تازہ ترین

گاجر کینسر کی دشمن

یہ بات بڑی حد تک سچ ہے کہ گاجر جیسی بے ضرر سبزی میں جو خصوصیات پائی جاتی ہیں وہ اپنے اندر اس درجہ کمال رکھتی ہیں کہ زندگی کو بچانے کے کام میں آتی ہیں جیسے کہ کینسر سے بچا¶۔گزشتہ چند برسوں کی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاجر اور دیگر پھلوں سبزیوں جیسے کہ اورنج‘ہرے پتے والی سبزیوں اور پھلوں میں حقیقت میں اتنی مخفی صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ کینسر کی افزائش کو کم کر دیں۔
یہ در حقیقت ایک مرکب ہوتا ہے جو گاجر اور ان پھلوں سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔گاجر میں پایا جانے والا یہ کمپا¶نڈ کوئی اور نہیں بلکہ بیٹا کیروٹین ہے جو کہ 400 سے زیادہ کیروٹینائیڈز میں سب سے بہترین مانا جاتا ہے اور وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔کیروٹینائیڈز وہ پیلے‘ہرے اور اورنج رنگ کے پگمینٹس ہوتے ہیں جو پودوں میں وسیع طور پر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔
کیروٹینائیڈز سب سے پہلے 160 سال قبل گاجر میں دریافت کئے گئے تھے۔”کیروٹین“ کی اصطلاح بھی لفظ ”کیرٹ“ سے اخذ کی گئی ہے۔
بیٹا کیروٹین جسے پرو وٹامن اے بھی کہا جاتا ہے وہ انسانی جسم میں جزوی طور پر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔تقریباً اس کا ایک چھٹا حصہ‘وٹامن A جو کہ خلیوں کے تغیر و تبدل کو کنٹرول کرنے میں ایک لازمی عنصر ہے اور صحتمند خلیوں کی افزائش میں تقویت پہنچاتا ہے ان کے علاوہ جسم کی اندرونی اور بیرونی لائننگ‘جلد‘پھیپھڑوں اور حلق کے خون کی رگوں کی جھلی کے خلیوں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔
غذائیت کے ماہرین نے حال ہی میں یہ دریافت کیا ہے کہ بیٹا کیروٹین میں ریگولر وٹامن اے کے صحت کے تمام فوائد پائے جاتے ہیں بشمول اپنے چند فوائد کے۔وٹامن اے کے برعکس بیٹا کیروٹین کی اضافی خوراک (اوور ڈوز) زہر آلودگی کا سبب نہیں بنتی کیونکہ اس کی وٹامن اے میں تبدیلی کی نگرانی جسم اپنی ضرورت کے مطابق کرتا ہے۔گو کینسر سے احتیاط میں بیٹا کیروٹین کے کردار کے بارے میں تحقیقات 1930ءسے جاری ہیں‘لیکن اس میں ایک انقلابی قدم اس وقت آیا۔
جب ایک ساتھ 15 تحقیقات‘اسرائیل‘ناروے‘جاپان‘ چین‘فرانس‘ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں منعقد کی گئیں۔
ان تحقیقات سے یہ پتہ چلا کہ جو لوگ زیادہ وٹامن اے والی غذائیں کھاتے ہیں ان میں کینسر ہونے کا امکان خاصا کم ہوتا ہے خاص طور پر معدے‘پھیپھڑوں‘غذائی نالی‘بڑی آنت (قولون) بڑی آنت کا آخری حصہ اور مثانہ کے کینسر کا۔
