تازہ ترین

کورونا وائرس اور ہائی بلڈ پریشر

ڈاکٹر صابری سکندری
کووڈ۔19 جسے سارس کووی۔2 (SARS COV-2) بھی کہا جاتا ہے،اگرچہ پھیپھڑوں کی بیماری ہے،لیکن تجربات اور تجزیات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ وائرس دل سمیت دیگر اعضا پر بھی اثر انداز ہوتا ہے،لہٰذا امراض قلب،ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو کورونا وائرس سے بچا¶ کے لئے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق چین اور یورپ کے ہسپتالوں میں داخل 30 سے 40 فیصد کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر پایا گیا۔ مختلف تجزیات سے ثابت ہو چکا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض نہ صرف کووڈ۔19 سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں،بلکہ ان میں یہ وائرس پیچیدگیوں کا باعث بھی بنتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا جن مریضوں نے ہائی بلڈ پریشر کی ادویہ کھانی ترک کر دیں،انھیں فائدے کے بجائے نقصان ہی ہوا،اسی لئے تحقیق کاروں نے کورونا وائرس کے پانچ خطرناک عوامل میں سے ہائی بلڈ پریشر کو سب سے خطرناک عامل اور اس کی پیچیدگیوں کا سبب قرار دیا ہے۔
دیگر خطرناک عوامل میں 65 برس سے زیادہ عمر، موٹاپا اور ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں۔ہائی بلڈ پریشر معمر افراد میں پائی جانے والی ایک مستقل بیماری ہے۔
ایسے معمر افراد جو ہائی بلڈ پریشر،عارضہ رگِ دل یا پھر ذیابیطس میں مبتلا ہوں،اُن میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔کووڈ۔19 سے متاثرہ افراد کی شریانوں کی ساخت متاثر ہو جاتی ہے،بلکہ چھوٹی آنت اور پھیپھڑے بھی اس تعدیے (انفیکشن) کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
نیز دیگر عوامل بھی خارج از امکان نہیں کہے جا سکتے،جن میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں قوت مدافعت کی کمی، موٹاپا اور کولیسٹرول کی زیادتی بھی شامل ہیں۔
اٹلی کے علاقے لمبارڈے میں کورونا وائرس کے 104 مریضوں کو انتہائی نگہداشت کے شعبے (آئی سی یو) میں داخلے کے لئے بھیجا گیا، جن میں سے 49 فیصد ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے اور جن کی عمریں 65 سے 72 برس تھیں۔
کووڈ۔19 ہائی بلڈ پریشر کے لئے ڈھائی گنا زیادہ خطرے کا باعث بنتا ہے۔
نیز ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد میں موت کا خدشہ بھی دیگر مریضوں کے مقابلے میں بڑھ جاتا ہے۔یونیورسٹی آف یوٹاہ کے تحقیق کاروں کے مطابق کووڈ۔19 بعض مریضوں میں دل کے دورے یا فالج کا سبب بھی بن سکتا ہے،لہٰذا ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے معالج کی تجویز کردہ ادویہ کھائیں،ذہنی تنا¶ والی سرگرمیوں اور باتوں سے دور رہیں،غذا میں نمک کم سے کم شامل کریں، گائے کا گوشت،روغنی اور تلی ہوئی غذا¶ں اور بیکری کی مصنوعات سے بھی پرہیز کریں۔
روزانہ تازہ سبزیاں اور پھل کھائیں،اس لئے کہ ان میں موجود نمکیات نہ صرف جسم کی ضروریات پوری کرتے ہیں،بلکہ یہ ایک متوازن غذا کا حصہ بھی ہیں۔اس کے علاوہ جسمانی سرگرمیوں کو معمول کا حصہ بنائیں،جس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ جم (GYM) یا باڈی بلڈنگ کلب جایا جائے،بلکہ روزانہ ایک گھنٹے کی تیز قدمی، تیراکی یا سائیکلنگ بھی کافی ہے۔نشہ آور اشیاءکا استعمال ترک کر دیں،اس لئے کہ یہ خون کا دبا¶ بڑھنے کی وجہ بنتی ہیں۔
اگر وزن زیادہ ہو تو معالج کے مشورے سے کم کریں۔
کورونا وائرس کی تیسری لہری تیزی سے پھیل رہی ہے،اس لئے انتہائی ضرورت کے تحت ہی گھر سے باہر نکلیں۔کھانستے یا چھینکتے وقت اپنے منہ کو ضرور ڈھانپیں۔کسی بھی شے کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں،ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کریں۔صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور ہاتھوں کو بار بار جراثیم کش صابن یا مائع صابن سے دھوئیں۔اگر کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوں،مثلاً بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری وغیرہ،تو اپنے معالج سے فوری طور پر رابطہ کریں،اس لئے کہ ابتدائی مرحلے کی تشخیص کئی پیچیدگیوں سے بچاتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*