تازہ ترین

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا خط!!!!

محمد اکرم چوہدری
ڈاکٹر عبدالقدیر خان تو چلے گئے لیکن وہ جاتے جاتے ہم بے حسوں کو جگانے کی کوشش کر کے گئے ہیں۔ ان کا وزیر اعلیٰ سندھ کے نام آخری خط بے حس حکمرانوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ لکھتے ہوئے تکلیف تو ہوتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم محسنوں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ کوئی اپنے محسنوں کے ساتھ ایسا سلوک بھی کرتا ہے کہ ڈاکٹر اے کیو خان کو لکھنا پڑ جائے کہ کسی کو میری یاد تک نہیں آئی۔ چونکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈاکٹر صاحب کے لیے گلدستہ بھیجا اور خیریت دریافت کی اس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے لکھا کہ میں اب پہلے سے بہت بہتر محسوس کررہا ہوں میں شکر گزار ہوں کہ میرے صوبے کے وزیراعلیٰ نے مشکل وقت میں یاد رکھا، وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ وزیر اعظم اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو میری یاد تک نہ آئی۔ اب یہ الفاظ اس عظیم شخص کے ہیں جس ہی دن رات محنت کی وجہ سے آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، ہمیں دشمن کے حملوں کا خوف نہیں ہے۔ اس عظیم شخص نے اپنی زندگی کا بہترین وقت پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں صرف کیا، خود کو خطرے میں ڈالا لیکن ملک و قوم کو خطرے سے نکال دیا۔ اس سے زیادہ بے حسی اور کیا ہو گی۔ وہ ملک جس کے لیے دفاع دیگر ملکوں کی نسبت زیادہ اہم ہے وہ ملک جس کے دشمن زیادہ ہوں۔ اس ملک کے حکمران اپنے ایٹمی سائنسدان کو نظر انداز کر دیں یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ ارادتاً کیا جائے یا پھر بھول چوک میں دونوں صورتوں میں ناقابلِ برداشت ہے۔ جب ہم ڈاکٹر اے کیو خان کو نظر انداز کر سکتے ہیں تو ہم کسی کو بھی نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اس رویے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی ہمارے لیے اہمیت نہیں رکھتا، ہمارے لیے مال و دولت، عہدے مرتبے اور رتبے کی اہمیت ہے۔ کون ملک و قوم کی خدمت کرتا ہے اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے، بہت لوگ پہنچے جو محبت کرنے والے تھے وہ پہنچ گئے اور جو محبت نہیں کس سکے شاید انہیں سکیورٹی کلیئرنس نہیں مل سکی۔ وہ شخص جس نے پوری ملک کی حفاظت کو یقینی بنایا اس کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا عذر امن و امان کی صورتحال بتائی جائے تو یہ ہم سب کے لیے باعث شرم ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہم نے اپنے ہیروز کے ساتھ برا سلوک کیا ہے۔ ہمارے ہیروز کو زندگی کے آخری ایام میں اپنے علاج کے لیے حکومت سے درخواست کرنا پڑتی ہے۔ حال ہی میں عمر شریف کا انتقال ہوا ہے کیا وہ ہم سے خوش گئے۔ ان کی ساری زندگی ہمیں خوش کرنے میں گذری لیکن جب ان کا آخری وقت آیا تو انہیں وہ توجہ مہیں مل سکی جس ہے وہ مستحق تھے۔ اس سے پہلے اولمپیئن نوید عالم کا انتقال ہوا وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے انہیں بھی اپنے علاج کے لیے حکومت کی طرف دیکھنا پڑا۔ ان کی بیٹیوں کو اپنے والد کے علاج کے لیے وزراءکے دفتروں کے چکر لگانا پڑے۔ سندھ حکومت کو پھر بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ بھلے اپیل کے بعد ہی لیکن وہ قومی ہیروز کی مدد کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھی لیکن کیا یہ صرف سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کیا ہر ہیرو کو مشکل وقت میں عزت نفس کو قربان کرنا پڑے گا تب اس کی مدد کی جائے گی۔ نوید عالم سے پہلے شوکت علی کا انتقال ہوا، انہیں بھی علاج کے لیے اپیل کرنا پڑی۔ یہ اچھی روایت نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ہیروز کی قدر کرنا ہو گی۔ اگر ہم ناقدری کرتے رہے تو پھر ایسے لوگوں سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔ ناقدری ناشکری کے زمرے آتی ہے اور ناشکری ہے بعد چیزیں چھننا شروع ہو جاتی ہیں۔ کاش اس طرف بھی کوئی توجہ دے۔
جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو وزیراعظم عمران خان کا بیان بھی ذہن میں آیا ہے۔ وزیراعظم فرماتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پوری دنیا میں ایٹمی فلیش پوائنٹ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہی ہے، نیوکلیئر ڈیٹرنس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں جنگ نہیں ہوئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والوں کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا ہے۔ کیا ڈاکٹر اے کیو خان کے انتقال پر ایک ٹویٹ کر دینا کافی ہے، کیا وہ اس کے حقدار تھے، کیا وہ ایسی شخصیت تھے کہ ملک کی اہم شخصیات صرف اور صرف ٹویٹس کرتی رہیں، ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرتی رہیں اور سمجھیں کہ ذمہ داری ادا ہو گئی ہے۔ یہ ہم کسے دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر وہ شخص جس نے ڈاکٹر اے کیو خان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، ہر وہ شخص جس نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی منفی کوشش کی، ہر وہ شخص جو ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق غلط بات کرے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جانی چاہیے۔ سابق وزیر اعظم پاکستان میر ظفر اللہ خان جمالی کے بیانات تاریخ کا حصہ ہیں۔ گذشتہ بیس برس کے دوران رہنے والے حکمرانوں سے ضرور سوال ہونا چاہیے ملک کے خدمت گار کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا، کیا ملک کی خدمت کرنا جرم ہے، کیا ملک کے لیے خطرات مول لینا جرم ہے۔کیا ایسی مثالیں ہم اس لیے قائم کرتے ہیں کہ دوبارہ کوئی ملک کی خدمت کرنے کا نہ سوچے۔ ڈاکٹر صاحب آپ چلے گئے ہیں لیکن آپ ہمارے دلوں میں رہیں گے، آزادی کا ہر لمحہ ہم آپ کو یاد کریں گے، ہماری سانسیں آپکی مقروض ہیں، ہمارا بچہ بچہ آپکا مقروض ہے۔ آپ ہمارے ہیرو تھے، آپ ہمارے ہیرو ہیں اور آپ ہمارے ہیرو رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور جو سفر آپ نے شروع کیا تھا اسے جاری رکھنے کی توفیق عطاءفرمائے۔ آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*