کوئٹہ میں سما رٹ لا ک ڈاﺅن کا اعلان

گذشتہ رو ز میڈ یا کو بر یفنگ کے دو ران تر جما ن حکومت بلوچستان لیا قت شا ہوانی نے کو رونا وا ئر س کے پھیلا ﺅ کے پیش نظر کوئٹہ میں سما رٹ لا ک ڈاﺅن کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ ہفتہ اور اتو ار کو تما م کا رو با ری مر اکز بند رہیں گے جبکہ پیر تا جمعہ دکا نیں اور شا پنگ ما ل شا م 6 بجے کے بعد بند رہیں گے جو بھی پا بند یوں کی خلا ف ور زی کا مر تکب پا یا گیا اس کے خلا ف سخت کا روائی کی جا ئے گی البتہ کیسز کم ہونے کی صو ر ت میں حکومت پا بند یوں میں نر می کرے گی انہوں نے وا ضح کیا کہ نما ز اور تر ا ویح کے دو ران سما جی فا صلے اور کھلی فضا ءمیں اہتما م ہو گا اس طرح علما ءکر ام وبا ءروکنے کیلئے تعا ون کریں پبلک پا رکس مکمل بندکر دیا گیا ہے ان میں صر ف جوکنگ کی اجا ز ت ہو گی سر کا ری اور نجی دفا تر میں حا ضر ی 50 فیصد رکھی گئی ہے۔
کو روناوا ئر س کی تیسر ی خطر ناک لہر آنے کے باعث حکومت بلوچستان نے صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں جو سما رٹ لا ک ڈاﺅن کا اعلان کیا ہے یہ عو ام کی جا ن کے لیے بہت ہی ضروری ہے کیو نکہ کو رونا وا ئر س کی حا لیہ تیسر ی لہر کے دو ران نہ صر ف کیسز کی تعد اد میں اضا فہ ہو رہا ہے بلکہ رو زانہ امو ات کی تعد اد بھی بڑ ھ رہی ہے جوکہ بلا شبہ تشو یشنا ک ہے اس طرح حکومت نے اس وبا ءسے تحفظ کے لیے کوئٹہ میں جو سما رٹ لا ک ڈاﺅن لگا یا ہے اس پر عو ام کو حکومت سے مکمل تعا ون کرنا چا ہیئے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے غر یب عو ام کے رو ز گا ر پر اثر ات ضرور مر تب ہو ں گے جوکہ پہلے بھی کو رونا وا ئر س کے آنے پر لا ک ڈاﺅ ن اور پھر سما ر ٹ لاک ڈاﺅن لگانے سے ہوئے تھے مگر اس کے با وجو د عو ام اور دیگر ادا روں جن میں ہیلتھ ور کر ز اور سیکیورٹی ادا رے شا مل ہیں نے حکومت سے بھر پو ر تعا ون کیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مقا بلے میں پاکستان اور خصو صاً بلوچستان میں نہ صر ف کیسز کی تعد اد کم ہوئی بلکہ امو ات بھی زیا دہ نہیں ہوئیں اب حکومت نے ایک با ر پھر احتیا طی تد ابیر کے تحت سما رٹ لا ک ڈاﺅن نا فذ کیا ہے کیونکہ عو ام اب تک اس سلسلے میں احتیا ط نہیں کر رہی وہ کو روناایس او پیز پر عمل در آمد نہیں کر رہی جس کے باعث کو رونا وا ئر س کی تیسری لہر خطر نا ک صو ر ت اختیا ر کر رہی ہے حکومت نے تعلیمی ادا روں میں بھی پہلی سے آٹھو یں جما عت کی کلا سو ں تک سکو ل بند کرنے کا بھی فیصلہ کیاہے کیو نکہ اس سے قبل کوئٹہ کے چند تعلیمی ادا روں میں کورونا کیسز رپو رٹ ہوئے تھے جس کی بنا ءپر یہ ادا رے پہلے ہی بند کئے جا چکے ہیں۔
ا س لیے یہاں ضرورت اس امرکی ہے کہ عو ام ایک بار پھر پہلے کی طرح حکومت سے اس سلسلے میں بھر پو ر تعا ون کرنا چا ہیئے تا کہ اس وباءمرض پر قا بو پا یا جا سکے اس کے سا تھ سا تھ حکومت اور فلا حی اداروں کو سما رٹ لاک ڈاﺅن سے متا ثر ہونے والے غریب عو ام کی بھر پو ر مد د کرنی چاہیئے جوکہ پہلے بھی کی گئی لیکن اس میں شفا فیت لا نی چا ہیئے تا کہ حق دا روں کو ہی ان کا حق مل سکے کیو نکہ ایسے مو اقع پر اکثر حق دا ر اپنے حق سے محروم رہ جا تے ہیں کیو نکہ ایک جا نب رمضان المبا رک کا مقد س ماہ ہے جبکہ آگے عید بھی آنے والی ہے اس لیے ان تما م چیزوں کو ملحو ط خا طر میںلانا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*