تازہ ترین

گرمی کا دشمن تربوز

کنزا زاہد یار خان
ایک دن ملا نصیر الدین سیب کے باغ میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک درخت سے سیب ٹوٹ کر ان کے سر پر گرا۔وہ شکوہ کرنے لگے کہ پروردگار سیب درخت پر لگانے کی کیا ضرورت تھی۔چلتے چلتے تربوز کے کھیت سے اُن کا گزر ہوا تو زمین پر لگے تربوز سے ٹکرا کر وہ لڑکھڑا گئے اور گرتے گرتے بچے۔تب وہ سوچنے لگے کہ سیب کی جگہ اگر تربوز سر پر گرتا تو اُن کی کیا حالت ہوتی۔
یہ سوچ کر انھوں نے اللہ کا بے حد شکر ادا کیا اور کہا:”پروردگار!تیرے ہر کام میں حکمت ہے۔“
تربوز انگور کی بیل کی طرح بڑھتا ہے۔اس کی ایک ہزار اقسام بتائی جاتی ہیں۔یہ پاکستان،ہندوستان اور افغانستان کے علاوہ شام و فلسطین میں بھی بہ کثرت پایا جاتا ہے۔افغانستان میں بے حد پسندیدگی کے باعث یہ پاکستان سے برآمد (Export) کیا جاتا ہے۔
یہ گول اور لمبوترا ہوتا ہے۔یہ مختلف رنگوں میں ہوتا ہے،مثلاً سبز،گہرا سبز،سبز دھاری دار اور سیاہ۔تربوز،خربوزہ اور پیٹھا ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔نومبر اور دسمبر میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔اپریل اور مئی میں یہ تیار ہو جاتا ہے۔چونکہ اسے زیادہ پانی درکار ہوتا ہے،اس لئے دریائی علاقے کی زمین اس کے لئے بہترین ہوتی ہے۔نمک والی زمین اس کی کاشت کے لئے موزوں نہیں ہوتی۔
تربوز نہار منہ کھانا زیادہ مفید ہے۔غذائیت سے بھرپور اس پھل میں مانع تکسید اجزاء(Antioxidants) زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ مدافعتی نظام کو درست رکھتا ہے۔اس میں پوٹاشیئم،میگنیزیئم،حیاتین الف (وٹامن اے)،حیاتین ب ا اور ب 6 (وٹامنز بی ا اور بی 6) پائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ اس میں حیاتین ج (وٹامن سی) بھی ہوتی ہے۔یہ پھل سرطان،امراض گردہ،آنکھوں کے امراض،پیٹ کی صفائی، ہاضمے کی درستی،امراض قلب اور مثانے کی پتھری ختم کرنے میں بے حد مفید ہے۔
تربوز ایک ایسا پھل ہے،جو وزن بڑھاتا ہے۔ اس میں موجود کیروٹین (Carotene) چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) ختم کرنے میں معاون ہے۔کیروٹین سرخ رنگ کی سبزیوں اور پھلوں میں پائی جاتی ہے۔حکیم ابن سینا کی کتاب ”القانون“ کے مطابق تربوز کے چھلکے کا لیپ پیشانی پر لگانے سے آنکھوں کے امراض دُور ہونے لگتے ہیں۔
جس طرح گاڑی کے ریڈی ایٹر (Radiator) میں پانی ہوتا ہے اور انجن چلانے پر ریڈی ایٹر کے پیچھے لگا ہوا پنکھا ریڈی ایٹر کی ٹھنڈک انجن پر پھینک کر اسے ٹھنڈا رکھتا ہے،اسی طرح تربوز میں موجود پانی ہمارے جسم کے لئے ریڈی ایٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ نہ صرف جسم کا درجہ حرارت نارمل رکھتا ہے،بلکہ لُو (ہیٹ اسٹروک) سے بھی بچاتا ہے اور پانی کی کمی کو بھی دور کرتا ہے۔
اگر تربوز کے بیج کا معیار اچھا نہ ہو تو عمدہ قسم کا تربوز تیار نہیں ہوتا۔ہمیں خراب ذائقے اور پھیکے رنگ والا تربوز کھانے سے احتراز کرنا چاہیے، اس لئے کہ ایسے تربوز میں مصنوعی لال رنگ داخل کرکے (انجیکٹ) اُسے ظاہری طور پر خوش رنگ اور خوش ذائقہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے،لہٰذا جب بھی تربوز خریدیں،وزنی اور عمدہ قدرتی رنگ والا خریدیں۔
تربوز کھانے کے بعد دو گھنٹے تک دہی، چائے یا چاول کھانے سے اجتناب کریں۔تربوز بیج سمیت کھانا بھی مفید ہے۔ایک دن شیخ سعدی اپنے گدھے پر سوار کہیں جا رہے تھے،اُن کے ساتھ اُن کا مرغا بھی تھا۔دوران سفر زادِ راہ ختم ہو گیا۔انھیں بہت بھوک لگ رہی تھی،لیکن اُن کے پاس اتنے ہی پیسے تھے کہ خود کھانا کھا لیں۔انھوں نے راستے میں ایک بڑا تربوز خرید کر کھایا۔اس کے بیج مرغے کو کھلائے اور چھلکے گدھے کو کھلا دیے۔یوں تینوں کی بھوک کا مسئلہ حل ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*