تازہ ترین

گولی ‘ گالی اور دلیل

تحریر:محمد اسلم خان
دلیل دفن ہوئی، گالی گولی میں بدلی۔ سیاہی جوتے کے بجائے منہ پر ملی جارہی ہے اور پاﺅں کی جگہ جوتا سر پر برس رہا ہے۔ اب ہاتھ میں پستول آچکا ہے۔ خوف آتا ہے مزید کون سا دیو برآمد ہونا باقی ہے ؟
صدشکر کہ بھائی احسن اقبال کو اللہ تعالی نے نئی زندگی دی لیکن آخر یہ قصور ہے کس کا ؟ معاشرے کو نئی زندگی کون دے گا؟ محرومیوں، جہالت، کرپشن، نفرت، حسد اور انتقام کی آگ میں سلگتے معاشرے پر رہنماﺅں کی زہر اگلتی زبانیں پٹرول کا کام کررہی ہیں۔ پستول یقینا وزیرداخلہ پر گولی داغنے والے عابد حسین کے ہاتھ میں تھا لیکن اسے چلانے کی سوچ، عمل کی قوت اور حوصلہ اسے کہاں سے ملا ؟ واقعہ پر پولیس نے جو کیا، اس نے سر مزید چکرا دیا جس کا نشانہ نارووال کے دین دار راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولنے والے احسن اقبال نشانہ بن گئے۔
احسن اقبال کی والدہ ماجدہ آپا نثار فاطمہ ان ارکان پارلیمنٹ میں نمایاں تھیں جنہوں نے ختم نبوت کا قانون بنانے میں کردار اداکیا تھا۔ ان کے فرزند پر گولی چلنے کی وجہ بھی اسی قانون سے جڑی ہوئی ہے مستقبل میں جھانکتے، سی پیک کے مبلغ کی کہنی کو متاثر کرتے ہوئے گولی پیٹ کے نچلے حصے میں داخل ہوئی۔ وہ پارٹی کی کارنر میٹنگ سے واپس جارہے تھے کہ عابد حسین نامی نوجوان کی چلائی گولی کی زد میں آگئے۔ ملزم عابد حسین نے پولیس کو اعترافی بیان دیا کہ اصل ہدف احسن اقبال ہی تھے۔کیونکہ تحفظ ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی پر اس کے مجروح جذبات نے احسن اقبال کو قصوروار ٹھہرایا۔ ایک تنظیم کے اڑھائی سو فارم کی فروخت سے جمع شدہ پندرہ ہزار روپے سے علاقے کے ایک شخص سے پستول خریدی۔ پولیس کو دئیے گئے بیان کو سن کر عابد حسین کی ذہنی حالت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ وڈیو دیکھ کر اتنا ہی صدمہ اور دل کو ٹھیس پہنچی جس قدر احسن اقبال پر گولی چلنے سے رنج ہوا۔
عابد حسین نے اپنی والدہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ عامر عبدالرحمن چیمہ اور الیاس قادری کی تقاریر والی کیسٹس سنتی تھیں۔ غازی علم دین شہید کے نقش قدم پر چلنے کی نصیحت کرتی تھیں۔ اس نے کہا کہ احسن اقبال میرے علاقے کے ہیں اس لیے وہ آسان ہدف تھے یہ افسوسناک واقعہ ہمارے لئے گہرے سبق لئے ہوئے ہے۔ کاش ہم اس کی سنگینی، گہرائی کا جانچیں۔ اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ اپنی قوم کو چڑھانے والے قائدین کی آنکھ اب بھی نہ کھلی تو مستقبل کا بھیانک منظرنامہ شاید کسی کی برداشت میں نہ رہے۔ اپنی قوم بالخصوص نوجوانوں کے ذہنوں سے کھیلنے کا یہ عمل نہ رکا تو اسکے نتائج کا تصور کوئی بھی محب وطن، ذی شعور اوردرددل رکھنے والا مسلمان اور پاکستانی بخوبی کر سکتا ہے۔ پولیس، انتظامیہ اور حکومت کی کارکردگی دیکھ کر مزید رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ واقعات کی ترتیب دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری اندرونی صورتحال کیا ہے۔ یہ عام واقعہ نہ تھا وفاقی وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے حکمران جماعت کے مرکزی راہنما اپنے آبائی علاقے میں اور اپنی ہی جماعت کی حکومت کی حدود میں تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم سے برآمد کی گئی پستول میں 9 گولیاں تھیں۔ ایک گولی چلانے پر ایلیٹ فورس کے جوانوں نے اسے قابو کیا جس کے بعد گولی کا رخ تبدیل ہوا۔
ملزم عابد حسین کارنر میٹنگ میں دوپہر 3 بجے سے مسلح بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق وزیرداخلہ کے اس جلسے سے متعلق پولیس اور اسپیشل برانچ لاعلم تھی۔ جلسے کے منتظم گلفام کیول کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ بتایا گیا کہ جلسے سے پہلے پولیس کو اطلاع نہ دینے پر اسے حراست میں لیا گیا۔ ملزم کو موٹر سائیکل پر جائے وقوعہ تک پہنچانے والے شخص عظیم کوبھی گرفتارکر لیا گیا ہے جو فائرنگ کے بعد وہاں سے فرار ہوگیا تھا۔تھانہ شاہ غریب میں اگرچہ ملزم عابد کے خلاف فوری مقدمہ درج کرلیا گیا لیکن ایک تکنیکی غلطی یہ ہوئی کہ پولیس نے پرچے میں ملزم کی فائرنگ کا جو وقت لکھا ہے وہ ایجنسیز اور دیگر اداروں کی رپورٹس سے مختلف ہے۔ بظاہر یہ معمولی سی بات ہے لیکن برس ہا برس چلنے والے یہ مقدمات جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں اور جرح کے مراحل سے گزرتے ہیں تو منٹوں، سیکنڈوں، گھنٹوں اور الفاظ کے تضاد قانونی موشگافیوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ایرانی کلچرل قونصلر آقائے صادق گنجی کیس اس کی مثال ہے۔ جس میں ملزمان سپریم کورٹ سے اس قانونی نکتہ پر بری ہوگئے تھے کہ پرچہ درج کرنے والے پولیس اہلکار کانام وقوع کے روز ’ڈیوٹی روسٹر‘ پر درج نہیں تھا۔ قتل کی جگہ ڈیوٹی پر کوئی اور اہلکار تعینات تھا اور پرچہ کسی اور اہلکار کی مدعیت میں درج ہوا، شہادت قانون پر پورا نہ اتری۔ ایرانی حکومت احتجاج ہی کرتی رہ گئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اداروں کی پیشہ وارانہ اہلیت کیا ہے؟ کوئی حادثہ یا سانحہ ہوجائے تو اس سے نبردآزما کیسے ہونا ہے؟ ہماری تیاری کیا ہے؟ لیاقت علی خان کی شہادت سے لےکر محترمہ بے نظیر بھٹو کو کفنانے تک، جنرل ضیاءالحق کے طیارے کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے سے لیکر مرتضی بھٹو کے سرعام قتل تک۔ ہماری پیشہ وارانہ مہارت و لیاقت باتوں، دعووں اور پھرتیوں میں تتر بتر ہوجاتی ہے۔ جائے وقوعہ پانی سے دھوکر فارنزک کے تمام عمل پر ہی پانی پھیر دیاجاتا ہے۔
اعلی ترین سطح پر یہ حال ہے تو عام شہری کس شمار قطار میں ہوگا۔ اصل لمحہ فکریہ یہ ہے۔ صوبائی حکومت کی سطح پر کارروائی اس سے بھی مزیدار رہی۔ جیسا ہوتا ہے فوری کاروائی کرتے ہوئے پہلے ایک جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان ہوا۔ ایک گھنٹے بعد ہی دوسری جے آئی ٹی کا اعلان ہوگیا۔ سوال ذہن میں آیا کہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے سے پہلے سوچ بیچار میں کیا جلدی تھی؟ اگر ایسے نازک معاملات میں سمجھداری، دانائی اور حکمت پر جلدبازی، نمبربازی اور ’ہوگیا‘ کی تکرار سے دامن آلودہ رہیں گے۔اس موقع کو بھی معاشرہ میں موجودہ نفسیات کے جائزہ کیلئے استعمال کرنے کے بجائے عدلیہ پر وار کیلئے استعمال کرنے میں انتظامیہ ہر گز نہیں چوکی۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان لپکے اور فرمایا ’اہم لوگوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سے بات کریں گے۔
اہم لوگوں کی سیکیورٹی کے بارے میں حکومت کو خود فیصلہ لینا ہوگا۔‘ یہ جواب آں غزل چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے پولیس کی وی آئی پی ڈیوٹیز پر سکیورٹی کے نام پر ڈیوٹیوں پر مامور پولیس اہلکاروں کی واپسی کے حکم پر جاری ہوا۔ یہ ہے اصل مسئلہ۔ ہماری ترجیحات کی سمت اور اقدامات کا ر±خ۔ احسن اقبال پر حملہ کے بعد مذمت کے روایتی بیانات جاری ہوئے۔ سینٹ قومی اسمبلی میں ’ہال دہائی‘ مچی رہی۔ کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ اصل مسئلہ پر آتے۔ فساد کی اصل جڑ ‘راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ ہے جو ابھی تک جاری نہ ہوئی۔ لیکن دوسری جانب سٹیج پر چڑھ کر گولی مارنے کے بیانات جاری ہونا بھی کسی دانائی، عقل مندی یا حکمت کا مظہر ہرگز نہیں۔ اس بات کو سمجھنے کیلئے ایک مثال اور عرض ہے۔ وزیرداخلہ سے ایک عام راہگیر تک محفوظ نہیں۔ کسی کو بس روندتی ہے تو ٹرک دیوار توڑ کر گھر میں گھس آتا ہے۔ علماءدشنام طرازی کی شہرت پا رہے ہیں۔ لیڈروں پر جوتے برس رہے ہیں۔ سیاستدان اینکر، اینکرز سیاستدان بن بیٹھے ہیں۔ سندھ میں بھنگ کو قومی مشروب قرار دینے کی تحریک شروع ہے۔ اردو میں کہیں تو ’الٹی گنگا بہہ رہی ہے‘۔ ’مجھے کیوں نکالا‘، ’خلائی مخلوق‘، ’اوئے‘، ’باجوہ ماجوہ‘، ایک دوسرے کو مغلظات سے نوازتے فحش کلام ٹی وی مذاکروں کے مہمان اور میزبان، غرض پڑھے لکھے لوگ یہ سب کررہے ہوں تو ’عام آدمی‘سے کیا گِلہ ؟ حسن تدبیر کا حیرت انگیز شاہکار تخلیق کرنے والے کائنات کے رب کے ماننے والے زمین پر بدترین مثال بنے بیٹھے ہیں۔ بے ساختہ یاد آیا۔ ’نماز پڑھیں‘ قبل اسکے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے‘۔۔۔ ’نئیں سمجھے‘۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*