تازہ ترین

کلونجی کے کرشماتی دانے اور تیل

ڈاکٹر حکیم وقار حسین
جدید دور میں اپنی افادیت کی بنا پر کلونجی بہ طور دوا بہت زیادہ کھائی جا رہی ہے،خاص طور پر اس کے دانے اور تیل صدیوں سے مختلف ادویہ میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔اس کے چند دانے دودھ کے ساتھ کھانے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کلونجی کے دانوں کا سفوف بنا کر اس میں تھوڑی سی شکر ملا کر کھایا جائے۔
یہ طریقہ ان افراد کے لئے مفید ہے،جنہیں دودھ موافق نہیں ہوتا۔
کلونجی کا تیل قبض ختم کرتا ہے،ہاضمہ بہتر کرتا ہے،جوڑوں کے درد سے نجات دلاتا ہے اور خون صاف کرتا ہے۔بالوں پر روزانہ لگانے سے بالوں کو سیاہی بخشتا ہے۔اگر طویل عرصے تک روزانہ رات بھر لگایا جائے اور صبح بالوں کو دھو لیا جائے تو گنج پن کی شکایت بھی جاتی رہتی ہے۔
کلونجی میں بہت سارے صحت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں،مثلاً حیاتین ھ (وٹامن ای)،اومیگا فیٹی ایسڈ اور مانع تکسید اجزاء (Antioxidants) وغیرہ،اسی لئے جلد پر کلونجی کے تیل کی مالش کرنے سے رنگت نکھر جاتی اور جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے۔
اگر کلونجی کا انتہائی صاف شدہ تیل (الٹراپیوریفائیڈ) ناک میں ٹپکایا جائے تو ناک کی جھلی سے لے کر دماغ کے پردوں تک کے ورموں کو دور کر دیتا ہے۔یہ تیل کولیسٹرول کی سطح کو گھٹاتا ہے،وزن کم کرتا ہے،پیشاب آور ہے اور ہائی بلڈ پریشر کو بھی نارمل کر دیتا ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق کلونجی کے دانے ورم پیدا کرنے والے مواد کی پیداوار کو روک دیتے ہیں،اسی لئے کلونجی پھیپھڑوں اور امراضِ قلب کے لئے بہت مفید ہے۔
دمے کے مریضوں کے لئے بھی کلونجی کے دانے فائدہ مند ہیں۔ان دانوں میں قدرتی طور پر ایسے کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں،جو سانس بحال کرنے میں معاون ہیں۔کلونجی میں دافع سرطان اجزاء بھی ہوتے ہیں،لہٰذا سرطان کے مریض بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔کلونجی نہ صرف جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے،بلکہ ان کے گرد خول بنا کر انھیں آنتوں تک لے جاتی ہے،چونکہ کلونجی میں دست آور خاصیت ہوتی ہے،لہٰذا یہ جراثیم کو فضلے کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق چونکہ کلونجی دافع ورم،دافع دمہ،دافع کھانسی،دافع و مخرج بلغم،دافع بخار،تریاق و مسہل (دست آور)،دافع بیکٹیریا اور دافع وائرس ہے،اس لئے کورونا کے مریض اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔یہ نہ صرف وائرس کو جسم سے نکال پھینکتی ہے،بلکہ وائرس کے ڈی این اے (DNA) میں کیمیائی تبدیلی پیدا کرکے وائرس کی کیفیت بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسہال کی تکلیف میں کلونجی کو دہی میں شامل کرکے بھی کھایا جا سکتا ہے،مگر بہتر و مفید طریقہ یہ ہے کہ اسے زیرے کے رائتے کے ساتھ کھایا جائے۔
جن مرد و خواتین کی جلد خشک رہتی ہو،انھیں چاہیے کہ وہ تھوڑے سے کلونجی کے تیل میں ناریل کا تیل ملا کر کچھ دیر کے لئے دھوپ میں رکھ دیں،تاکہ سورج کی گرمی سے دونوں تیلوں کے اجزاء خوب اچھی طرح مل جائیں۔
یہ تیل جب معتدل حرارت پر آجائے تو پھر اس سے جسم پر مالش کریں،اس سے نہ صرف جلد کی خشکی ختم ہو جائے گی،بلکہ جلد پر موجود پھوڑے پھنسیاں بھی جاتے رہیں گے۔یہ آمیزہ سورج سے جھلسی ہوئی جلد کو بھی اچھا کر دیتا ہے۔
کلونجی کی خوراک کی مقدار بہت اہمیت و اثر کی حامل ہوتی ہے۔اس ضمن میں بہتر ہو گا کہ ایسے معالج کے مشورے سے کلونجی کی مقدار کھائیں،جو مریض کے مزاج کی تشخیص بھی کر سکتا ہو،مثلاً بلغمی مزاج والے افراد کلونجی کو تنہا کھا سکتے ہیں،لیکن صفراوی مزاج والے کو اسے کسی غذا کے ساتھ کھانا ہو گا،ورنہ پسینے کی زیادتی کے علاوہ ہاتھ پاؤں سے بہت گرمی خارج ہوتی ہوئی محسوس ہو گی اور معدے میں تکلیف بھی ہو سکتی ہے، اس لئے جب خوراک کی درست مقدار کا معاملہ درپیش ہو تو کسی اچھے معالج سے مشورہ کرنا مفید ہوتا ہے۔
ویسے اطبا کلونجی کی خوراک کی اوسط مقدار تین یا سات دانے بتاتے ہیں،جو وہ مرض کی تشخیص کے بعد تجویز کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*