تازہ ترین

کورونا وائرس اور حقائق

ڈاکٹر جمال ناصر
گزشتہ تقریباً 20 ماہ سے جاری کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو معاشی و اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں اب تک 20 کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔گزشتہ ڈیڑھ برس میں 47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔امریکہ میں تو کورونا کے روزانہ ایک لاکھ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں،جب کہ مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔
مرنے والوں کی تعداد روزانہ سات آٹھ سو ہے۔اسپین میں روزانہ تقریباً 16 ہزار کیسز سامنے آ رہے ہیں اور روزانہ 60 افراد ہلاک ہو رہے ہیں،برطانیہ میں کورونا کے کیسز روزانہ تقریباً 32 ہزار ہیں،جب کہ اموات کی شرح روزانہ 100 کے قریب ہے۔
بیرون ملک کورونا سے متاثرہ اور ہلاک ہونے والوں کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو ان کے مقابلے میں پاکستان میں تقریباً 4 ہزار کے قریب لوگ متاثر ہو رہے ہیں،جب کہ اوسطاً 60 لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں۔
مجھے گزشتہ دنوں امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے وہاں اپنے دس روزہ قیام کے دوران دیکھا کہ امریکہ ایسی سُپر پاور میں بھی کورونا وائرس کا کوئی خوف نہیں پایا جاتا اور نہ کوئی لاک ڈا¶ن لگایا گیا ہے،ماسک پہننے کی بھی کوئی خاص پابندی نہیں،حکومتی سطح پر کوئی سختی نہیں،تمام ایئرپورٹس کھول دیے گئے ہیں۔سیاسی و سیاحتی سرگرمیاں جاری ہیں،جب کہ بیرونی دنیا سے سیاحوں کی آمد جاری ہے۔
کہیں بھی کورونا پی سی آر ٹیسٹ کی ڈیمانڈ دیکھنے میں نہیں آئی،سڑکوں پر موبائل لیبارٹریز کام کر رہی ہیں،جہاں کووڈ۔19 کا ٹیسٹ کروانے کی بلا معاوضہ سہولت دستیاب ہے۔ہر فرد پُرسکون ماحول میں کورونا ٹیسٹ کروا رہا ہے،ویکسین بھی لگوا رہا ہے اور اپنے روزمرہ کے معاملات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔35 فیصد لوگوں نے اب تک کورونا ویکسین نہیں لگوائی،جب کہ حکومت کی طرف سے ویکسین لگوانے کی ترغیب دینے کے لئے ہر شہری کو 100 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔
کورونا وائرس سے پیدا شدہ معاشی بحران کے باوجود امریکی حکومت نے مثبت رویہ اپنایا،کہیں کاروبار بند کیا نہ کسی شہری کا روزگار متاثر ہونے دیا۔کاروبار زندگی رواں دواں ہے،بازاروں میں چہل پہل ہے۔ایئرپورٹ، ریلوے اسٹیشنوں اور اجتماعات والی جگہوں پر تھوڑی پوچھ گچھ کی جاتی ہے،لیکن زیادہ پریشان نہیں کیا جاتا۔خاص بات یہ ہے کہ امریکہ میں اب کورونا وائرس کو عام بخار اور نزلہ زکام (انفلوئنزا) کے طور پر ہی لیا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں کورونا وائرس کا خوف پیدا کرکے لوگوں کو ذہنی مریض بنایا جا رہا ہے۔”لاک ڈا¶ن“ لگا کر لوگوں سے ان کا روزگار چھینا گیا۔گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔ سیاحت کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، پارکس سمیت تمام تفریحی مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔ان دنوں بیرون ملک سے صرف 50 فیصد پروازیں پاکستان آنے کی اجازت ہے۔ پاکستان آنے والوں کے لئے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط لازم قرار دی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی ”ایپ“ بھی متعارف کروا دی گئی ہے،جس کے ذریعے کورونا وائرس ٹیسٹ اور ویکسی نیشن کا ریکارڈ ہر شخص خود سے رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے،جب کہ پاکستان میں عوام کی اکثریت ”آن لائن سسٹم“ یا ”موبائل ایپ“ کے ذریعے اپنا ”ڈیٹا“ درج کرنے کے کام سے ہی ناآشنا ہے۔کمپیوٹر پر اندراج کی شرط کی وجہ سے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کا وطن واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی دوبارہ کورونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے،جس میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
اس طرح انھیں اذیت ناک لمحات سے گزرنا پڑتا ہے،پیسوں کا اضافی بوجھ اس کے علاوہ ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کے لئے مثبت رویہ اپنایا جائے۔ہمیں لوگوں کو معمول کی زندگی کی جانب لانا ہو گا۔ملک بھر میں کسی بھی قسم کا لاک ڈا¶ن ختم کرنا ہو گا،سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ہر قسم کی پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔کورونا وائرس سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والا خوف اور شکوک و شبہات ختم کرنا ہوں گے۔
عوام کو کورونا سے محفوظ رکھنے کے لئے ویکسین لگانے کا عمل بتدریج جاری رکھتے ہوئے ایک ایسی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے کہ لوگ بلا کسی خوف خود ویکسین لگوائیں۔ویکسین لگانے کے لئے مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنا سراسر زیادتی ہے۔عوام کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ کورونا ہو یا کوئی اور بیماری،یہ زندگی کا حصہ ہیں۔پرہیز اور احتیاط کے ساتھ ساتھ ان کا بروقت علاج لازم ہے۔خوف زدہ ہونے یا کسی کو کرنے کی ضرورت نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*