تازہ ترین

ڈیموں کی تعمیر سے پہلے کو چ نہ کر نا پڑے

تحریر :دین محمد کا کڑ
کسی نے صحیح کہا ہے کہ مشکلا ت میں انسان زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر نہیں۔زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی جبکہ ایک حصہ خشکی پر مشتمل ہے۔ماضی میں دنیا نے زمین او پر جنگیں ہوئی ہےں اور آج پا نی کے ذخائر پر لڑائیاں ہورہی ہیں جبکہ مستقبل اس میں شدت آسکتی ہے جس کے نتائج زیادہ سنگین ہوسکتیںہیں۔قیام پاکستان کے وقت فی کس روزانہ 5000کیوبک میٹر سے زیادہ پانی موجود تھا۔اور آج 2019ءمیں فی کس روازنہ 1000کیوبک میٹر سے بھی کم میسرہے۔
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے قلت آب کا مسئلہ ہرگزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے۔ جو مستقبل میں پانی کی قلت سے شدید متاثر ہوگا۔قلت اب کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں ساتویں خطرناک ترین ملک بن چکا ہے۔اس کا مطلب پاکستان میں 2025ءتک پانی کی صورتحال مزید گمبھیر اور ابتر ہوگی۔پانی کی عدم دستیابی سے جہاں لوگوں کو پینے کے پانی کی دستیابی مشکل ہوگی مسقبل میں ہمارا ملک زرعی شعبہ میں سب سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے۔اسی بنا پر ملک میں خوراک کی کمی اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔بلوچستان اپنے منفرد آب وہوا اور جغرافیائی خدو خال کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ تصور کیا جاتاہے۔
صوبے میں نہروں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو پینے اور کاشتکاری کے لیے با رش کے پانی پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔اج سے پچاس سال پہلے صوبے میں کاریزات عام تھیں بے شمار چشمے تھے جن سے بعض سے دو تین کیوسک پانی بہتا تھا۔لوگ یہی زرائع پینے اور زرعی مقاصد کے لیے پانی حاصل کرتے تھے۔لیکن رفتہ رفتہ موسمی حالات کی تبدیلی،بارشوں کی کمی اور زیرزمین پانی کے بےدریغ استعمال سے زیرزمین پانی کی سطح گرنے لگی برسوں سے جاری کاریزات اور چشمے خشک ہوتی گئیں۔
لوگوں نے اپنی ضروریات پورا کرنے کے لیے ابتدا میں کنوئیں کھدوائے لیکن جب سطح آب مزید نیچے گری تو ٹیوب ویل لگائے اور زیرزمین پانی کونکا ل کر استعمال کرنے لگے جس سے زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حدوں تک گر گئی ہے۔1960ءمیں زیر زمین سطح آب 60فٹ پر تھی لیکن آج ایک ہزار سے 12ہزار فٹ تک چلی گئی ہے۔جس کے اثرات سے باغات خشک ہوتے گئے اور درخت کاٹے جارہے ہیں۔ہمارے صوبے میںاب مون سون اور دیگر موسموں میں بارشیں کافی کم ہوئی ہیں۔
لیکن جب بھی بارش ہوتی ہے پانی سیلابی صورتحال اختیار کرکے سمندر برد ہوجاتا ہے۔جس سے اس قدرتی نعمت سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کے باوجود آج کو ئٹہ کو قلت آب کے مسائل کا سامنا ہے۔
آئے روز پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے احتجاج کیے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق کوئٹہ میں ٹیوب ویلوں کے ذریعے زیر زمین 90فیصد سے زائد پانی نکالا جا چکا ہے۔یعنی دو تہوں سے پانی ختم اور اب صرف تیسری تہہ میں پانی باقی رہ گیا ہے۔موجودہ پیمائش اور اندازوں کے مطابق کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح آٹھ سے بارہ سو فٹ تک نیچے گر گئی ہے۔ماہرین اراضیات کی ایک رپورٹ کے مطابق پانی کی عدم دستیابی اور ذخیرہ کی نہ کر نے سے آیندہ سات سے دس سالوں میں کوئٹہ کے 24لاکھ باسی شدید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ذرائع ہیں۔
موجودہ حالات میں شہر میں پانی کی طلب 32ہزار گیلن یومیہ ہے جبکہ بمشکل 10ہزار گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے۔جبکہ باقی 22ہزار گیلن پرائیویٹ ٹینکرز اور دیگر ذریعوں سے پوری ہورہی ہے اگر پانی کے لیے متبادل انتظام تلاش نہیں کئے گئے تو کوئٹہ شہر 2030تک رہنے کے قابل نہیں ہوگا۔
شہر میں ٹیوب ویلوں کی تنصیب پر پابندی کے باوجود آج بھی 400کے قریب غیرقانونی اور پرائیوٹ طور پر ٹیوب ویل چلا رہے ہیں۔صوبے میں پانی کی قلّت پر قابو پانے اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہیں۔ اس سلسلے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں چیک ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے ذخیرہ کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔وفاقی حکومت کی معاونت،وزات پا نی وبجلی کے تعاون سے صوبائی محکمہ آبپاشی کی نگرانی میں صوبے میں 100چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے پہلے مرحلے میں اب تک 20ڈیموں کی تعمیر کا کام مکمل ہوچکاہے۔جن پر 2467ملین روپے لاگت آئی ہے۔دوسرے مرحلے میں مزید 26ڈیموں کی تعمیر آخری مرحلے میں ہیں۔جبکہ تیسرے مرحلے میں باقی ڈیم کو پانچ سال کی مدت میں تعمیر کیے جائیں گے۔یہ ڈیمز کوئٹہ ،پشین،قلعہ عبداللہ،بولان،چاغی،قلعہ سیف اللہ،لورلارائی،ماشکیل،زیارت،ڑوب،آواران،قلات،خضدار،گوادر،کیچ،لسیبیلہ،مستونگ،پنجگوراور مستونگ میں تعمیر ہونگے۔