ایک دل آویز دریافت یہ رہی کہ کینسر کے تریاق کی غذا¶ں کی فہرست جو بار بار سامنے آتی رہی وہ سیاہ اورنج اور ڈارک گرین سبزیاں اور پھل تھے۔1981ءتک وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین کے درمیان کوئی بھی نتیجہ خیز رابطہ سامنے نہیں آیا تھا جب رچرڈ پیٹو اور اس کے رفقاءنے جن کا تعلق امپریل کینسر ریسرچ فنڈ‘کینسر اسٹیڈیز یونٹ‘آکسفورڈ‘انگلینڈ سے تھا۔
”نیچر“ نامی رسالے میں اس موضوع پر ایک اشتعال انگیز آرٹیکل لکھا۔
اپنے اس آرٹیکل میں پیٹو نے یہ رائے دی تھی کہ ان سینکڑوں غذا¶ں میں جن میں کیروٹینائیڈز شامل ہوتے ہیں یہ بیٹا کیروٹین تھا۔جس نے سبزیوں اور پھلوں کو ان کے اس معیار تک پہنچایا جہاں ان کا شمار بطور کینسر کی شرح کو نمایاں طور پر گھٹانے والی غذا¶ں میں ہونے لگا۔
اس کی تحقیق نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کر دی تھی کہ پھیپھڑوں کے کینسر کے خلاف ڈرامیٹک بچا¶ کا ذریعہ بیٹا کیروٹین ہے‘وٹامن اے نہیں۔
ابتداءمیں یہ فرض کیا گیا تھا کہ بیٹا کیروٹین کی وٹامن اے میں تبدیلی ہی وہ سبب ہے جو کہ اسے کینسر کا مقابل بناتی ہے لیکن معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
وٹامن A کے برعکس بیٹا کیروٹین اینٹی آکسیڈینٹ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ سپر چارجڈ آکسیجن کے ان خطرناک سالموں کو ختم کر سکتے ہیں جو کہ جسم میں دوڑتے پھرتے ہیں اور نارمل خلیوں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
1987ءمیں جونز ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف ہائیجین اینڈ پبلک ہیلتھ کی آنجہانی میریلن مینکس‘پی ایچ ڈی نے جو تحقیق کی وہ سنگ میل ثابت ہوئی۔اس تحقیق کی روشنی میں ڈاکٹر میریلن نے یہ بتایا تھا کہ جس کسی جسم کی شریانوں میں بیٹا کیروٹین کا بہا¶ جتنا کم ہو گا اس شخص کے پھیپھڑوں کے کینسر ہونے کی حساسیت اتنی ہی زیادہ ہو گی۔
٭٭٭٭جاری ہے٭٭٭٭
ڈاکٹر میریلن اور ان کی ساتھی محقق نے 1974ءمیں خون کے جو چند نمونے لیے تھے ان کو استعمال کرتے ہوئے بیٹا کیروٹین کے لئے ان کا تجزیہ کیا تھا پھر 1983ءمیں انہوں نے خون کا عطیہ دینے والے ان افراد کو تلاش کیا جنہوں نے 1974ءمیں یہ خون دیا تھا۔
پتہ یہ چلا کہ ان میں سے 99 پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔
پھر جب انہوں نے پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کے بیٹا کیروٹین کے بلڈ لیول کا ان افراد کے بیٹا کیروٹین کے بلڈ لیول سے موازنہ کیا جن پر اس بیماری نے اثر نہیں کیا تھا تو یہ پتہ چلا کہ جن افراد میں بیٹا کیروٹین کم سے کم تر تھا ان میں بلند لیول کے افراد کے مقابلے میں پھیپھڑوں کے سرطان کے امکانات 2.2 مرتبہ سے زیادہ کے تھے۔
ایک اور حیرت انگیز ہم آہنگی بھی اس مطالعے کی بناءپر ہویدا ہوئی۔یہ پتا چلا کہ خون میں موجود بیٹا کیروٹین کی کمی ڈرامائی طور پر فلوسی سرطانی خلیے (Squamous Cell Carcinoma) سے رابطہ رکھتا ہے جو کہ پھیپھڑوں کی جھلی کے جلدی کینسر کی ایک قسم ہے اور سگریٹ پینے والوں کے لئے انتہائی عام قاتل کی سی حیثیت رکھتی ہے۔
