تازہ ترین

کرپشن، کرپشن اور پھر کرپشن!!!!

محمد اکرم چوہدری
وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے بیانیے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ”ملک میں چوری اور کرپشن کو گناہ نہیں سمجھا گیا۔ کرپشن سے قوم کی اخلاقیات کا خاتمہ ہو جاتا ہے”۔ وزیراعظم عمران خان یہ بات اس وقت سے کر رہے ہیں جب وہ اقتدار میں نہیں تھے یا پھر ان کے ساتھ صرف چند لوگ تھے یا پھر ان دنوں سے وہ یہ بات کر رہے ہیں جب لوگ ان کے ساتھ سیاسی سفر شروع کرتے تھے لیکن سیاسی مقاصد حاصل نہ ہونے پر تھوڑے ہی عرصے میں الگ ہو جاتے تھے۔ اب تو عمران خان اقتدار کے چوتھے سال میں ہیں اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کے اعتبار سے پاکستان تحریکِ انصاف کا 9 واں سال ہے کیونکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے مسلسل دوسری مرتبہ حکومت بنائی ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وفاقی حکومت میں آنے سے پہلے ان کی جماعت کو حکومت کا تجربی نہیں تھا۔ یہ درست ہے کہ وفاق میں حکومت کا تجربہ نہیں تھا لیکن صوبے میں پانچ سال تک پی ٹی آئی کی حکومت ضرور رہی۔ اس دوران بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کرپشن کے خلاف میدان عمل میں رہے۔
قارئینِ کرام ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر بیانیے کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بااثر اور بڑے لوگ اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں چونکہ ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہوتی وہ وسائل کو اپنا بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر اس سے مطلوبہ نتائج بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جب کرپشن کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہیرا پھیری ہے، چوری ہے، ناجائز ذرائع سے پیسہ بنانا ہے یا پھر اقتدار کا فائدہ اٹھا کر کاروبار کو وسعت دینا ہے۔ یہ وہ کرپشن ہے جب جہاں کسی کو موقع ملے تب کرتا ہے۔ بھلے وہ ایک چوکیدار ہے یا پھر کسی بھی کمپنی کا اعلیٰ ترین عہدے دار لیکن ایک کرپشن ایسی ہے جس کے لیے موقع ملے نہ ملے سب کرتے رہتے ہیں اور حکمران یہ کرپشن سب سے زیادہ کرتے ہیں اور سیاست دان حکومت میں آنے کے لیے اس کرپشن کے نئے ریکارڈ بھی قائم کرتے ہیں۔ ایک کرپشن کرنے والوں کو پکڑنے اور جکڑنے کے لیے کئی ادارے قائم ہیں ایک ادارہ نیب ہے جسے سب اپنی اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں کچھ بند کرنا چاہتے ہیں تو کچھ غیر موثر کرنا چاہتے ہیں لیکن جو کرپشن ہر شخص کر سکتا ہے یا ہر دوسرا شخص کر رہا ہے اسے روکنے کے لیے کسی سطح پر کوئی کام نہیں ہو رہا اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس حوالے سے کوئی امکان ہے۔ یہ اخلاقی کرپشن ہے۔ اس میں ہر دوسرا شخص ملوث ہے۔ کیا سیاست دان یہ کرپشن نہیں کرتے، کیا وعدہ کرنا اور پھر توڑ دینا اخلاقی کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا، کیا وعدے کے بارے قرآن کریم میں واضح حکم نہیں، کیا جھوٹ بولنا کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا اور کیا کوئی ایسا ڈیٹا ہے جس سے یی جانچا جا سکے کہ ملک میں روزانہ کتنا جھوٹ بولا جاتا ہے، حکمران کتنا جھوٹ بولتے ہیں اور عوامی سطح پر جھوٹ بولنے کی شرح کیا ہے۔ مالی کرپشن تو اس وقت ہوتی ہے جب موقع ملتا ہے، بدزبانی، بدعہدی، بدتہذیبی، گندگی اور اس سے جڑی اخلاقی کرپشن تو ہر شخص کر رہا ہے۔ کیا آج حکمران دل کھول کر اس کرپشن میں ملوث نہیں ہیں، پاکستان تحریکِ انصاف نے عوام سے کتنے وعدے کیے تھے، کتنے وفا ہوئے اور کتنے وعدوں کے ساتھ بندھے لوگ دنیا سے چلے گئے۔
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ”جس معاشرے میں اخلاقیات ہوں اسے ایٹم بم بھی تباہ نہیں کر سکتا۔ قوم کی اخلاقیات ختم ہوجائے تو کرپشن نکلتی ہے۔ ایسا معاشرہ ڈیل کرتا ہے، این آر او دیتا ہے۔ وزیراعظم سے خرابی شروع ہو تو نیچے تک جاتی ہے”۔ محترم وزیراعظم آپ بجا فرما رہے ہیں لیکن کیا سیاست دان اخلاقی کرپشن سے پاک ہیں، کیا موجودہ حکومت میں یہ برائی موجود نہیں ہے۔ اگر اخلاقیات ختم ہو رہی ہیں تو اسے زندہ کس نے کرنا ہے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اللہ کو پیارے ہوئے کیا وزیراعظم کی حیثیت سے ان کے جنازے میں شرکت آپ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں تھی، کیا ڈاکٹر اے کیو خان کوئی عام انسان تھے، کیا ڈاکٹر اے کیو خان نے اس ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دن رات محث نہیں کی، کیا ان کا ہم پر اتنا بھی قرض نہیں تھا کہ ملک کا وزیراعظم ان کے جنازے میں شرکت فرماتا، جناب وزیر اعظم اخلاقی معیار کو بلند کرنے کے لیے قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور ہم نے تو محسن پاکستان کو اس قابل نہیں سمجھا کہ ان کے جنازے میں شرکت کر لیتے۔ اس عمل سے کیا اخلاقی پیغام گیا ہے، کیا یہ پیغام نہیں گیا کہ ملک و قوم کی خدمت کی ضرورت نہیں حکمران بہت ظالم ہیں۔ ان پر کوئی اخلاقی پابندی نہیں ہے، انہیں اخلاقیات کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ”پہلے اخلاقیات گرتی ہے پھر معیشت کا زوال آتا ہے، بنگلادیش ہم سے آگے نکل گیا،یہ ملک عظیم ملک بننا تھا، ہم تباہی کے راستے پر چلے گئے۔ طاقتور کو قانون سے اوپر رکھتے ہیں تو انصاف نہیں کرسکتے ہمارے ملک میں اخلاقیات آہستہ آہستہ نیچے گری، پھر معیشت نیچے گئی”۔ جناب وزیراعظم اب آپ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آپ ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں کون ہے جو قانون توڑے اور آپ سے بچ جائے، کون ہے جو کرپشن کرے اور آپ سے بچ جائے، آپ کے پاس طاقت اور اختیار ہے تین برس سے زائد وقت گذر چکا ہے آپکی حکومت کرپشن کرنے والوں کو پکڑنا تو دور کی بات انہیں ہاتھ
بھی نہیں لگا سکی، اب یہ وقت متحرک کرنے، جوش و جذبہ بڑھانے والی تقاریر کا ہرگز نہیں ہے قوم نے آپکو مینڈیٹ دے کر پارلیمنٹ میں بھیجا ہے قانون توڑنے والوں کو نشان عبرت بنائیں اور براہ کرم معیشت کی بدحالی کو اخلاقی بدحالی سے مت ملائیں کیونکہ اگر اس پر بات شروع ہوئی تو بہت دور تلک جائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*