروالیں گے۔اس کنبے کا مگر کیا ہوگا جہاں کا صرف ایک فرد ماہانہ 30سے 50ہزار روپے کماتا ہے۔اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہا تو سرچکراگیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*