ڈی این ایف بی پی کی شرائط پوری کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں، نظر ثانی کی جائے ‘ پاکستان ٹیکس بار

Pakistan Tax Bar association

لاہور( کامرس ڈیسک )پاکستان ٹیکس بار نے کہا ہے کہ حکومت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ قوانین کے تحت دستاویزی معیشت بھی چاہتی ہے لیکن آئی ایم ایف کی ڈائریکشن پر ڈی این ایف بی پی کے ذریعے کاروباری شخصیات اور مختلف شعبوںکے گرد جال بھی بن رہی ہے،کسی بھی ملک کے قانون میں ایف آئی آر سے پہلے گرفتاری کا تصور نہیں ہے ،ڈی این ایف بی پی کی شرائط پوری کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں اس لئے اس پر نظر ثانی کی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹیکس بار کے صدر آفتاب حسین ناگرہ،سینئر نائب صدر قاری حبیب الرحمن زبیری،جنرل سیکرٹری فرحان شہزاد،سیکرٹری اطلاعات شہباز صدیق ،ارشد نواز مان۔سید تنصیر بخاری اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف ایزآف ڈوئنگ بزنس کے نعرے لگات ہے اور دوسری طرف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مشکلات بھی بڑھا رہی ہے ،2لاکھ جیولرز اور ڈویلپر اس قانون کی شرائط کوکبھی بھی پوری نہیں کر سکتے،یہ شعبے کورونا میں ملکی معیشت کو سہارا دے رہے تھے جو اب شش و پنج کا شکار ہو رہے ہیں، کریمنلز پروسیڈنگ ملکی حالات و واقعات اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*