تازہ ترین

کالا دن دنیا کے نام انصاف پسندوں کے نام!!!!!

محمد اکرم چوہدری
آج کشمیری کالا دن منا رہے ہیں، سفید رنگ کے مالک کشمیریوں کے لیے یہ کالا دن بہت بڑی مصیبت ہے، کشمیری دہائیوں سے دنیا کے نام نہاد انصاف پسندوں اور نام نہاد مہذب دنیا کے خلاف احتجاج کرتے آ رہے ہیں۔ ستائیس اکتوبر دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ کشمیریوں پر مسلسل ظلم ہو رہا ہے اور دنیا خاموش ہے۔ بھارت کے ساتھ کاروباری روابط کی وجہ سے دنیا کے طاقتور اور بڑے ممالک خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ جو جانوروں کے حقوق کا بھی تحفظ کرتے ہیں انہیں کشمیر میں انسانوں پر ہونے والا ظلم اور قتل عام دکھائی نہیں دیتا۔ کشمیری نجانے کب تک یہ ظلم و ستم برداشت کرتے رہیں گے لیکن انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت آزادی حاصل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ تشدد برداشت کر رہے ہیں، انہیں اپنے گھر میں قید کر دیا گیا ہے، ان کے بچوں پر ظلم ہوتا ہے، ان کی خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے ان کے بزرگوں کو گھسیٹا جاتا ہے لیکن کشمیری ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کشمیری اپنے قیمتی خون سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔
آج دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ یہ دن منانے کا مقصد عالمی برادری کو باور کرانا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی خواہشات کے برخلاف جموں و کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ بھارت نے ستائیس اکتوبر انیس سو سینتالیس کو تقسیم برصغیر کے فارمولے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس جموں و کشمیر پر اپنی فوجوں کے ذریعے ناجائز قبضہ کیاتھا۔ آج کشمیر میں مکمل ہڑتال اور سرینگر کے لال چوک کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ آج دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔
کالے دن کے موقع پر ہڑتال کی کال میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے دی ہے۔رواں سال یوم سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے 5 اگست 2019سے مسلط کردہ فوجی محاصرے کی وجہ سے کشمیری عوام کو درپیش شدید مشکلات کی طرف مبذول کرانا بھی ہے۔ ستائیس اکتوبر انیس سو سینتالیس جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ کشمیری آج دنیا بھر میں یوم سیاہ مناتے ہوئے دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ بھارت ظلم و جبر کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتا۔ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بھارتی فورسز روزانہ نہتے کشمیریوں کو قتل اوراملاک کو تباہ کر رہی ہیں اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی،جموں و کشمیر پیپلز لیگ، مسلم کانفرنس جموں و کشمیر، تحریک استقلال جموں و کشمیر، محاذ آزادی جموں وکشمیر اور اسلامی تنظیم آزادی نے اس موقع پر کہا ہے کہ یہ دن کشمیریوں کے لیے مشکلات لے کر آیا ہے کیونکہ بھارت تب سے پورے خطے میں اپنے غیر اخلاقی ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صرف کشمیر ہی نہیں بھارت میں بھی مسلمانوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے۔ بھارتی فاسٹ باﺅلر محمد شامی کو بھی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پاکستان کی فتح پر خوشی منانے والوں کی ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں۔بھارت میں ہندوتوا کی سرپرستی اور حکومت کی منظم امتیازی پالیسوں کی بدولت بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے باعث دنیا کی سب بڑی نام نہاد جمہورہت میں تقریباً دو سو ساٹھ ملین اقلیتوں کو اپنی بقا کے خطرے کا سامنا ہے۔بدنام زمانہ“بھگوا غنڈے ”لاٹھی یا تلوار سے مسلح نوجوان مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں یا سکھوں کی عبادت گاہوں پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں جلاتے ہیں۔ کمیونٹی کے اراکین کا قتل عام آر ایس ایس حمایتی سیاستدان نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتی حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کی آبادی 79.8 فیصد ہندو، 14.2 فیصد مسلمان، 2.3 فیصد عیسائی اور 1.7 فیصد سکھوں پر مشتمل ہے۔وہ گروہ جو مل کر دو فیصد سے بھی کم آبادی پر مشتمل ہیں ان میں بدھ مت، جین، زرتشتی، یہودی اور بہائی شامل ہیں۔اپنے عسکری ونگز کی پشت پناہی کرنے کے علاوہ، بی جے پی حکومت امتیازی قوانین کا اجرا ءکر رہی ہے۔ ان اقدامات کا واحد مقصد بھارت کو تمام غیر ہندو برادریوں سے پاک کرنا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت بھارت نے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے اپنی آبادی کو تبدیل کرنے کے مقصد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے۔
