تازہ ترین

کوئٹہ میں کو رونا کے کیسز کی شر ح 9 فیصد تک پہنچ گئی

تر جما ن حکومت بلوچستان لیا قت شا ہو انی کے مطا بق صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں کورونا وا ئر س کے کیسز کی شر ح 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے اس صو ر ت حال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے بین الصو بائی ٹر ا نسپو ر ٹ ہفتہ اور اتو ار کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے صو بے میں کو رونا کی ویکسی نیشن کیلئے 199 مر اکز قا ئم کئے گئے ہیں اب تک 97 ہز ار ویکسی نیشن وفا ق نے بلوچستان کو فر اہم کی ہیں بی ایم سی میںکو رونا سیل کے مز ید 40 بیڈز لگا ئیں گے علما ءکر ام کو رونا ایس او پیز کی گا ئیڈ لائن پر عمل در آمد کریں ما ہ رمضان میںمساجد میں کو رونا سے بچا ﺅ کی ایس او پیز پر عمل در آمد کرایا جائے اور زیا دہ سے زیا دہ مقا ما ت پر تر ا و یح کا اہتما م کر ایا جا ئے تا کہ زیا دہ اجتما ع اکٹھا نہ ہو سکے تما م اضلا ع میںسستا بازا ر لگا یا جا ئے گا۔
صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں کو رونا کے کیسز کی شرح کا 9 فیصد تک پہنچ جا نا بلا شبہ بڑی تشو یش کی بات ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ کیسز میں مز ید اضا فہ ہو نے کا خد شہ ہے جو کہ یقینا ایک لمحہ فکر یہ ہے کیونکہ ایک جا نب رمضان المبا رک کا مقد س ما ہ کا آغا ز ہو ا ہے وہاں کو رونا کیسز میں اضا فہ ہونا شر وع ہو گیا ہے چو نکہ یہ ما ہ مقد س سا ل میں ایک با ر آتا ہے جو کہ بڑ ا با بر کت ہے جس میں عبا دت کرنے کا کئی گنا زیا دہ اجر ملتا ہے لیکن اس مو ذی وبا ءکی وجہ سے عبا دا ت میں خلل پڑ سکتا ہے جو کہ یقینا مسلما نوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصا ن ہے جہاں تک بین الصو بائی ٹر انسپو ر ٹ کو ہفتہ میں دو دن بند کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ یقینا صو ر تحال کو مد نظر رکھ کر کیا گیا اس سے کو رونا کیسز میں اضا فے کو روکا جا سکتا ہے ۔
تر جما ن حکومت بلوچستان لیا قت شا ہو انی نے اپنے مذکو رہ بیان میں کو رونا ایس او پیز کے حوالے سے علما ءکر ام کے حوالے سے جو با ت کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہما رے معا شر ے میں علما ءکر ام کا بڑ ا احتر ام کیا جا تا ہے اس لیے کو رونا ایس او پیز پر عمل در آمد کرانے سے متعلق اگر وہ عو ام میں شعور پید ا کریں گے تو یقینا اس کے مثبت اثر ات مر تب ہوں گے۔
بی ایم سی میں کو رونا سیل میں حکومت کی جا نب سے مز ید 40 بیڈ ز لگانے کا فیصلہ بھی خو ش آئند ہے کیو نکہ اس سے قبل فا طمہ جنا ح چیسٹ ہسپتا ل میں کو رونا کے مر یضو ں کو دا خل کیا جا تا تھا جہاں اب کیسز زیا دہ ہونے کی وجہ سے جگہ کی کمی ہو رہی ہے اس لیے حکومت کو اس کا متبا دل بند و بست تو کرنا تھا ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی صو ر تحال میں عو ام نے کو رونا کی پہلی لہر میں اس سے نمٹنے کے جو اقد اما ت کئے تھے ا ن کو دو با رہ کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ایسا کرنا ہی بہتر ی ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو کیسز کی تعد اد بڑھنے کے سا تھ سا تھ امو ات بھی بڑھ سکتی ہیں۔
اس لیے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور تما م سٹیک ہو لڈ ر ز کو اس مو ذی مر ض کا پہلے کی طرح ڈٹ کر مقا بلہ کرنا چا ہیئے تا کہ لا ک ڈاﺅن سے بچا جاسکے کیو نکہ لا ک ڈاﺅن کے بہت ہی زیا دہ نقصانا ت ہیں جن میں سب سے زیا دہ چھو ٹا طبقہ شد ید متاثر ہو تا ہے ان کے گھر وں کے چو لہے بند ہونے کا خد شہ ہو تا ہے جو کہ کسی بھی طر ح صحیح نہیں ہے اس لیے ایک با ر سب سٹیک ہو لڈ ر ز کو ایک ہی پیج پر متحد ہو نا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*