کو رونا ایس او پیز پر عملد ر آمد کیلئے فو ج طلب

ملک میں کو رونا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعد اد اور عو ام کی جا نب سے ایس اوپیز پر عمل در آمد نہ کرنے کے باعث حکومت نے شہر وں میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا وزیر اعظم عمر ان خان نے گذشتہ رو ز میڈ یا کو بر یفنگ کر تے ہوئے وا ضح کیا کہ عو ام احتیا ط نہیں کر رہی ہے اس میں کوئی خو ف نہیں جس کے باعث کو رونا وبا ءکا پھیلا ﺅ تیز ی سے بڑھ رہا ہے اگر ویکسین آبھی جا ئے تو اس کا اثر ہونے میں ایک سا ل کا عر صلہ لگے گا ہم آج سے ٹیکے لگا نے شر وع کریں تو کیسز کے نیجے آنے میں وقت لگے گا اس لیے سب سے زیا دہ فر ق صر ف ایس او پیز پر عمل در آمد کرنے سے آئے گا ہم نے اگر اس سلسلے میں احتیا ط نہ کی تو زیا دہ سے زیا دہ دو ہفتو ں میں ہما رے حالا ت بھی ہندوستان جیسے ہوجائیں گے عو ام ایس او پیز پر عمل کریں تو شہرو ں میں لاک ڈاﺅن نہیں کرنا پڑ ے گا اس مو قع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتا یا کہ اس وقت نظام صحت پر شد ید دبا ﺅ ہے انتہائی نگہد اشت یو نٹس میں زیر علا ج تشو یشنا ک مر یضو ں کی تعد اد سا ڑ ھے 3 ہز ار تک چلی گئی ہے۔
ملک بھر میں کو رونا کیسز کی تعد اد میں تیز ی سے ہونے والا اضا فہ اور دوسری جا نب عو ام کی جا نب سے ایس او پیز کونظر اندا ز کرنا لمحہ فکر یہ ہے کیو نکہ اس سے جہاں کیسز بڑھ رہے ہیں وہاں انسا نی جا نو ں کا بھی ضیا ع زیا دہ ہو رہا ہے اور یہ جس شر ح سے بڑھ رہا ہے اس سے کیسز کی تعد اد میں مز ید اضا فہ ہو گا جو کہ صحیح نہیں ہے وزیر اعظم عمر ان خان نے اپنے مذکو رہ بیان میں عو ام سے شکا یت کی ہے کہ وہ احتیا ط نہیں کر رہی وہ اس خطر نا ک وبا ءکو سنجید ہ نہیں لے رہی اس حوالے سے اس میں کوئی خو ف و ہر اس نہیں ہے انہوں نے خد شہ ظا ہر کیا ہے کہ اگر صو ر ت حال ایسی ہی رہی تو ہندوستان جیسی صو ر تحال پید ا ہو سکتی ہے۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں آنے والی کو رونا وا ئر س کی تیسر ی لہر جس کے با رے بتا یا جا تا ہے یہ بہت ہی خطر نا ک ہے پر قا بو پانے کیلئے عو ام کو ایس اوپیز پر عمل در آمد کرنا چا ہیئے ان کو اس وبا ءکو سنجید ہ لیتے ہوئے ما سک کا استعما ل اور دیگر احتیا طی تد ابیر کوہر صو ر ت اپنا نا چا ہیئے حکومت نے پہلے مر حلے میں ملک کے اکثر شہر و ں میں سما رٹ لا ک ڈاﺅن نا فذ کیا ہے لیکن عو ام کی جا نب سے تعا ون نہ کرنے پر اب حکومت کو مجبو راً فو ج کو طلب کرنا پڑ ا ہے جو انتظامیہ کے ساتھ ملکر ایس او پیز پر عمل در آمد کر وائے گی کیو نکہ اب ایسا کرنا نا گز یر ہو چکا ہے جو عو ام کی جا نب سے تعا ون نہ کرنے پر ہو ا اس لیے اب عو ام کو ایک با ر پھر پہلے کی طرح ایس اوپیز پر عمل در آمد کرنا چا ہیئے کیو نکہ اس وقت ایسا کرنے سے دنیا بھر کے مقا بلے میں کیسز کی تعد اد کم ہوئی ہیں اورجا ں بحق ہو نے والے افر اد بھی کم تھی اب ایک با ر پھر عو ام کو دوبارہ وہی عمل دہر انا چا ہیئے کیو نکہ یہ بہت ہی ضروری ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*