انسانی حقو ق کی عالمی تنطیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ فروری 2020 میں دہلی میں شروع ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ہندو بلوائیوں کے ٹارگٹڈ حملوں میں بہت سی املاک تباہ ہو ئیں اور بہت سے طبقات بے گھر ہوگئے۔دہلی اقلیتی کمیشن کی جولائی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں تشدد ”ایک جامع منصوبہ بندی اور مخصوص اہداف پر مبنی تھا”جبکہ ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ پولیس مسلم متاثرین کے خلاف تشدد بھڑ کانے کے مقدمات درج کر رہی ہے، لیکن بی جے پی کے ان رہنماﺅں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی جنہوں نے اس تشددآمیز کارروائیوں کا آغاز کیا۔
اتر پردیش کے حکام نے گائے کو زبح نہ کرنے کے قانون کے تحت 4000 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ 2019 کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں دلتوں کے خلاف جرائم میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مختلف واقعات میں، اڑیسہ میں 40 دلت خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا جب ایک 15 سالہ لڑکی نے ایک اونچی ذات کے ہندو خاندان کے گھر کے پچھلے حصے سے پھول توڑے۔ ایک دلت آدمی کو مبینہ طور پر ایک اونچی ذات ہندوکے موٹرسائیکل کو چھونے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ایک دلت وکیل کو برہمنی پر تنقید کرنے والی ان کی سوشل میڈیا پوسٹس پر قتل کر دیا گیا۔کرسچن این جی او پرسیکیوشن ریلیف کے مطابق گذشتہ سال بڑے پیمانے پر وبائی لاک ڈاﺅن کے باوجود پہلے چھ ماہ کے عرصے میں بھارت میں مسیحیوں پر حملوں یا انہیں ہراساں کرنے کے 293 واقعات رونما ہوئے۔ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست، 2019 کی بھارتی یکطرفہ کارروائی کے بعد، بھارتی حکام نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر لوگوں کو گرفتار کیا۔
بھارتی افواج سیکورٹی کے بہانے بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کی موٹر سائیکلیں ضبط کر رہی ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنی نوکریاں اور طالب علموں کو تعلیم سے روکنا ہے۔ایک صحافی فہد شاہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں بائیک پکڑے جانے سے عام لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے لاجسٹکس کاروباری ادارے ڈیلیوری کرنے والے ملازمین کی موٹر سائیکلیں ضبط ہونے کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
جبکہ جن صحافیوں کی موٹر سائیکلیں ضبط کی جاتی ہیں وہ سارا دن اپنا فرائض سر انجام دینے سے قاصر ہیں۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ایک انداز ے کے مطابق اگست 2019 کے بعد تین ماہ کے اندر اندر علاقے میں لاک ڈاﺅن سے معیشت کو 2.4 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ مارچ 2020 میں کوویڈ لاک ڈاﺅن کے بعد نقصانات تقریبا ً اس سے دگنے ہو گئے جسے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر طول دیا گیا۔
معروف بھارتی فلم اداکارہ سوارا بھاسکر نے ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے جس میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے جے شری رام کے نعرے لگا کر مسلمانوں کی نماز میں خلل ڈالا، کہا کہ وہ ایک ہندو ہونے کے نا طے اس پر عمل پر شرمندہ ہیں۔ایک صحافی روہنی سنگھ نے کہا کہ“لوگ ایسے نفرت انگیز ہجوم میں بدل گئے ہیں کہ کسی اور کی نماز میں خلل ڈالنا ایک عظیم مذہبی عمل سمجھا جاتا ہے۔ جو ایک انتہائی شرمناک عمل ہے۔ قارئین کرام یہ اعداد و شمار دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانے کے لئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ کاروباری مفادات کی وجہ سے کوئی نہیں جاگے گا لیکن یہ کالا دن ضرور تاریخ میں ان لوگوں کی یاد دلاتا رہے گا اور فرق واضح کرتا رہے گا کہ کون حق پر تھا کون سچا تھا کون ظلم کر رہا تھا اور کون ظالم کا ساتھی تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*