تازہ ترین

کشمیر کے متعلق یکطرفہ اقدامات واپس لینے تک ہندوستان سے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے، عمران خان

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور تاجکستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کےلئے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر دئیے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے اور تجارت کے شعبے میں دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوں گے،پاکستان اور تاجکستان کو مستقبل کے حوالے سے کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، تاجکستان سے تجارت اور کنیکٹیوٹی بڑھانے کےلئے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے،خدشہ ہے امریکہ کے انخلاءتک افغانستان میں سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو کہیں سوویت یونین کے چھوڑ کر جانے کے بعد والی صورتحال نہ پیدا ہوجائے جو دونوں ممالک کےلئے بہت نقصان دہ ہوگی،افغانستان میں انتشار پھیلنے کی صورت میں ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشتگردی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے، ہمارے درمیان اسلاموفوبیا کے حوالے سے بھی بات ہوئی، مغرب میں آزادی اظہار کے نام پر نبی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے اوراسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ بدھ کو تاجکستان کے صدر امام علی رحمن نے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ تاجکستان کے صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے اور تجارت کے شعبے میں دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوں گے جس میں گوادر کنیکٹیوٹی بہت اہمیت رکھتی ہے، تاجکستان کے ساتھ تعلیم اور دفاع کے شعبے میں بھی معاہدے کیے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کے تاجکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات بہت اہمیت رکھتے ہیں، اس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو مستقبل کے حوالے سے کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، تاجکستان سے تجارت اور کنیکٹیوٹی بڑھانے کےلئے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے، دونوں ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ امریکا کے انخلا تک افغانستان میں سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو کہیں سوویت یونین کے چھوڑ کر جانے کے بعد والی صورتحال نہ پیدا ہوجائے جو دونوں ممالک کےلئے بہت نقصان دہ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انتشار پھیلنے کی صورت میں ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشتگردی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے، ابھی بھی پاکستان کو افغانستان سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور استحکام نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ افغانستان میں سیاسی تصفیہ ہو تاکہ جب امریکا وہاں سے جائے تو استحکام ہو اور ایسی متفقہ حکومت ہو جو اس انتشار کو روک سکے، اس لیے دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان میں سیاسی تصفیے کی کوشش کی جائے گی۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو جو دوسرا مشترکہ چیلنج درپیش ہے وہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، تاجکستان کا بھی پورا پانی گلیشیئرز سے آتا ہے جبکہ پاکستانی دریاو¿ں میں بھی 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے، اس لیے ہم نے عالمی سطح پر اس حوالے سے زیادہ آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی فوائد اس وقت حاصل کر سکتا ہے جب خطے میں امن ہو، بھارت کی طرف سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اقدام اٹھائے جانے کے بعد ہمارے لیے ان کے ساتھ تجارت معمول پر لانا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ کشمیریوں کی قربانیوں کے ساتھ غداری ہوگی، لہٰذا بھارت جب تک یہ اقدامات واپس نہیں لیتا ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے جس کا نقصان ان دونوں ممالک کے علاوہ پورے وسطی ایشیا کو ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے درمیان اسلاموفوبیا کے حوالے سے بھی بات ہوئی، مغرب میں آزادی اظہار کے نام پر نبی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے جبکہ اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور کسی دوسرے مذہب کو نہیں جوڑا جاتا، ان دو وجوہات کی وجہ سے اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نیب کی تاجک کرپشن بیورو سے جو ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں یہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے پینل کے مطابق ترقی پذیر ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب روپے بیرون ممالک آف شور اکاو¿نٹس میں جاتے ہیں اس لیے اس حوالے سے بھی باہمی تعاون ضروری ہے۔اس موقع پر امام علی رحمن نے کہا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان سے آج کی ملاقات روایتی دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا، تاجکستان دونوں ممالک کے اعلیٰ وفود کے درمیان ملاقات سے مطمئن ہے۔انہوں نے کہا کہ وفود کی سطح پر تعمیری بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے بین الجہتی تعلقات پر گفتگو ہوئی اور کئی دوطرفہ معاملات پر نکتہ نظر میں مماثلت پائی گئی۔انہوںنے کہاکہ تاجکستان، پاکستان کو دوست ملک اور قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتا ہے، ہم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مسلسل روابط سے مطمئن ہیں۔تاجک صدر نے کہا کہ دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط سے دونوں ممالک کے درمیان کثیرجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی اور وہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی تعلقات کا فروغ دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے، ہم نے تجارت اور تکنیکی تعاون کے لیے مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔امام علی رحمٰن نے وزیر اعظم عمران خان کو تاجکستان کے دورے بھی دعوت دی۔پاکستان اور تاجکستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر دئیے۔ایوان وزیر اعظم میں دستخطوں کی تقریب منعقدہوئی، اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن بھی موجود تھے۔تعلیمی شعبے میں تعاون کے سلسلے میں تاجک ٹیکنیکل یونیورسٹی اکیڈیمیشین ایم ایس او سیمی اور انڈس یونیورسٹی آف پاکستان، تاجکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ایوان صنعت و تجارت بلوچستان کے درمیان تعاون، تاجکستان کے ایوان صنعت و تجارت اور ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ کے درمیان تعاون کے معاہدوں پر دستخط کے گئے۔جمہوریہ تاجکستان کی حکومت اور پاکستان کے درمیان ہنگامی صورتحال میں روک تھام و لیکوڈیشن کے شعبے میں تعاون، دونوں ممالک کے درمیان فن و ثقاقت کے شعبے میں تعاون، انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ایوان صنعت و تجارت لاہور اور تاجکستان کے ایوان صنعت و تجارت، تاجکستان کے ادارہ برائے انسداد بدعنوانی و اسٹیٹ فنانشل کنٹرول اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے درمیان تعاون، تاجک انسٹی ٹیوٹ آف لینگویجز دوشنبے اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے درمیان تعاون اور تاجکستان کے ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں کے علاوہ خارجہ امور کی وزارتوں کے درمیان تعاون کے پروگرام اور علاقائی یکجہتی و رابطے کے لیے تزویراتی شراکت داری کے قیام کے سلسلے میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے۔قبل ازیں تاجکستان کے صد امام علی رحمن اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں وفاقی وزیر خسرو بختیار نے نور خان ایئربیس پر ان کا خیر مقدم کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم ہاو¿س آمد پر امام علی رحمن کا استقبال کیا۔تاجکستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور توپوں کی سلامی دی گئی۔، اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جس کے بعد تاجک صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*