وہ افراد جن کے خون میں بیٹا کیروٹین کم سے کم مقدار میں پائی جاتی ہے ان میں سگریٹ نوشی سے نمو پانے والے کینسر کے مکانات ان لوگوں کے مقابلے میں جن میں بیٹا کیروٹین کی انتہائی مقدار پائی جاتی ہے‘چار گنا زیادہ ہوتے ہیں۔
بیٹا کیروٹین کی یہ دریافت اتنی امید افزا ہے کہ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اب اس مد میں اتنے زیادہ فنڈ مہیا کر رہا ہے کہ جو مطالعہ شروع کیا جا رہا ہے وہ سب سے بڑی پاپولیشن اسٹڈی قرار پائی ہے جو کہ اس مفروضے پر تجربات کرے گی کہ آخر بیٹا کیروٹین کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔خاص طور پر کینسر کی افزائش کی روک تھام میں۔جس مطالعہ کا ہارورڈ میڈیکل اسکول نے اہتمام کیا ہے اس میں پورے امریکہ سے لگ بھگ 25000 افراد کو چنا گیا ہے جو کہ ہر دوسرے روز یا تو بیٹا کیروٹین سپلیمنٹ لیں گے یا پلیسبو (ڈمی پل)Placebo (Dummy Pill)۔
ان لوگوں کے ڈائٹ لینے اور موجودہ صحت کی حالت سے متعلق سوال نامے بھرے جائیں گے اور ان کا ہر چھ ماہ کے وقفے سے موازنہ کیا جائے گا اور پانچ سال گزرنے کے بعد کنٹرول شدہ گروپس اور تجرباتی گروپس میں کینسر کی موجودگی کی پیمائش ہو گی۔
بیٹا کیروٹین کی سطح کو بلند کرنے کا سب سے مو?ثر طریقہ ان غذا¶ں کا استعمال ہے جن میں بیٹا کیروٹین کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔
بیٹا کیروٹین قدرتی طور پر ان پیلے‘زرد اور ڈارک گرین پگمینٹس میں تلاش کیا جا سکتا ہے جو بہت سے پھلوں اور سبزیوں میں موجود ہوتا ہے۔ ہرے پتے والی سبزیوں کے معاملے میں پیلے اور اورنج پگمینٹس‘ڈارک گرین کلوروفائل پگمینٹس ان کا احاطہ کر لیتے ہیں۔جہاں تک گاجر کے عنصر کا تعلق ہے جو کہ کینسر سے بچا¶ کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے‘وہ صرف گاجروں تک ہی محدود نہیں۔
دیگر غذائیں جن میں بیٹا کیروٹین کی بلند مقدار پائی جاتی ہے ان میں میٹھے آلو‘اجوائن خراسانی (Parsley)‘پالک‘آم‘بند گوبھی‘خربوزہ‘شاخ گوبھی (Broccoli)‘خوبانی‘اسپراگس (Asparagus)‘آڑو‘سیب اور اورنج شامل ہیں۔
دی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے اس بات کی سفارش کی ہے کہ روزانہ کی ڈائٹ جو فروٹ اور سبزیوں سے بھرپور ہو اور روزانہ چھ ملی گرام کے برابر ہو‘یہ اوسط چھ سرونگ بیٹا کیروٹین سے بھرپور غذا¶ں کے روزانہ اوسط استعمال کو ظاہر کرتی ہے۔
ایک اور ذرائع نے تجویز دی ہے کہ جو مقدار ایک یا دو گاجروں میں ہوتی ہے(لگ بھگ 8375 سے 16750انٹرنیشنل یونٹس یا 2513 سے 5025 مائیکرو گرام) یعنی کینسر کی نشوونما کو دور رکھنے کے لئے جس مقدار کی ضرورت ہونی چاہئے وہ اس کے لئے کافی ہوتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*