تازہ ترین

کورونا وائرس ویکسین

ڈاکٹر فوزیہ سعید
ایک سال گزر جانے کے باوجود کورونا وائرس کم ہونے کی بجائے زیادہ پھیل رہا ہے۔اور اس کا یہ سٹرین زیادہ خطرناک ہے۔اس لئے لوگوں کو ویکسین کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔گورنمنٹ نے پاکستان میں مفت ویکسین کے بہت سے سینٹر بنائے ہیں۔جہاں اس وقت چالیس سال سے زیادہ عمر لوگوں کو یہ سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
ویکسین کے دو انجکشن (Doses) ہیں۔پہلی اور دوسری کے درمیان 21 دن سے 6 ہفتے تک کا وقفہ ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ ویکسین آنے سے کچھ لوگ تو بہت خوش ہیں کہ کسی حد تک بیماری سے نجات مل جائے گی۔مگر کچھ لوگ طرح طرح کے وہموں کا شکار ہو رہے ہیں۔اصل میں سوشل میڈیا جہاں فائدے مند ہے۔وہاں اس کے نقصانات بھی بے شمار ہیں۔اس کی وجہ سے لوگ معلومات کے ساتھ ابہام کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔
اس کی وجہ سے غلط افواہیں بھی بہت جلدی پھیل رہی ہیں۔کورونا ویکسین سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات اُٹھ رہے ہیں۔اصل میں ہم ابھی اس بیماری کو لے کر ٹرائل بیس میں ہیں۔اس کے سو فیصد نتائج سے واقف نہیں ہیں۔لیکن مختلف انسانوں پہ ویکسین کے مختلف اثرات نظر آرہے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ویکسین کرانی چاہیے؟کیا ویکسین کورونا سے مکمل بچا¶ کرے گی؟اس کا جواب ہے کہ ضرور کرانی چاہیے۔
ویکسین کرانے کے بعد بھی ہم سو فیصد محفوظ تو نہیں ہو سکتے البتہ یہ ہمیں زیادہ سیریس ہونے سے بچا سکتی ہے۔لیکن ویکسین کرا لینے کے بعد بھی ہم کو SOPs کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔جس میں سماجی طور پہ قریب مگر جسمانی طور پر کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ رکھنا ہو گا۔ماسک لازمی استعمال کرنا ہو گا۔ہاتھوں کو اچھے طریقے سے بار بار دھونا ہو گا۔
اب دوسرا سوال یہ ہے کہ کورونا ویکسین کی ایک Dose کے بعد دوسری کتنی دیر میں لگائی جائے گی اور کیوں؟کورونا کی دوسری Doseاکیس دن کے بعد لگائی جائے گی،اصل میں پہلی خوراک کے چھ دن بعد وہ جسم میں اپنا اثر ڈالتی ہے۔
دو ہفتے کے بعد یہ بھی دیکھا جائے گا کہ وہ کیا سائیڈ ایفیکٹ ڈالتی ہے۔ایک کے بعد دوسری کے بیچ میں بھی انسان کو کوشش کرنی چاہیے وہ لوگوں سے میل جول کم رکھے۔بوقت ضرورت احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہی ملے۔کورونا کی ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ ہر انسان پہ مختلف ہو سکتے ہیں اور انہیں بھی ہو سکتے۔ہر انسان پر اس کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔جو منفی بھی ہو سکتے ہیں۔
مثبت بھی ہو سکتے ہیں۔جس میں دل کی دھڑکن پہ اور سانس لینے میں مشکل،مسلز میں درد،تھکاوٹ،سر درد،بلڈ پریشر کا بڑھنا،سکن پہ اثرات،بخار،ڈائریا اور انجکشن والی جگہ پہ درد بھی ہو سکتا ہے۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سگریٹ پینے سے کورونا ختم ہو جاتا ہے۔یہ بات قطعاً درست نہیں ہے۔سگریٹ پینے والے لوگ بلکہ زیادہ رسک پہ ہیں۔کیونکہ سگریٹ کو ہاتھ لگتے ہیں۔
وہ ہاتھ گندھے بھی ہو سکتے ہیں۔پھر سگریٹ آپ ہونٹوں تک لے کے جاتے ہیں۔اور سگریٹ ڈائریکٹ ہونٹوں کو چھو رہا ہوتا ہے۔اس لئے زیادہ خطرناک ہے۔اصل میں جب کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ان میں ایک گلے اور سانس کا مسئلہ بھی ہے۔جس میں ڈاکٹروں نے لوگوں کو سٹیم لینے کو کہا۔مگر کم علم لوگوں نے خود ہی یہ بات بنا لی۔کہ سگریٹ کا دھواں اگر ناک سے نکالا جائے تو سٹیم کا کام کرے گا۔
جو بالکل غلط بات ہے۔سگریٹ نوشی کسی بھی طرح کرنے سے فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔سگار۔پائپ یا حقہ سب خطرناک ہیں۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں۔کہ کورونا کا تیسرا سٹرین اس لئے بھی ہے۔اس کی کوئی علامات نہیں ہیں۔جب کہ یہ بات بھی غلط ہے۔کورونا وائرس کی عام علامات میں بخار،خشک کھانسی،تھکاوٹ اور جو کم دیکھنے میں آتی ہیں ان میں جلد پہ خارش آنکھوں سے پانی آنا گلے میں خراش، زبان کا ٹیسٹ ختم ہو جانا،تھکاوٹ،جلد پہ ریش پڑھ جانا،انگلیوں اور انگوٹھے کا رنگ تبدیل ہو جانا اور جو علامات زیادہ سیریس ہیں ان میں سانس لینے میں مشکل ہونا،چھاتی میں درد،بات کرنے میں مشکل ہونا ہے۔
حاملہ خواتین کو بھی باقی ویکسین کے ساتھ ساتھ کورونا کی بھی ویکسین کرانی چاہیے۔کیونکہ عورت کو اس دوران قوت مدافعت کی ضروت ہوتی ہے۔اس سے وہ کھانسی اور دیگر بیماریوں سے محفوظ ہو سکتی ہے۔بعد میں بچے کو دودھ پلانے کے لئے بھی اچھی صحت اور قوت چاہیے ہوتی ہے۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ آگاہی برھائیں۔
تاکہ لوگ اپنا خیا ل رکھ سکیں۔اپنے ساتھیوں اور گھر والوں کا خیال رکھ سکیں۔کورونا سے روزانہ جہاں کچھ لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں۔وہیں بہت سے لوگ صحت یاب ہو کر نارمل زندگی بھی بسر کر رہے ہیں۔بلکہ اپنا پلازمہ بھی عطیہ کر رہے ہیں۔تاکہ اور لوگ بھی اس بیماری سے صحت مند ہو سکیں۔اس کی وجہ یہ ہے۔ان کی باڈی میں اینٹی باڈیز بن چکی ہوتی ہیں۔وہ اگر پوری طرح صحت یاب ہو جائیں۔تو اپنا پلازمہ کسی کورونا کے مریض کو عطیہ کر دیں تو وہ بھی جلدی صحت یاب ہو سکتا ہے۔پلازمہ خون کا وہ حصہ ہوتا ہے۔جس میں ریڈ سیل اور وائٹ سیل تیرتے ہیں۔یہ پیلے رنگ کے پانی کی مانند ہوتا ہے۔جو بہت سے کورونا کے مریضوں کی جان بچا سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*