ان ڈیموں کی تعمیر پر14ارب 46کروڑ سے زائد رقم خرچ ہوگی جبکہ پہلے مرحلے میں مکمل ہونے والے ڈیموں کی تعمیر سے 80 ہزار آٹھ سو پچاس ایکڑ کمانڈ ایریا سیراب ہونے کے علا وہ مقامی آبادی اور ان کے مال مویشیوں کو پانی ملنے اور روزگار کے ذرائع پیدا ہوں گے۔جبکہ ان ڈیموں میں ماہی پروری سے سالانہ کروڑوں روپے حاصل کیے جاسکتے ہیں ان ڈیموں میں بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے سے زیر زمین سطح اب میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ بارشوں کا پانی سمندروں میں ضائع ہونے سے بچا رہے گا جس سے قلت آب کا خاتمہ، زرعی ضروریات کیلئے پانی کی وافر دستیابی، باغات اور کھیتوں کو بوقت ضرورت پا نی کی فراہمی، زرعی اراضی میں اضافہ اور غذائی بحران جیسی صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی لوگوں کے لیے روزگار کے مختلف ذرائع پیدا کرنے، خوراک کے حصول اور غربت کے خاتمے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں 80 فیصد آبادی کا انحصار گلہ بانی اور زراعت پر ہے ان ڈیموں کی تعمیر سے زرعی شعبے میں بہتری آنے اور ان شعبوں سے وابستہ افراد کی معاشی آسودگی اور پینے کا پانی کے دستیابی ممکن ہوسکے گی۔کوئٹہ شہر میں قلت آب پر قابو پانے کیلئے ےصوبائی حکومت نے فوری طور پر اقدامات اٹھاتے ہوئے ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے اس سلسلے میں ہلک اور منگی ڈیم کی تعمیر سے شہر میں زیرزمین پانی کی سطح آب بلند اور لوگوں کو پانی کی فراہمی کے نظام میں بہتری آئے گی جبکہ باغات کے لئے یے پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل ہونے کا امکان ہے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے سے کاریزات اور چشمے دوبارہ سے بہناشروع ہوں گی ۔ حکومتی ادارے پانی کی قلت کے مسئلہ پر ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن حکومتی اقدامات اس وقت تک بے سود ہےں۔
جب تک عوام کی شمولیت اور تعاون اس میں شامل نہ ہواس وقت کوئٹہ میں پانی کی فراہمی لوگوں کیلئے ناکافی ہے لہذا استعمال میں احتیا ط اور بچت انتہائی ضروری ہے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کے ذرائع پینے اور زرعی مقاصد کے لیے اپنائے جائیں تاکہ پانی جیسے قیمتی اشیاءکوبے جا ضائع نہ ہوں اس کے لئے سیرابی نظام کی بجائے زیاد ہ سے زیا دہ قطراتی یا ڈراپ سپارکل ایریگیشن نظام متعارف کر وائے جائیں تاکہ پانی کی بچت اور زیادہ رقبے پر فصلوں کو پانی کی فراہمی ممکن بنایا جاسکے جس سے پیداوار زیادہ حاصل کرنے کے علاوہ آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ زرعی ضرورت کے لئے پانی کا استعمال رات کے اوقات میں کیا جائے۔ایسی فصلیں کاشت کی جائے جو کہ کم پانی میں اچھی پیداوار دے سکیں اس لیے چاول کی فصلوں کے بجائے کپاس کو اہمیت دی جائے انگور اور سیب کے باغات کی بجائے پستہ اور زیتون کے درخت لگائے جا ئیں تاکہ کم پانی میں درخت تیار ہوسکیں گھریلو استعمال میں پانی کے غیر ضروری اور بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر شعور کی بیداری ضروری ہے۔
کپڑے اوربرتن دھونے کے لئے پانی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے اور پودوں اور باغیچوں کو استعمال شدہ پانی سے سیراب کریں گھر کے فرش اور گاڑیوں کے لیے پینے کی بجائے وہ پانی جو کہ پینے کے قابل نہیں صاف ہے استعمال کریں۔نکاسی آب بھی ہماری کئی ضروریات میں آتا ہے لہذا اس پانی کو فلٹر کرکے اپنی صاف کرنے سے ایسے تعمیراتی اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
کوئٹہ میں نکاسی کا پانی چار ہزار کیوسک روزانہ ہے اگر اس پانی کو صاف اور فلٹر کرکے اپنی دیگر ضروریات میں استعمال کریں تو ہمارے پانی سے متعلق مسائل کافی حد تک حل ہوسکتے ہیں صوبے میں زیرزمین اورسطح زمین پر دستیاب آبی وسائل اور پانی کے بہترین استعمال سے متعلق وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے یہ بات درست ہے کہ صوبے میں پانی کا انحصاربارشوں پر ہے۔حکومتی اقدامات اور ہماری احساس ذمہ داری سے قدرت کے اس نعمت کو اپنے لئے اور اپنے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنا سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*