تازہ ترین

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا

ڈاکٹر مہوش بتول
سولہویں صدی کے اخری سالوں میں جنوب مشرقی انگلستان میں بچوں کو ایک عجیب وغریب کھیل کھیلتے ہوئے دیکھا گیا۔اس کی شروعات کے لئے کچھ حتمی تواریخ بھی پیش کی جاتی ہیں۔ شطرنج جیسے مکمل کھیل کے لئے ہم کئی مرتبہ حیران ہوتے ہیں کہ کیا پہلے دن ہی ایسے پیچیدہ کھیل کے سبھی قاعدے بنادئیے گئے ظاہر سی بات ہے ایسا نہیں ہوا۔ کسی بھی کھیل کے قاعدے تدریجی طور پر کئی سالوں یا صدیوں پر محیط ہوتے ہیں۔ بچوں کا ایک خود سے تخلیق
کیا ہوا کھیل دنیا میں خواص اور عوام کے لئے یکساں مقبولیت اور اثر پذیری رکھے گا یہ ان بچوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔ اس کے نام کے لئے بھی مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔
کبھی ڈچ لفظ krickstoel کو اس کا ماحذ سمجھا جاتا ہے اور کبھی فرنچ لفظ criquetسے اس لفظ کو اخذ کیا جاتا ہے۔بہرحال اب یہ جادوئی کھیل دنیا بھر میں کرکٹ کے نام سے مشہور ہے ۔سولہویں صدی سے یہ کھیل اپنی مختلف شکلیں بناتا ہوا آج ان سبھی ممالک میں کھیلا جاتا ہے جہاں جہاں انگلستان کی کالونیز رہیں۔ اس کی مختلف شکلوں کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ 1597ءیا 1598ءسے شروع ہوئے اس کھیل میںسوائے پچ کی لمبائی کے سارے قاعدے اور قانون تبدیل ہوتے رہے ہیں۔
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ کرکٹ وہ واحد کھیل ہے جس میں چائے کا وقفہ ہوتاہے۔ یعنی انگریزوں نے چائے کومتعارف کروانے کے لئے اس عجیب و غریب کھیل کا استعمال کیا۔برطانوی سامراج نے ہندوستانی قوم کی مزید تقسیم کے لئے انیس سو چھیالیس میں کرکٹ ٹیمیں بنا کر ان کے آپسی مقابلے کروادئیے اور معاشرے میں ہوتی تقسیم کو اس کھیل کی مدد سے اور گہرا کردیا۔ یہاں اس بات کا ذکر اس لئے بھی کیا جارہا ہے کہ کرکٹ جیسے کھیل کو نہ صرف انگریزوں نے اپنے اور بہت سے مقاصد کے لئے استعمال کیا وہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی اس کھیل کے ذریعے عوام اور حکومتوں پر اثر انداز ہواجاتا ہے۔۔ جیسا کہ آپ کو ضیاءالحق کی مشہور زمانہ کرکٹ ڈپلومیسی یاد ہوگی جب بھارتی اور پاکستانی افواج سرحدوں پر آمنے سامنے موجود تھیں تو ضیاءالحق نے بھارت جاکر راجیو گاندھی کے ساتھ پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھ کر اس خطے میں امڈتے ہوئے جنگ کے سایوں کو دور کیا۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک میں اس کھیل سے عوامی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ آج اس ملک کا وزیر اعظم ایک سابقہ کرکٹر ہے۔آج کل کرکٹ کے شائقین جوش سے بھر پور ہیں۔ پاکستان کی گلیوں، گھر کی چھتوں، پارکوں اور اسٹیڈیم میں کھیلے جانا والا یہ کھیل اس خطے کا مقبول ترین کھیل ہے۔کرکٹ کا سیزن جب بھی شروع ہوتا ہے تو کیا گاوں اور کیا شہر، کیا دفاتر اور کیا اسکول، کالجز، کیا گھر کیا بازارکیا چائے کی کنٹین اور کیا گیسو سنوارے والے سبھی جگہوں پر میچ کی پل پل بدلتی صورت سے آگاہ رہنے کیلئے جگہ کی مناسبت سے ریڈیو، موبائل فون، ٹی وی، ایل ای ڈیز اور اگر کچھ نہیں تو راہ جاتے راہ گیروں کو بھی روک روک کر پوچھا جاتا ہے جی بابر اعظم نے کتنے اسکور کئے ہیں، آصف علی کتنے رنز پر کھیل رہا ہے؟ جواب سنتے ہی اپنے کاموں میں مصروف لیکن ان کے دل اپنے اپنے ملک کی ٹیموں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ غالب کے شعر کے دوسرے مصرعے کو اپنے کالم کا عنوان بناتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ اب تو یہ کھیل صرف لڑکوں کا نہیں بلکہ لڑکیوں کا بھی ہوا ہے۔ویمن کرکٹ ٹیم سے بھی ہمیں بہت سی توقعات ہیں۔۔ کہ یہ اچھا کھیل کھیل کر ہمارے ملک کی خواتیں کا نام روشن کریں گی۔۔میں کرکٹ سے اپنی محبت کے باوجود اس کھیل کے حوالے سے کچھ تحفظات رکھتی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ کالونیل دور کے اس کھیل کے ساتھ ساتھ دوسرے بہت سے روائتی کھیلوں اور مغر ب و مشرق کے معروف کھیلوں کو بھی قوم کی نئی نسلوں کو متعارف کروانا ہوگا۔ جیسا کہ پولو ایک مشرقی کھیل جسے
دی گیم آف کنگ بھی کہاجاتا ہے۔ اور جسے انیس سو چھتیس کے بعد اولمپکس میں جگہ نہیں دی گئی۔ ہاکی جو ہمارا قومی کھیل ہے اس وقت ہم شاید کھیل کے ورلڈ کپ میں کوالیفائنگ رﺅانڈ ہی میں باہر ہوجاتے ہیں۔ فٹ بال جسے ہمارے ہاں کی سیاست کھاگئی ہے۔ بیس بال میں پاکستان ساوتھ ایشیاءکی اچھی ٹیموں میں شمار کیا جاتا ہے اور کئی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کھیل چکے ہیں۔ گلی ڈنڈا کے حوالے اس کھیل کو جدید اصولوں پر استوار کیا جاسکتا ہے۔ پتنگ بازی جیسا خوبصورت کھیل معصوم بچوں کی جانیں لینے لگا تو ہم نے گلہ کاٹنے والی ڈور بنانے والوں کو پکڑنے کی بجائے اس کھیل پر ہمیشہ کے لئے پابندی لگادی اگر اس کھیل کو گھروں کی چھتوں سے اتار کر کھلے میدانوں میںلے جایا جاتا تاکہ ہمارے بچوں کی نظریں بھی سیل فون سے اٹھ کر آسمانوں پر کمند ڈالتیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*