تازہ ترین

کرپشن اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ہم ترقی سے محروم رہے،صدر مملکت

اسلام آباد (این این آئی) صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کو سیاسی فٹبال نہ بنایا جائے، امید ہے تمام سیاسی جماعتیں آئی ووٹنگ کےلئے مکمل حمایت کریں گی، کرپشن کے ناسور اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ترقی سے محروم رہے،کورونا کے مثبت اثرات کے سبب دنیا کی معیشت سکڑی ، پاکستان کی معاشی کارکردگی بہت بہتر رہی،ملک صنعتی انقلاب سے گزر رہاہے جسے شور شرابے سے نہیں روکا جاسکتا،زرعی شعبے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، بہت جلد پوری آبادی کو صحت سہولت پروگرام میں شامل کر لیا جائے گا ، چمکتے دمکتے اور ابھرتے ہوئے پاکستان کی منزل کو پا لیں گے، و دہائیوں سے جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 150 ارب ڈالر اور 80 ہزار سے زائد جانوں کا بھاری نقصان برداشت کیا مگر اپنے عزم سے متزلزل نہ ہوئی ،افواج پاکستا ن اور سکیورٹی اداروں پر فخر ہے ،بھارت اور ملک دشمن عناصر سی پیک کو سبوتاژکرنے کے درپے ہیں،بھارت پاک چین تعلقات میں دراڑ پیدا کر نے کی کوشش ناکام ہوگا ، دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جائےگی ،بھارت کشمیر میں ظلم کا بازار بند کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دے،پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا، بھا رت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور آر ایس ایس کے شدت پسندانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی ہندوتوا کے فاشسٹ نظرئیے سے علاقائی سالمیت کو بہت بڑا خطرہ ہے، بھارت میں جوہری مواد کی چوری اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کے واقعات سامنے آئے ہیںجسکی وجہ سے عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، افسوس عالمی برادری نے نوٹس نہ لیا ،طویل جنگ اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہ ہو سکا،افغانستان کی نئی حکومت افغانستان کی عوام کو متحد کرے ، فتح ِ مکہ پر حضورکی تعلیمات کے مطابق عام معافی کی پالیسی اپنائے اور افغانستان کی سرزمین سے کسی پڑوسی ملک کو کوئی خطرہ نہ ہو، دنیا بھی افغانستان کو بے یارو مدد گار نہ چھوڑے ، افغانستان میں امن ، انشاءاللہ ، سارے پڑوسی ممالک کیلئے بہت خوش آئند ہوگا،دنیا کو اسلاموفوبیا اور اسلام دشمنی کا سامنا ہے اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان ایک بہت بڑے چمپئن بنے ،دنیا عمران خان کے سیاسی تدبرپر ان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرے،بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق خبر فیک نیوز تھی، فیک نیوز کو ترازو میں تول کر احتیاط کریں۔ پیر کو یہاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہاکہ میں تیسرے پارلیمانی سال کی تکمیل اور چوتھے سال کے آغاز پر تمام معزز اراکین پارلیمان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ پاکستان میں جمہوری اقدار اور ایک دوسرے کی برداشت کی روایات فروغ پائیں ۔انہوںنے کہاکہ میری یہ گفتگو پاکستان کے حال اور مستقبل کے حوالے سے ہے کیونکہ میرا ملک ایک نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں ہمارے ملک اور قوم میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آ ئی ہیں اور میری یہ تقریر اِن تبدیلیوں اور کامیابیوں کا احاطہ کرنے کی کوشش ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں انشاءاللہ اس بات کا بھی ذکر کروں گا کہ ہم پچھلی دہائیوں میں تربیت کے کن مراحل سے گزرے اور اس کے نتیجے میں ہم نے کون کون سی طاقتیں اور صلاحیتیں اپنے اندر پیدا کیں جن کی بدولت ہم انشا ءاللہ ایک چمکتے دمکتے اور ابھرتے ہوئے پاکستان کی منزل کو پا لیں گے۔ انہوںنے کہاکہ سب سے پہلے معیشت پر گفتگو ہو جائے۔انہوںنے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ کورونا کے منفی اثرات کے سبب دنیا کی تمام معیشتیں سکڑنے لگیں مگر ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حکومت کی اچھی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معاشی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر رہی اور پاکستانی معیشت کی شرحِ نمو 3.94 فیصد رہی۔ میں زیادہ تفصیل میں جانے سے گریز کروں گا کیونکہ پچھلے دنوں بجٹ سیشن کے دوران حکومت نے اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان نے معاشی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ، مگر میں چیدہ چیدہ کامیابیوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ مالی سال 2020-21 کے دوران پاکستان کی برآمدات گزشتہ سال 23.7 ارب سے بڑھ کر 25.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،· ترسیلات زر 29.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے جو کہ پچھلے سال کی نسبت تقریباً 6 ارب ڈالر زیادہ ہیں اور اس سال کے شروع کے 2 مہینوں میں مزید 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور ایشیاءکی بہترین اور دنیا کی چوتھی بہترین کارکردگی کا اعزاز حاصل کیا اور مئی 2021ءمیں ایک سیشن میں ریکارڈ توڑ 2.21 ارب حصص کی خریدو فروخت ہوئی۔انہوںنے کہاکہ حکومتی اقدامات کی بدولت دو سال قبل عالمی بینک کی کاروبار میں آسانی کے اشاریئے میں پاکستان کی پوزیشن میں 28 درجے کی بہتری آئی تھی۔انہوںنے کہا کہ اب آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ اوورسیز انوسٹرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حالیہ سروے کے مطابق سمندر پار سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت اور حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد یعنی کاروباری اعتماد کے انڈیکس میں تقریباً 60 فیصدکا اضافہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ ایف بی آرنے سا ل2021 ءمیں ٹیکس وصولیوں کی مد میں 4732 ارب روپے اکھٹے کیے جو کہ پچھلے سا ل کی نسبت تقریباً 18 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی طرح موجودہ مالی سال کے پہلے دو مہینوں میں ہدف سے 160 ارب روپے زائد کی وصولیاں ہوئیں ہیں۔ عوام کا اتنی بڑی تعداد میں ٹیکس جمع کرانا اور ترسیلات ِ زر بھیجنا حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ میں مبارکباد دیتا ہوں حکومت کو کہ FATF کے میدان میں بڑی تندہی سے کام کر کے سارے اعتراضات کے حل کیلئے قوانین اور طریقہ کار بنا لیے گئے اور لاگو بھی کر دئیے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عوام اور بالخصوص کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو حکومت نے ایک بڑا کنسٹرکشن پیکج دیا ، مکان اور چھت کی فراہمی کیلئے نیا پاکستان ہاو¿سنگ پروگرام کا آغاز کیا ، اس کیلئے حکومت نے تعمیراتی شعبے کو 36 ارب روپے کی سبسڈی دینے کے علاوہ مختلف ٹیکسوں کی مد میں چھوٹ بھی دی۔ بینکوں کی مدد سے عوام کو اپنے مکان کی تعمیر کیلئے آسان شرائط پر قرض کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔ نتیجتاً پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کاہاﺅسنگ اینڈ کنسٹرکیشن فنانس پورٹ فولیو 260 ارب روپے کی حد عبور کر چکا ہے۔ حکومت کے اعلان کردہ تعمیراتی پیکج میں اب تک 447 ارب مالیت کے 1252 منصوبوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کی بدولت نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے بلکہ 70 کے قریب نیچے کی صنعتیں کہ اسٹیل ، سیمنٹ ، پینٹ اور الیکٹرانکس انڈسٹری میں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں تاریخی ترقی کا سہرا وزیرِ اعظم کے سر جاتا ہے کہ جنہوں نے عوام کے احساس پر مبنی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں معاشی کامیابی سے بھی نوازا ۔انہوںنے کہاکہ زراعت کے شعبے میں 2.77فیصد کی ترقی ہوئی اور اس میں مزید محنت کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی آئی ٹی شعبے پر خصوصی توجہ کی وجہ سے آئی ٹی برآمدات 2.12 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ سال کی نسبت ان برآمدات میں 47 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت نوجوانوں کی آن لائن تربیت کاپروگرام ڈیجی اسکلز قابلِ ذکر ہے۔ یہ امر لائق تحسین ہے کہ اب تک 17 لاکھ نوجوانوں کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے تربیت دی جاچکی ہے ۔ جس میں اکثریت 18 سال سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ہے ۔ پاکستان کے فری لانسرز اب تک 20 کروڑ ڈالر سے زائد زر مبادلہ کما چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ دنیا اس وقت چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے اور یہ انقلاب صرف مادی ترقی کا انقلاب نہیں بلکہ ایک فکری اور ذہنی انقلاب ہے۔ ماضی میں اقوام نے کارخانوں اور انڈسٹری کی مدد سے ترقی کی۔ یہ ترقی جسے ہم اینٹ اور گارے کی ترقی بھی کہتے ہیں ، ضروری ہے مگر یہ وقت لیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجیز ، جیسا کہArtificial Intelligence, Cloud Computing, Software Development, Internet of Things, Networking, Data Analysisاور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے تیز رفتار ترقی ممکن ہے،میں سائبر سیکورٹی پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں،میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ذہانت کے اعتبار سے پاکستانی قوم اور پاکستانی نوجوان دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں ذہانت مساوات سے بانٹی ہے۔ مجھے اپنے سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کو بروئے کار لا کر عصرِ حاضر کے سائبر ڈیفنس اور سیکورٹی چیلنجز پر احسن طریقے سے قابو پالیں گے۔ انہوںنے کہاکہ یہ تو تھے چند معیشت کے اِشاریے مگر اسی طرح ، حکومت کا انسانی وسائل کی ترقی کو اولین ترجیح دینا اور انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسیوں کو اپنانا دوسری بڑی تبدیلی اور کامیابی ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میںہیومن ڈیولپمنٹ کے شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا اور ہم نے اپنی توجہ صرف brick and mortar developmentپر ہی مرکوز رکھی ۔ انہوںنے کہاکہ کرپشن کے ناسور اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ہم نہ صرف ترقی سے محروم رہے بلکہ انسانی و سماجی ترقی کے تمام اِشاریوں یعنی کہ ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرز میں بھی دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ۔انہوںنے کہاکہ ٹیلنٹ کی قدر نہ ہونے اور میرٹ کو فوقیت نہ دینے کی وجہ سے پاکستان کو گورننس کا نقصان ہوا اور برین ڈرین کا سامنا بھی کرنا پڑاجیسا کہ آپ کو علم ہے کہ قومی سلامتی کا تصور اب صرف سرحدوں اور فوجی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ ماحول ، خوراک ، تعلیم ، چھت اور صحت کے شعبے انسانی سلامتی کے جامع تصور کے تحت مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ،ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ایک نئے اور عظیم الشان پاکستان کا قیام ایک تعلیم یافتہ ، صحت مند اور ذمہ دار قوم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہنرمند اور ذہین افراد اقوام کی ترقی کیلئے سب سے بڑا پلر ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا کہ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“۔لہٰذا حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاشرے کے کمزور اور نادار افراد کی فلاح و بہبود کیلئے احساس پروگرام جیسے غربت کا خاتمہ اور سماجی تحفظ کے مثالی منصوبوں کا قیام عمل میں لائی،ذہنی و جسمانی کمزوری کے خاتمے کیلئے احساس نشوونما پھر ، وسیلہ تعلیم ، احساس کفالت ، احساس اسکالرشپ ، احساس ایمرجنسی کیش ، احساس آمدن ، احساس لنگر خانے اور احساس کوئی بھوکا نہ سوئے اور پناہگاہوں جیسے نئے پروگراموں کی مدد سے مستحق اور غریب افراد کے معاشی اور سماجی تحفظ پر کام کر رہی ہے،معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے درد کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے اس سال تقریباً 208 ارب روپے مختص کیے ہیں ۔ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو کیش امداد دی جائے گی جس سے ملک کی 30فیصد آبادی مستفید ہو سکے گی۔ ان تمام منصوبوں میں نہ صرف خواتین بلکہ خصوصی افراد کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا اور ان کیلئے احسن اقدامات کیے گئے۔ “احساس کفالت پروگرام ” کےتحت اس مالی سال میں 70 لاکھ خواتین کو ماہانہ 2000 روپے دیے جائیں گے اور 20 لاکھ خصوصی افراد کو ماہانہ 2 ہزار روپے دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خواتین اور خصوصی افراد کی مالی شمولیت یقینی بنانے کیلئے خصوصی قرض کی اسکیم متعارف کرائی گئی۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرض کی اسکیمیں تو موجود ہیں مگر مناسب آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے قرض لینے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایک اور بہترین کام ”کامیاب جوان پروگرام ” ہے ، جس کےلئے اس سال تقریباً 100 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے اس لیے کہ ملک کے نوجوانوں کو ٓسان شرائط پر اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے قرض دیے جائیں، اب تک 15 ارب روپے سے زائد کی رقم سے تقریباً 14 ہزار کاروبار شروع کیے جا چکے ہیں۔حکومت نے نوجوانوں کی کیپسٹی بلڈنگ میں اضافے اور انہیں باہنر بنانے کیلئے ہنر مند پاکستان پروگرام کیلئے 10 ارب روپے کی رقم رکھی ہے اور اب ملک بھر کے 720 اداروں میں ایک لاکھ ستر ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر نوکریوں کے قابل بنایا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ اسی طرح حکومت عوام کے صحت کے مفت علاج کیلئے بھی سرگرم عمل ہے۔ صحت سہولت پروگرام اور صحت کارڈ کے تحت پاکستان نیورسل ہیلتھ کوریج کی منزل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اب تک ایک کروڑ اسی لاکھ خاندان جو کہ تقریباً 8 کروڑ دس لاکھ افراد بنتے ہیں ، اس پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں۔ آپ کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہو یا پنجاب سے یا بلوچستان سے ، اسلام آباد سے ہو یا آزاد جموں و کشمیر سے ، سابقہ فاٹا اضلاع سے ہو یا گلگت بلتستان سے ، آپ جسمانی معذوری کا شکار ہیں یا آپ کا تعلق کسی بھی اقلیت سے ہے ، ریاست آپ کی صحت کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے ،انشاءاللہ ، بہت جلد پوری آبادی کو صحت سہولت پروگرام میں شامل کر لیا جائے گا ۔ مزید برآں ، حکومت ملک میں ٹیلی میڈیسن کے فروغ کیلئے بھی اقدامات کررہی ہے اور میں صوبوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹیلی میڈیسن کے تصور کو اپنانے پر توجہ دیں جس سے غریب آدمی یا عورت فون پر بات کر کے مشورہ تو لے سکے۔ اس سے سستے علاج کی فراہمی اور ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوںنے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے وسائل پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ہمیں تعلیم ، صحت ، خوراک ، ٹرانسپورٹ ، پانی نکاسی آب اور توانائی جیسی ضروریاتِ زندگی عوام تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمیں بچوں کی پیدائش میں وقفہ لانے ، کنبہ چھوٹا کرنے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق ماں کا بچے کو اپنا دودھ پلانے کی روایت عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی بہتر پرورش ہو سکے ، ماں اور بچے کی صحت پر مثبت اثر پڑے اور بچہ غذائی قلت اور ذہنی و جسمانی کمزوری یا stunting کا شکار نہ ہواس سلسلے میں میڈیا ، علمائے کرام اور معاشرے کے دیگر طبقات کے علاوہ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ فنڈنگ میں اضافہ کریں۔انہوںنے کہاکہ تعلیم کا شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور حکومت نے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب کے نفاذ کےلئے اقدامات کیے ہیں۔ اس بہترین کام کا مقصد ملک بھر کے بچوں کو مساوی معیارِ تعلیم کو یقینی بنانا ہے اور ایک متحد قوم کی تشکیل کرنی ہے۔ احساس اسکالر شپ پروگرام کے تحت تقریباً 50 ہزار طلباءکیلئے اسکالر شپ کا آغاز کیا گیا اور گزشتہ دو سال میں ایک لاکھ 42 ہزار طلباءکو احساس اسکالر شپ دی گئی ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*