تازہ ترین

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر!!!!

محمد اکرام چودھری
ڈاکٹر عبدالقدیر خان تمام پابندیوں، رکاوٹوں اور مسائل سے چھٹکارا حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔ وہ پاکستان کے حقیقی ہیرو ہیں۔ ہم ڈاکٹر صاحب کو ان کا جائز مقام بھی دینے میں ناکام رہے۔ اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا رہے گا لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ہمارے اپنے لوگ ہی متنازع بناتے رہے۔انہیں لوگوں سے گلہ نہیں تھا وہ ہمیشہ حکمرانوں سے ناراض رہے۔ یہ ہماری بدقسمتی نہیں بیحسی ہے۔ قوم نے بھی بہت زیادہ ردعمل نہیں دیا، قوم کو معدے کے چکروں میں ایسا الجھایا گیا ہے کہ ان کے پاس کچن چلانے کے علاوہ سوچنے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے انٹرویوز سنے جائیں ان کی آواز کے کرب کو محسوس کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو عزت دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حکمران نجانے کس کے خوف سے ڈاکٹر عبدالقدیر سے دور دور رہے۔ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر جنہوں نے ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا وہ اپنوں میں انجانے ہو گئے۔ وہ کہتے تھے میرا کوئی قبیلہ نہیں میں ایک اردو بولنے والا ہوں، کسی بڑے قبیلے کا نہیں ہوں، میری پہچان میری صلاحیت ہے، پاکستان میرا فخر ہے، میری جذباتی وابستگی صرف پاکستان سے ہے۔ میں نے پاکستان کے بہتر مستقبل کی خاطر بڑی بڑی پیشکشوں کو ٹھکرایا، زندگی کا بہترین حصہ ملک و قوم کے دفاع کو مضبوط بنانے میں لگا دیا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ جب ملک کے حکمرانوں نے منہ پھیر کیا، صرف حکمرانوں نے ہی منہ نہیں موڑا ہر طاقتور نے منہ موڑ لیا۔ جن کی طاقت قائم رکھنے کے لیے ہم نے جوانی لٹائی وہی کتراتے رہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کا یہ شعر ان کے جذبات بیان کرتا ہے۔
گذر تو گئی ہے خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گذری ہے
ایک ایسا شخص جس کے لیے پاکستان ہی سب کچھ ہو، جو ساری زندگی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے جدوجہد کرتا رہا وہ ایسے الفاظ کہے تو کیا ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہیں۔ وہ ایٹم بم کے خالق تھے، ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، ہم ایسے ہیروز کے ساتھ بھی یہ سلوک کریں گے تو پھر ہم ایسے لوگوں کو ترستے رہیں گے۔ میرا آج مسلسل تیسرا کالم ڈاکٹر اے کیو خان کے حوالے سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے بہت دکھ اور تکلیف ہے کہ ایک محب وطن ملک و قوم کے خدمتگار کو ہم رلا رلا کر دنیا سے بھیجا ہے۔ یہ لکھتے ہوئے شاعر عوام، شاعر انقلاب حبیب جالب یاد آتے ہیں، حبیب جالب لکھتے ہیں
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے
مطمئن ہے ضمیر تو اپنا
بات ساری ضمیر ہی کی ہے
اپنی تو داستاں ہے بس اتنی
غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے
اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھول
فکر ہ کو کلی کلی کی ہے
پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اسی کی ہے
جب مہ و مہر بجھ گئے جالب
ہم نے اشکوں سے روشنی کی ہے
پھر لکھتے ہیں
حکمراں ہو گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگینے لوگ
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایسے ہی حکمرانوں کے رویوں سے تنگ تھے۔ ان کا آخری خط بھی ہماری بیحسی کی داستان سنا رہا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کی کارروائیوں کی منیر نیازی مرحوم نے کیا خوب منظر کشی کی ہے لکھتے ہیں
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
جتنے بھی وزراءمختلف ٹیلیوژن چینلز پر نظر آ رہے ہیں وہ ڈاکٹر اے کیو خان کے جنازے میں اہم حکومتی شخصیات کی عدم شرکت پر وضاحتیں دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں یہ الفاظ شاید ایسے ہی واقعات کے لیے لکھے گئے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کوئی جائیداد حکومت ضبط نہیں کر سکی، ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ حکومت بینک اکاونٹس منجمد کرتی، اتنی بڑی گاڑیاں یا بیرون ملک اثاثے نہیں تھے کہ چھان بین کر سکتی۔ ان کے پاس ملک کی محبت تھی، اپنی قوم کے لیے کام کرنے کا جذبہ تھا، یہ جذبہ اور محبت ان سے کوئی نہیں چھین سکتا تھا۔ یہ جذبہ آخری سانس تک ان کے ساتھ رہا۔ وہ مرتے دم تک ملک سے محبت اور قوم کی خدمت کے جذبے کے تحت مٹی کا قرض چکانے کی کوشش میں مصروف رہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں لیکن ان کے اختیار کیا جانے والا رویہ بھی ناقابلِ برداشت ہے۔ ہم نے اپنے ہیروز کی ایسے ہی ناقدری کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم ایسے اعلیٰ دماغوں سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ جب ہمارے ملک کے حقیقی ہیروز اپنی زندگی کو یہ سمجھیں کہ وہ کوفیوں کے درمیان زندگی گذار رہے ہیں تو نوجوانوں کو کیا پیغام جائے گا۔ ہم کوئی مثال تو قائم نہیں کر رہے۔ کیا سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنا کر ہم ہہ سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری ادا ہو گئی ہے۔ یقیناً نہیں ڈاکٹر اے کیو خان اس سے بہت زیادہ ہے مستحق تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ہیروز کی قدر کرنے کی توفیق عطاءفرمائے، ایسے لوگ نعمت ہوتے ہیں اور نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*